اللہ تعالیٰ جلّ جلالہٗ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ایک، جو وہ کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، امن و اطمینان کی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ قریش میں اس عظیم نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے مشرکین کو متوجہ فرماتا ہے کہ اگر تم دیگر الٰہی نعمتوں کے باعث ایمان نہیں لاتے تو کم از کم اس امن و سلامتی کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کر رکھی ہے؛ وہ امن جس کی بدولت تمہارے تجارتی قافلے سردی اور گرمی کے موسموں میں پورے اطمینان اور تحفظ کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ پس اسی عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
یقیناً آج اسلامی نظام کے سایۂ عاطفت میں امن، سکون اور پُرسکون زندگی کی نعمت افغان قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین اور بیش بہا نعمتوں میں شمار ہوتی ہے۔
افغانستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ وہ واحد نظام جو امن، صلح اور سکون فراہم کرتا ہے اور ظلم، ناانصافی، چوری، فحاشی اور دیگر معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کرتا ہے، یہی اسلامی اور قرآنی نظام ہے۔ اسلامی نظام مسلمان ملت اور مجاہد افغان عوام کا واحد انتخاب ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے استحکام اور بقا کے لیے اپنے مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں؛ کیونکہ اس قوم نے اسلامی نظام کے قیام کی خاطر اپنی جان و مال کی بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس نے کبھی انسانوں کے وضع کردہ فرسودہ نظاموں کو قبول نہیں کیا اور نہ آئندہ کبھی قبول کرے گی۔
عید الاضحیٰ کے مبارک ایام میں افغانستان کے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک عوام نے عید کی خوشیاں مکمل امن، اطمینان اور سکون کے ماحول میں منائیں۔ ملک کے کسی حصے میں کوئی قابلِ ذکر بد امنی کا واقعہ یا اس نوعیت کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، اور عوام کے درمیان بھائی چارے، اتحاد اور اخوت کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور نمایاں محسوس کی گئی۔
اگرچہ دشمنانِ اسلام ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اسلامی نظام کو کمزور کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے لیے ہر قسم کے مکر، سازش اور خفیہ منصوبوں سے کام لیں، اور پراکسی و مسلمان نما گروہوں کے ذریعے اسلامی حکومت اور ملک کے امن کو نقصان پہنچا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کریں؛ لیکن وہ اس حوالے سے بری طرح ناکام اور غلط فہمی کا شکار ہیں، اور کبھی بھی اپنے مذموم عزائم و منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکیں گے۔
افغان عوام کو ہر طرح سے اطمینان ہونا چاہیے کہ ان کی عزت، وقار اور آبرو محفوظ ہے، اور اسلامی نظام کے جان نثار مجاہدین اپنی پوری قوت کے ساتھ اسلامی نظام اور افغانستان کی مسلمان ملت کے دفاع کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔ وہ کبھی خوارج اور باغی عناصر کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ ملک کے امن و استحکام میں خلل ڈالیں یا اسلامی نظام کے لیے کوئی خطرہ پیدا کر سکیں۔
















































