وکی لیکس کی دستاویزات، جن کی مجموعی تعداد چار لاکھ رپورٹس پر مشتمل ہے، اگر ان میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق حصہ کھولا جائے تو ان سے یہ باتیں واضح ہوتی ہیں:
• امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن نہیں چاہتا۔
• مشرقِ وسطیٰ میں ایک مضبوط ریاست کا قیام امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے۔
• مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا مسلسل جاری رہنا ضروری ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق، اس وقت القاعدہ، افغان طالبان، ایران اور روس کو امریکہ کے خطرناک دشمن قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک منصوبے میں یہ رپورٹ بھی دی گئی تھی کہ عرب دنیا میں ایک انتہا پسند سلفی امارت دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، نیز ایران اور بشار الاسد کا راستہ بھی روک سکتی ہے۔
اسی طرح ان رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسند گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے داعش کی تشکیل ایک بہترین منصوبہ تھی۔ مزید یہ کہ ان رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے وجود میں آنے سے دو سال پہلے ہی اس کی پیش گوئی کی جا چکی تھی۔ آئیے ایک اور بات پر قدرے تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں، وہ یہ کہ داعش کس طرح سی آئی اے اور موساد کے جنگی حربے استعمال کرتی تھی اور ان کی تقلید کرتی تھی۔
1- پروپیگنڈا جنگ
یہ سی آئی اے اور موساد کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک اہم حربہ ہے، جو خاص طور پر انہی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کا استعمال، ویڈیوز بنانا، خوف پھیلانا اور خود کو خطرناک ظاہر کرنا۔ داعش یہ سب کچھ بڑے مؤثر انداز میں کرتی تھی، جسے سی آئی اے اور موساد کی PsyOps (نفسیاتی جنگ) کی نقل قرار دیا جاتا ہے۔
2- انٹیلی جنس سیلز
یہ بھی موساد اور سی آئی اے کا ایک خاص حربہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک مقصد کے لیے چھوٹے، خودمختار گروہ تشکیل دیے جائیں، لیکن اس طرح کہ وہ ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں۔ داعش بھی اس حربے کا بہت زیادہ استعمال کرتی تھی، اور یہ سی آئی اے اور موساد کے اہم نظاموں میں سے ایک ہے۔
3- ہدفی قتل
یہ خاص حربہ موساد سے منسوب کیا جاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مخصوص مقامات پر ہدفی قتل، حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے عوامی مقامات پر بم دھماکے کرنا، اور خود کو اہم اور خطرناک ظاہر کرنے کے لیے خفیہ خصوصی کارروائیاں انجام دینا۔
4- غیر رسمی حکمرانی کا نیٹ ورک
داعش کوئی پرانی تنظیم نہیں تھی۔ اس نے صرف دو ماہ کے اندر مختلف علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ٹیکس کا نظام قائم کرنا، عدالتیں، پولیس اور انٹیلی جنس کا ڈھانچہ اتنی تیزی سے کھڑا کر دینا، کسی انٹیلی جنس کھیل کے بغیر ناممکن ہے۔
مندرجہ بالا حربوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ داعش سی آئی اے اور موساد کا ایک مشترکہ اور خصوصی منصوبہ تھی۔
5- سب سے اہم بات، جس نے داعش اور موساد کے تعلقات کی رسوائی کا سبب بنی، یہ تھی کہ جب داعش نے عراق اور شام میں سرحد سے ملحقہ علاقوں پر قبضہ کیا تو اس نے عراق اور شام کی سرحد کو ختم کر دیا اور اعلان کیا کہ وہ سرحدوں پر یقین نہیں رکھتی۔ پھر فوراً عراق میں داخل ہو گئی اور وہاں بھی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کی ایک نمایاں مثال شام کا شہر البوکمال تھا، جس پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے سرحد عبور کر کے عراق کے شہر القائم پر قبضہ کر لیا۔ یہ دونوں شہر عراق اور شام کی سرحد پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے واقع ہیں۔
دیگر مثالوں میں میادین، دیر الزور کے دیہی علاقے، راوہ، عنہ اور الولید سرحدی بندرگاہ شامل ہیں۔
یعنی داعش جس طرف بھی جنگ کو آگے بڑھاتی تھی، اس کی نظر میں سرحد کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ لیکن جب اسرائیل کی سرحد پر داعش کے جیش خالد نامی گروہ نے یرموک بیسن، صوبہ درعا کے مغربی علاقے اور گولان کی پہاڑیوں کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور اسرائیلی سرحد پر آمنے سامنے آ گیا، تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ شاید مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کا وقت آ گیا ہے، اب داعش اسرائیل کی سرحد عبور کرے گی اور اس کے خلاف جنگ شروع کرے گی۔
لیکن داعش نے اسرائیل کی طرف ہتھیاروں کا رخ کرنے کے بجائے، پیچھے مڑ کر دوبارہ جبهۃ النصرہ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے تک یہ سرحدی علاقے داعش کے کنٹرول میں رہے، مگر اس نے ایک دن بھی اسرائیل سے جنگ نہیں کی۔ اس نے اسرائیل کی طرف ایک گولی تک نہیں چلائی، نہ ہی اسرائیلی سرحد پر ایک بھی کار بم حملہ کیا، اور نہ ہی ایک بھی راکٹ اسرائیل کی طرف داغا، حالانکہ ان میں سے اکثر علاقے شام کے تھے جن پر اسرائیل نے زبردستی قبضہ کر رکھا تھا۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے بے شمار سوالات اور مطالبات، جن میں وہ پوچھتے تھے کہ: داعش اسرائیل سے جنگ کیوں نہیں کرتی؟، ہمیشہ نظر انداز کیے جاتے رہے، اور اس کا جواب ہمیشہ خاموشی ہوتا تھا۔ وہی بغدادی جو افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف برسرِ پیکار مجاہدین کو عراق سے دھمکیاں دیتا تھا، لیکن ساتھ ہی موجود اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں خاموش رہتا تھا۔ اسی طرح داعش اپنی دھمکیوں اور پراپیگنڈہ جنگ میں بھی اسرائیل کا ذکر کرنے سے گریز کرتی تھی۔
اور اسرائیل، جو دنیا کے کسی بھی کونے میں اسلام پسندی کی معمولی سی آواز سن کر اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے شور مچا دیتا ہے، لیکن جب داعش اس کی ہم سرحد بنی تو اسرائیل نے نہ کوئی شکایت کی اور نہ ہی کسی تشویش کا اظہار کیا۔ اسی علاقے میں متعدد بار یہ دعوے بھی کیے گئے کہ داعش کے زخمیوں کا علاج اسرائیلی ہسپتالوں میں کیا جاتا ہے اور موساد داعش کے جنگجوؤں کو تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔




















































