ایسے وقت میں جب افغانستان کے مظلوم عوام کئی دہائیوں کی جنگوں اور بدامنی کے بعد آج اسلامی نظام کی برکت سے امن و اطمینان میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس اسلامی نظام کی قیادت میں ترقی اور عالمی تبدیلی کی جانب گامزن ہیں، پاکستانی فوجی رجیم نے ایک بار پھر افغانستان کی سرزمین اور نہتے عوام پر ظالمانہ اور غیر قانونی جارحیت کی ہے۔ یہ حملے جو ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر جھوٹے اور بار بار دہرائے جانے والے بہانوں کے تحت کیے جاتے ہیں، نہ صرف افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، بلکہ ان کی جڑیں پاکستان کے گہرے اور ناقابلِ حل داخلی بحرانوں میں بھی پیوست ہیں۔
اس ملک کی فوجی رجیم جو داخلی امور کے انتظام اور وسیع پیمانے پر پھیلی بدامنی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، عوامی رائے کو منحرف کرنے اور ایک بیرونی دشمن پیدا کرکے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقائق کا جائزہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان آج متعدد اور مفلوج کر دینے والے بحرانوں سے دوچار ہے۔ اس ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، مختلف صوبوں میں بدامنی اور جنگ تیزی سے پھیل چکی ہے اور اپنے عوام کے درمیان فوجی اداروں کی سیاسی مشروعیت پہلے سے کہیں نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان سے جاری ہونے والی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ اعلیٰ سطح کے علاقائی عہدیدار بھی بدامنی کے خطرے سے محفوظ نہیں ہیں، مثال کے طور پر، حالیہ مہینوں میں پشاور میں ایک صوبائی وزیر کو اغوا کر لیا گیا اور ایک دوسرے عہدیدار نے اپنی سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ یہ علامات ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کا سکیورٹی اور سیاسی ڈھانچہ اندرونی طور پر گہرے بحران، انتشار اور بد نظمی کا شکار ہے۔ فوجی رجیم ان تلخ اور نامطلوب حقائق کو چھپانے کے لیے اپنی داخلی مشکلات حل کرنے کے بجائے پڑوسی ملک کے خلاف جارحیت کی آگ بھڑکا رہی ہے، تاکہ اپنے معترض اور ناراض عوام کی توجہ دوسری جانب مبذول کر سکے۔
بیرونی دشمن بنانے کی یہ پرانی، فرسودہ اور گھسی پٹی حکمتِ عملی وہی راستہ ہے جسے کمزور، ناکام اور نااہل فوجی رجیم تاریخ بھر میں استعمال کرتی رہی ہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری اور افغان شہریوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کی موجودہ رجیم اپنے عوام کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کے اقتصادی اور سکیورٹی مسائل افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے ہیں، نہ کہ فوجی رجیم کی غلط حکمرانی اور ساختی بدعنوانی کے باعث۔ لیکن یہ بہانے اس رجیم کی اصل شکل کو چھپا نہیں سکتے۔
افغانستان آج امارت اسلامیہ کی قیادت میں ان تکفیری اور شرپسند گروہوں کے خلاف حقیقی جدوجہد کر رہا ہے جو اس سرزمین پر مسلط کردہ بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک، بالخصوص پاکستان، کی سکیورٹی کے خلاف افغانستان کی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ لہٰذا پاکستان کے دعوے نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ دباؤ ڈالنے اور اپنے داخلی بحرانوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پہلے سے تیار کیا گیا ایک منظرنامہ بھی ہیں۔
حالیہ حملے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگی طیاروں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے، جنگی جرم اور افغانستان کے بے گناہ عوام کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی واضح مثال ہیں۔ یہ حملے نہ صرف پاکستان کے داخلی بحران کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں کوئی مدد نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس، بداعتمادی اور کشیدگی کی سطح کو مزید بڑھاتے ہیں اور مزید عدم استحکام کے لیے ماحول پیدا کرتے ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم کو سمجھنا چاہیے کہ یہ مہم جوئی پر مبنی اور مسلط کردہ پالیسیاں بالآخر نہ صرف اس ملک کی سکیورٹی کو یقینی نہیں بنائیں گی بلکہ خطے اور دنیا میں اسے مزید تنہائی کی طرف بھی لے جائیں گی۔
آخر میں واضح اور فیصلہ کن الفاظ میں کہنا چاہیے کہ پاکستانی فوجی رجیم کی افغانستان کی سرزمین پر ظالمانہ جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ افغان عوام، جیسا کہ انہوں نے پوری تاریخ میں ثابت کیا ہے، ایک بہادر اور دلیر عوام ہیں اور وہ کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ ان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی جائے۔ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ جائز دفاع اور اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ پاکستانی رجیم کو الزام تراشی اور جارحیت کے بجائے اپنے داخلی بحرانوں کے حل کے بارے میں سوچنا چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جارحیت کی لپٹیں آخرکار اسی جارح کی دامن تک پہنچتی ہیں۔




















































