مشرقی افغانستان کے پُرامن صوبوں کنڑ اور پکتیکا کی فضا ایک بار پھر بارود کے دھوئیں سے بوجھل ہو گئی ہے۔ 20 ستمبر 2026 کی شب پاکستانی فضائیہ کے طیاروں نے جس بے رحمی سے، کسی سبب اور اشتعال کے بغیر، عام شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا، اس نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اس خطے میں بھڑکنے والی جغرافیائی سیاسی رقابت کی ایک نئی آگ کی جانب مبذول کر دی ہے۔
افغان حکومت نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ جوابی اقدام کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ پاکستان کی یہ بمباری، جسے بظاہر عسکریت پسندی کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی کا نام دیا جا رہا ہے، درحقیقت روایتی سکیورٹی بہانوں سے کہیں زیادہ گہرے پہلو رکھتی ہے اور پسِ پردہ جاری عالمی جغرافیائی سیاسی کھیل، سفارتی ناکامی اور تزویراتی خفت چھپانے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کابل، اسلام آباد، نئی دہلی اور ریاض کے درمیان جاری سفارتی شطرنج میں بچھی مہروں کا گہرا اور غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے۔
اس پوری کہانی کی جڑیں ’’تزویراتی گہرائی‘‘ کے اس روایتی تصور میں پیوست ہیں، جس کے تحت پاکستان ہمیشہ افغانستان کو اپنے حلقۂ اثر میں رکھنے کا خواہش مند رہا ہے۔ نوے کی دہائی میں افغانستان کی خانہ جنگی میں مداخلت سے لے کر حالیہ برسوں تک، راولپنڈی کے زیرِ اثر اسلام آباد اسی سوچ کا حامل رہا ہے کہ کابل اپنی داخلی، اور بالخصوص خارجہ پالیسی، پاکستانی فوج کے مفادات کے تابع رکھے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی امارتِ اسلامیہ نے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنا شروع کی، پاکستانی فوج کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کی خلیج کو مزید گہرا کرنے کی ’’ناپاک کوشش‘‘ دیکھنے میں آئی۔
یہ سفارتی کشمکش اکتوبر 2025 میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچی، جب افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا ایک تاریخی سفارتی اور تجارتی دورہ کیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ افغان وزیرِ خارجہ کے اس دورۂ بھارت سے قبل اگست 2025 میں ان کا دورۂ پاکستان بھی طے تھا، لیکن فوج کے دباؤ میں اسلام آباد نے اقوامِ متحدہ کی سفری پابندیوں کو ایک تکنیکی عذر کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کی میزبانی سے معذرت کر لی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس وقت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت بھی پاکستان کے پاس تھی۔ اس کے برعکس بھارت نے پاکستان ہی کی صدارت کے دوران اقوامِ متحدہ سے باقاعدہ سفری استثنا حاصل کیا اور افغان وفد کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ افغان وزیرِ خارجہ کے دورۂ بھارت کے موقع پر پاکستان بظاہر نظر انداز ہوتا دکھائی دیا، لیکن حقیقت میں اپنی سفارتی کمزوری کے باعث خود ہی حاشیے پر جا کھڑا ہوا تھا۔
کابل کا پیغام بھی واضح تھا: اپنے تجارتی اور سفارتی راستے تلاش کرنے کے لیے وہ اسلام آباد کا محتاج نہیں۔
اسی خفت اور تزویراتی ناکامی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے پاکستانی فوج نے 9 اکتوبر 2025 کی شب افغانستان پر بمباری کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو نشانہ بنایا ہے، حالاں کہ مفتی نور ولی محسود خود پاکستان میں موجود تھے۔
9 اکتوبر 2025 کی شب پاکستانی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں شروع ہونے والی دو طرفہ لڑائی چین، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ جیسی علاقائی طاقتوں کی ثالثی سے عارضی طور پر رک گئی۔ امارتِ اسلامیہ دورانِ جنگ
بھی مسلسل اس مؤقف پر قائم رہی کہ مسائل بمباری سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف مذاکرات کی میز پر حل کیے جا سکتے ہیں۔
اسی مؤقف کے تحت امارتِ اسلامیہ نے پاکستانی فوج کے ان تین اہلکاروں کو بھی، جنہیں لڑائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، سعودی عرب کی ثالثی اور جذبۂ خیرسگالی کے اظہار کے طور پر رہا کر دیا۔ اس پوری صورتِ حال میں سب سے بڑا تضاد اس وقت نمایاں ہوا جب علاقائی طاقتوں کی ثالثی سے مذاکرات کا ایک طویل اور سنجیدہ سلسلہ شروع ہوا۔ امارتِ اسلامیہ نے واضح اور مستقل مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ مسائل اور سکیورٹی خدشات صرف پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ کابل نے دورانِ جنگ بھی سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے۔
اس کے برعکس پاکستانی فوج نے کسی لچک کے بجائے سخت اور جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ فوج نے متعدد مرتبہ علانیہ اس بات پر زور دیا کہ وہ ’’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں‘‘ سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گی اور صرف فوجی طاقت کے استعمال پر اصرار کرتی رہی۔ پاکستانی فوج کی اسی غیر دانش مندانہ ہٹ دھرمی اور ضد نے چھوٹے مسائل کو مزید پھیلا دیا اور انہیں ایک بڑی جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ یوں اسلام آباد عالمی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک کے سامنے امن کی مخالفت اور جنگ پر اصرار کرنے والے فریق کی حیثیت سے تنقید کی زد میں آیا۔
