کسی بھی معاشرے یا ملک کے امن و استحکام کا اصل امتحان آزمائش کے دنوں میں ہوتا ہے۔
عیدالاضحیٰ جیسے بابرکت ایام محض ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ سماجی اور انتظامی سطح پر ایک بہت بڑا چیلنج ہوتے ہیں۔
لاکھوں انسانوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا، عیدگاہوں اور مسجدوں میں بڑے بڑے اجتماعات، قربانی کے لیے منڈیوں کی گہما گہمی اور پھر عید کے دنوں میں تفریحی مقامات پر امڈتا ہوا ہجوم… یہ سب کچھ برقرار رکھنا کسی بھی ملک کی انتظامیہ کے لیے ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔
الحمدللہ، اِمسال امارتِ اسلامیہ افغانستان بھر میں عیدالاضحیٰ کے یہ تمام دن جس خیر و عافیت، امن و سکون اور خوش گوار ماحول میں گزرے، اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
پورے ملک سے کسی بڑے ناخوش گوار یا سکیورٹی واقعے کی اطلاع نہ آنا، ایک واضح پیغام ہے کہ افغانستان اب بدل رہا ہے۔
یہ پُرامن ماحول کوئی اتفاقیہ معجزہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ محض تقدیر کا کھیل ہے۔
اس کے پیچھے افغانستان میں قائم شرعی نظام کی مخلصانہ پالیسیاں اور امن نافذ کرنے والے اداروں کی شب و روز کی وہ محنت شامل ہے، جس نے شہریوں کو تحفظ کا احساس دیا ہے۔
جب پورا ملک عید کی خوشیوں کی تیاریوں میں مصروف تھا اور لوگ اپنے گھروں میں میٹھی نیند سو رہے تھے، تب سکیورٹی فورسز کے جوان سڑکوں، چوکوں اور دور دراز سرحدوں پر الرٹ کھڑے پہرہ دے رہے تھے۔
ان کی مسلسل چوکسی اور قربانیوں ہی کا نتیجہ تھا کہ ایک عام شہری نے بغیر کسی خوف و خطر کے اپنے مذہبی فرائض ادا کیے، اپنے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کیں اور دل کھول کر عید کی خوشیاں منائیں۔
یہ صورتِ حال اس سچائی پر مُہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ امن کبھی بھی صرف دل نشین نعروں، تقریروں یا دعووں سے قائم نہیں ہوتا… بلکہ اس کے لیے زمین پر عملی اقدامات کرنا پڑتے اور پسینہ و خون ایک کرنا پڑتا ہے۔
اس تصویر کا دوسرا رخ بھی انتہائی اَہم ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ ایسے شرپسند گروہ اور فتنہ پرور عناصر ہمیشہ گھات میں رہتے ہیں، جن کا مقصد ہی افغانستان کے امن کو برباد کرنا، عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور ان کی خوشیوں کو ماتم میں بدلنا ہے۔
عید کے یہ دن ایسے تخریب کاروں کا خاص ہدف ہو سکتے تھے، لیکن وہ اپنے تمام تر مذموم مقاصد اور سازشوں میں بری طرح ناکام رہے۔
سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائیوں اور انٹیلی جنس کی مضبوط گرفت نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
اس کامیابی سے ایک بڑی حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ جب کسی ملک کے عوام اور وہاں کی ریاست امن کے ایک نکتے پر متحد ہو جائیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی تخریب کار قوت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ عوامی تعاون اور ریاستی رِٹ کی اسی یکجہتی نے شرپسندوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔
عید کے ان دنوں میں ایک خوب صورت منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے دوستوں اور احباب کے ساتھ تفریحی مقامات کا رخ کیا، جہاں زندگی پوری معصومیت اور رونق کے ساتھ مسکرا رہی تھی۔
برسوں کی جنگ اور ناامیدی کے بعد افغان عوام کا یہ اطمینانِ قلب اور معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے لوگ اب صرف اور صرف امن اور استحکام چاہتے ہیں۔
سماجی روابط کا یہ فروغ اور باہمی ہم آہنگی ظاہر کرتی ہے کہ امن ہی وہ بنیاد ہے، جس پر کسی بھی قوم کی ترقی، خوش حالی اور یکجہتی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
آج جب عید کے یہ پرمسرت ایام امن و سلامتی کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکے ہیں تو دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ افغانستان کی اس سرزمین کو ہمیشہ امن، استحکام اور خوش حالی کی نعمتوں سے مالا مال رکھے۔
سکیورٹی فورسز اور ملک و ملت کی مخلصانہ خدمت کرنے والے تمام افراد کی حفاظت فرمائے اور اس خطے کو ہر قسم کے فتنے، فساد اور شرپسندوں کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔



















































