کسی بھی سنجیدہ اور قانون پسند معاشرے میں ’ریاست‘ اور ’ادارے‘ کا فرق بالکل واضح ہوتا ہے۔
ریاست ایک مستقل اور ہمہ گیر وجود کا نام ہے، اسلام کی نظر میں کی اعلی اور حقیقی ملکیت و حاکمیت اللہ تعالی کے پاس ہوتی ہے… جب کہ انتظامی طور پر حکمرانِ وقت، عدلیہ اور فوج و قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ریاست کے نظم و نسق کو چلانے والے خادم ہوتے ہیں۔
تاہم پاکستان کی پون صدی پر محیط تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے پاکستان میں بتدریج ریاست اور ایک مقتدر ادارے کا فرق مٹا دیا گیا ہے۔
ایک سوچے سمجھے بیانیے کے تحت عسکری ادارے کو ہی ‘ریاست’ کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا اور اس فریب اور سازش کو برقرار رکھنے کے لیے مذہب اور قوم پرستی کا ایک ایسا کاک ٹیل تیار کیا گیا… جس نے پاکستان کو فکری، سیاسی اور معاشی طور پر ایک گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
پاکستان میں مذکورہ خرابی کی بنیاد اُس وقت پڑی، جب عسکری مقتدرہ نے ‘اسلام اور حب الوطنی’ کے نظریات کو اپنے وجود کے گرد لپیٹ کر ایک حصار قائم کر لیا۔
اس سکیورٹی ماڈل کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس میں عسکری پالیسیوں، بجٹ یا سیاسی مداخلت پر کسی بھی قسم کی آئینی و قانونی تنقید کو ‘ادارے پر تنقید’ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے براہِ راست ‘ملک دشمنی’، ‘نظریۂ پاکستان کی نفی’ یا ‘غداری’ کے مترادف قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس کی کلاسیکی مثال ماضی میں فاطمہ جناح سے لے کر حالیہ دور کے مقبول سیاسی رہنماؤں، جرات مند صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
جب بھی کسی عوامی آواز نے جی ایچ کیو کی ترجیحات یا غیر آئینی سیاسی انجینئرنگ پر سوال اٹھایا تو فوج کی گرفت میں بندھی ہوئی ریاست کی پوری مشینری اسے کچلنے کے لیے متحرک ہو گئی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ادارے کے احتساب کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور یہی وہ سنگین کمزوری ہے، جہاں کوئی بھی ادارہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر مسلسل فاش غلطیاں کرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کوئی محاسبہ کرنے والا نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی کو محاسبے کو شوق ہو تو ہماری بندوق اور توپ کے دو پاٹ اُسے کچلنے کے لیے کافی ہیں۔
پاکستان میں فوج کی طرف سے خود ساختہ سکیورٹی اسٹیٹ کے اس فریب نے حب الوطنی کے مروجہ بین الاقوامی پیمانے کو انتہائی محدود اور مسخ کر دیا ہے۔
اس بیانیے کے تحت حب الوطنی کو صرف بندوق، وردی اور سرحد کے پہرے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کا نقصان یہ ہوا ہے کہ تپتی دھوپ میں محنت کر کے ریاست کو ٹیکس دینے والے ایک عام شہری، کلاس روم میں بیٹھ کر قوم کی فکری بنیادیں استوار کرنے والے ایک استاذ، نامساعد حالات میں جانیں بچانے والے ایک ڈاکٹر یا عوامی حقوق کی جنگ لڑنے والے ایک سیاست دان کی حب الوطنی کو عسکری اشرافیہ کے سامنے ہمیشہ ثانوی اور مشکوک سمجھا گیا ہے۔
پاکستان کے عوام کو اس دباؤ میں رکھنے کے لیے ‘مشرقی اور مغربی سرحد پر خود ساختہ نام نہاد دشمن’ کے دائمی اور مصنوعی خوف کو بطور ایندھن استعمال کیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے اس نفسیاتی جنگ (Siege Mentality) کا مقصد یہ تھا کہ عوام کبھی بھی سستی بجلی، معیاری تعلیم، جدید صحت اور جان و مال کے تحفظ جیسے اپنے بنیادی انسانی حقوق مانگنے کی جرات اور سوچ پیدا نہ کر سکیں، بلکہ وہ ہمیشہ اس خوف کے تحت سکیورٹی بجٹ کی منظوری پر آمادہ رہیں کہ ‘اگر یہ فوج نہ رہی تو خدانخواستہ ملک مٹ جائے گا۔’