پاکستانی فوج تاریخی طور پر اپنے ملک کو درپیش سنگین مسائل، مثلاً داخلی سیاسی عدم استحکام، بے مثال مہنگائی اور عوامی احتجاج سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے سرحد پار فوجی مہم جوئی کا سہارا لیتی رہی ہے۔ جب بھی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کی میز پر آنے کے حوالے سے دباؤ یا تنقید کا سامنا ہوا، اس نے اپنی خفت چھپانے کے لیے پاکستان میں ہونے والے حملوں کا الزام افغانستان پر عائد کیا۔
چند ماہ قبل کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حملوں کو افغانستان سے جوڑنا بھی اسی تشہیری اور بیانیاتی جنگ کا حصہ تھا، تاکہ دنیا کے سامنے یہ تاثر پیش کیا جا سکے کہ پاکستانی فوج جارح نہیں، بلکہ ایک بے بس، مظلوم، بے سہارا، تنہا اور لاچار فریق ہے۔ اقتصادی اور سفارتی محاذ پر پاکستانی فوج پر ہونے والی تنقید میں اس وقت مزید شدت آئی جب پاکستان نے امریکا سے امارتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی سابقہ معاونت کے عوض دس ارب ڈالر کا مطالبہ کیا۔
اس کے ردِعمل میں پاکستانی عوام نے اپنی فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ بیس سالہ جنگ میں امریکہ کا صفِ اول کا اتحادی رہنے کے نتیجے میں ملک کو اقتصادی بدحالی اور دنیا کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کے سوا کیا دیا؟
اقتصادی فیصلوں میں یہی کمزوری اس وقت بھی سامنے آئی جب پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب سے درخواست کی کہ وہ پندرہ برس کے لیے ادھار تیل فراہم کرے اور ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کرے۔ تاہم سعودی عرب نے پاکستان کی خراب اقتصادی حالت، غیر مستحکم ماحول اور سیاسی اداروں میں فوجی مداخلت کے باعث اس مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے ستمبر 2026 میں افغانستان کا رخ کیا۔
سعودی عرب کی توانائی کی بڑی کمپنی ’’ڈیلٹا انٹرنیشنل انرجی‘‘ نے افغانستان کے ساتھ دو سو ملین ڈالر کا تاریخی معاہدہ کیا اور ہرات میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام شروع کر دیا۔ اس پیش رفت نے پاکستانی فوج کے جغرافیائی سیاسی غرور کو خاک میں ملا دیا۔
اسی دوران جغرافیائی سیاسی میدان میں ایک اور بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حرمین شریفین اور مملکتِ سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ طے پایا۔ اگرچہ کاغذ پر اس کا ہدف واضح نہیں تھا، لیکن دراصل یہ معاہدہ ایران اور حوثیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط دفاعی ڈھال کے طور پر کیا گیا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے سعودی تیل صاف کرنے کے کارخانوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ سعودی عرب نے معاہدۂ مکہ کے تحت پاکستان سے فوری فوجی معاونت اور مداخلت کا مطالبہ کیا۔ یہاں پاکستانی فوج نے اپنے ملک کو ایک نہایت خطرناک جغرافیائی سیاسی مخمصے میں پھنسا دیا۔ ایک طرف وہ اپنے ہمسایہ ایران کو ناراض کرنا اور ملک کے اندر مذہبی حساسیت کو ہوا دینا نہیں چاہتی تھی، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کے مطالبے سے صاف انکار معاہدۂ مکہ کی خلاف ورزی شمار ہوتا اور بین الاقوامی سطح پر شدید سبکی اور خفت کا باعث بنتا۔
اسی سفارتی تعطل، اقتصادی خفت اور سعودی عرب و افغانستان کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے تجارتی و سفارتی تعلقات پر پیدا ہونے والے غصے کے نتیجے میں پاکستانی فوج نے ایک بار پھر اپنے پرانے مہروں کو حرکت دی۔ 18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ کے اولڈ پولیس لائنز میں ایک ہولناک کار بم دھماکا کرایا گیا اور سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ بیانیہ پھیلا دیا کہ: ’’اس حملے میں ایک افغان شہری ملوث تھا۔‘‘
انہی جھوٹے پروپیگنڈوں کی آڑ میں 20 ستمبر کی شب کنڑ اور پکتیکا پر بمباری کی گئی۔ اس تازہ بمباری سے پاکستان نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی۔
پہلا یہ کہ سعودی عرب کے سامنے یہ عذر پیش کیا جا سکے کہ: ’’پاکستان معاہدۂ مکہ کے تحت حوثیوں کے خلاف اپنی فوج اس لیے نہیں بھیج سکتا کہ افغانستان کے ساتھ اس کی مغربی سرحد محفوظ نہیں اور وہ خود وہاں جنگ میں مصروف ہے۔‘‘
دوسرا یہ کہ ’’افغانستان پر بمباری کے ذریعے اس بات کا غصہ ٹھنڈا کیا جائے کہ سعودی عرب نے اسلام آباد کو نظر انداز کرکے کابل میں سرمایہ کاری کیوں کی؟‘‘
یوں یہ تازہ جارحیت درحقیقت پاکستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کی داخلی ناکامیوں، اقتصادی کشکول کی خفت اور عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تنہائی کو چھپانے کی ایک تازہ اور ناکام کوشش ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ فی الحال اس کی قیمت ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب کے بے گناہ عوام ادا کر رہے ہیں؛ لیکن مستقبل میں اس کے سنگین اور حقیقی نتائج کا ناقابلِ برداشت بوجھ بالآخر اسی پاکستان کے کندھوں پر پڑے گا، جو اپنے نااہل اور غیر دانش مند فوجی رجیم کے زیرِ اثر ہے۔




















































