مکہ مکرمہ کے تاریخی قصر الصفا کی خاموش اور پروقار فضا جب سفارتی ہلچل میں بدلی تو تاریخ کے صفحات پر ایک نیا باب رقم ہو رہا تھا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستان کے مبینہ وزیراعظم شہباز شریف کے ایک ہی میز پر جمع ہونے کی خبر ‘نیوز ایجنسیوں’ کے لیے تو ایک سنسنی خیز سرخی تھی، لیکن مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیا کی گہری سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ ایک خاموش، مگر گہرے سیاسی زلزلے کا پیش خیمہ تھا۔
‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ پر تینوں رہنماؤں کے دستخط ہوتے ہی دنیا کے سفارتی ایوانوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں، کیوں کہ اس معاہدے کی روح میں نيٹو کے مشہورِ زمانہ آرٹیکل 5 کا عکس صاف دکھائی دیتا ہے کہ:
‘ایک پر حملہ، سب پر حملہ…!’
اس دل چسپ منظرنامے کو سمجھنے کے لیے کابل کے روایتی چائے خانوں میں جاری گفتگو کا اسلوب مستعار لینا پڑے گا، جہاں سیاست کو کتابی اصطلاحوں میں نہیں، بلکہ زندگی کی کڑوی حقیقتوں اور دیسی مثالوں سے تولا جاتا ہے۔
بظاہر تو یہ معاہدہ ایک عظیم اسلامی سہ فریقی اتحاد لگتا ہے، جہاں ترکیہ کی جدید ڈرون، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور پاکستان کی مبینہ برسرِ پیکار اور تجربہ کار فوج کے مسالے کو سعودی عرب کا بے پناہ تیل سے گوندھ کر ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بن رہے ہیں۔
اسی طرح سفارت کار مسکرا کر بتا رہے ہیں کہ ‘یہ معاہدہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے اور اس کا مقصد مغربی طاقتوں پر انحصار کم کرنا ہے۔’
لیکن کابل کی ٹھنڈی ہواؤں میں جب اس سیاسی کھیل کا 45 سالہ گزری ہوئی جنگوں کے دھویں اور شور شرابے کی تہہ میں جھانک کر گہرا تجزیہ کیا جائے تو اس جگمگاتے معاہدے کے پیچھے چھپی ایک بڑی تاریک حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے…
سفارتی زبان میں جسے ‘تزویراتی شراکت داری’ کہا جا رہا ہے، وہ دراصل پاکستان کی تنہا بازدار قوت (Single Nation Deterrence) کے ایک ‘خاموش اعترافِ ناکامی کی داستان’ ہے۔
اس بات کو یوں سمجھیں جیسے کسی گاؤں کا ایک بڑا ‘تیل اور ریال بردار چوہدری’ اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے گاؤں کے بظاہر سب سے تگڑے، تجربہ کار اور ‘پاک باز’ پہلوان کو مالش کے لیے تیل اور کھانے کے لیے ریال کا سہارا دے کر اپنا چوکی دار بنا لے۔
لیکن جب وقت آئے اور چوہدری کو ساتھ والے گاؤں سے کوئی خطرہ محسوس ہو اور دوسری طرف چوہدری کو بھی اندازہ ہو جائے کہ پہلوان صاحب تو خود اپنے اندر پوشیدہ امراض، بھیانک قرضوں اور گھر کے جھگڑوں میں اتنے اُلجھے ہوئے ہیں کہ ‘وہ تنہا ساتھ والے گاؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار نہیں سکتے’ تو نتیجے کے طور پر چوہدری کو مجبور ہو کر شہر کے ایک جدید ہتھیاروں سے لیس تیسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ ملانا پڑے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی رشتے کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، لیکن آخر ایسا کیا ہوا کہ ریاض کو انقرہ کے دروازے پر دستک دینا پڑی؟
اس کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ پاکستان کا شدید معاشی بحران ہے۔ عسکری طاقت کتنی ہی زبردست کیوں نہ ہو، اگر اس کی معیشت کھوکھلی ہو تو اس کی للکار میں وہ بازدار خوف باقی نہیں رہتا۔
اگر کسی شخص کے ہاتھ میں دنیا کی جدید ترین بندوق بھی ہو، لیکن وہ دانے دانے کا محتاج ہو اور اس کا بارود ختم ہونے پر خریدنے کی سکت نہ ہو تو اس کا حریف کبھی اس سے نہیں ڈرے گا۔ پاکستان کی معاشی کمزوری نے اس کی عسکری دھمکی کی کاٹ کو ختم کر دیا تھا اور خطے کی دیگر طاقتیں… بالخصوص ایران یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ اسلام آباد کسی طویل تنازع کا مالی بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
دوسری بڑی مجبوری پاکستان کا اپنا اندرونی گھر ہے۔ اس وقت پاکستانی فوج کی تمام تر توجہ اور توانائیاں سرحدی حدود کے اندر بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، ٹی ٹی پی کے حملوں اور بلوچستان کی شورش کو دبانے پر لگی ہوئی ہیں۔
جب کسی کا اپنا گھر اندر سے جل رہا ہو تو وہ ہمسائے کے گھر کو آگ سے بچانے کے لیے مکمل توجہ نہیں دے سکتا۔ داخلی خلفشار نے پاکستان کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا تھا کہ وہ سعودی عرب پر منڈلاتے ہوئے غیر روایتی یا پراکسی خطرات کے آگے ایک مکمل فولادی ڈھال بن سکے۔
تیسرا پہلو سفارتی اور جغرافیائی باریکیوں سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان اور ایران کی آپس میں لمبی سرحد لگتی ہے اور دونوں کے درمیان توانائی کے شعبے میں طویل الميعاد ضرورتیں اور مجبوریاں وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اندر ایران سے منسلک ایک بڑی مذہبی اقلیت کی موجودگی اور حساسیت اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ اسلام آباد ریاض کی خاطر تہران کے خلاف کسی کھلی جنگ کا حصہ بنے۔
پاکستان کا ایران کے ساتھ رویّہ ہمیشہ محتاط بیانات اور محدود ردِعمل تک ہی رہا۔ سعودی عرب کو جب یہ اندازہ ہو گیا کہ پاکستان تنہا اس کے لیے ایک مکمل ‘بازدار قوت’ ثابت نہیں ہو رہا تو اس نے اس خلا کو بھرنے کے لیے ترکیہ کی طرف دیکھنا شروع کیا۔
ترکیہ کی اس اتحاد میں شمولیت دراصل پاکستان کی اِنہی معاشی اور جغرافیائی مجبوریوں کا نتیجہ ہے۔
ترکیہ معاشی طور پر مستحکم ہے۔ نیٹو کا تجربہ کار رکن ہے اور اس کی ڈرون ٹیکنالوجی نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔
مکہ معاہدہ اگرچہ بظاہر ایک تاریخی کامیابی کا جشن ہے، لیکن اس کی باریک تہوں کو اُدھیڑ کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جب معیشت اور داخلی استحکام ہاتھ سے نکل جائے تو شان دار تاریخ اور زبردست فوج رکھنے کے باوجود آپ کا وجود تنہا دوسروں کو تحفظ کا احساس دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
مکہ کی چمکتی ہوئی روشنیوں کے پیچھے پاکستان کی یہی وہ تلخ سچائی ہے، جو اس معاہدے کے ذریعے پاکستانی فوج کے ناچاہتے ہوئے بھی دنیا کے سامنے آ گئی ہے…!




















