اس خوف نے عوام کو صرف ‘امن و امان’ کے نام پر بقا کی سطح پر جینے پر مجبور کر دیا اور حد تو یہ ہے کہ عوام کو امن و امان بھی دستیاب نہیں ہے۔
پاکستانی فوج کی سب سے سنگین اور فاش غلطی یہ تھی کہ اس نے ملک کی ‘جیو-اسٹرٹیجک پوزیشن’ (جغرافیائی اہمیت) کو تو ایک بیچنے والا اثاثہ سمجھا، لیکن اپنے ہی چوبیس کروڑ عوام کو ایک بوجھ بنا دیا۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے سکیورٹی اسٹیٹ کے بجائے ‘ویلفیئر اسٹیٹ’ (فلاحی ریاست) اور انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کی، وہ آج دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔
اس کی سب سے واضح مثال جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک یا خود چین کی ہے، جس نے پہلے اپنی معیشت کو مضبوط کیا اور پھر دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
اس کے برعکس پاکستانی مقتدرہ نے فوجی بیانیے کے ماتحت معیشت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے دفاعی اخراجات، فوجی اشرافیہ کی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر کاروباری سلطنتوں جیسے کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی۔
آج پاکستان جس بدترین معاشی دیوالیہ پن، آسمان کو چھوتی مہنگائی اور آئی ایم ایف کے قرضوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے، وہ پاکستانی فوج کی اسی فرسودہ سوچ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
جب تک ترجیح صرف بندوق رہے گی، قلم اور کارخانہ پیچھے چھوٹتے رہیں گے… تب تک یہی بدترین حالات اس فوجی ماڈل کی سب سے بڑی اسٹرٹیجک ناکامی رہیں گے۔
تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ اب راولپنڈی کے لیے بھی حب الوطنی اور غداری کے پرانے سرٹیفکیٹ بیچنا اور اس فریب کو برقرار رکھنا دن بہ دن ناممکن ہوتا جا رہا ہے، جس کے پیچھے دو بنیادی عوامل کارفرما ہیں:
پہلا عامل معاشی حقائق کا ہے۔ جب بھوک، بے روزگاری اور مہنگائی حد سے تجاوز کر جائے تو سرحد پار کے نام نہاد دشمن کا خوف اپنی کشش کھو دیتا ہے۔ ایک عام پاکستانی اب یہ جان چکا ہے کہ اُس کی بقا کو خطرہ کسی بیرونی حملے سے زیادہ ملک کے اندر موجود قانون کی پامالی، آئین شکنی اور معاشی بدانتظامی سے ہے۔
دوسرا عامل ٹیکنالوجی اور انفارمیشن کے پھیلاؤ کا ہے۔ وہ دور لد گیا، جب اطلاعات پر ریاستی سنسرشپ کا سخت پہرہ ہوتا تھا اور صرف ایک سرکاری ٹی وی یا چند منظورِ نظر اخبارات کے ذریعے بیانیے کنٹرول کیے جاتے تھے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور نے معلومات کی اجارہ داری کو پاش پاش کر دیا ہے۔ آج کا نوجوان راولپنڈی کی پالیسیوں پر وہ تیکھے اور منطقی سوالات اٹھا رہا ہے، جو ماضی میں غداری کے زمرے میں آتے تھے۔
وہ اب جانتا ہے کہ بجٹ کہاں جا رہا ہے اور عوامی بالادستی کیوں ضروری ہے…؟
پاکستان اِس وقت ایک سنگین ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ مقتدرہ اور فوج کی یہ ضد کہ طاقت کا سرچشمہ جی ایچ کیو ہی رہے گا، ملک کو مزید انارکی اور تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔
اس دلدل سے نکلنے کا ایک ہی منطقی اور پرامن راستہ ہے۔ یہ کہ سکیورٹی اسٹیٹ کے اس بوسیدہ فریم ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ایک حقیقی ‘ویلفیئر اسٹیٹ’ (فلاحی ریاست) کی بنیاد رکھی جائے۔
ایک ایسی ریاست، جہاں فوج اپنے قانونی دائرہ کار تک محدود ہو، جہاں عدلیہ آزاد ہو اور جہاں طاقت کا واحد، حقیقی اور حتمی سرچشمہ آئین کے مطابق قرآن و سنت ہو۔
پاکستان کی بقا اب بندوق کے سائے میں نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی اور عوام کی معاشی خوش حالی میں پنہاں ہے۔



































