پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ کی کمزوریاں عوام پر عیاں ہونے لگتی ہیں اور سول نظام پر اپنا قبضہ مزید مضبوط کرنا مقصود ہوتا ہے تو وہ ایک مصنوعی بحران کو جنم دیتی ہے۔ اس بحران سے اس کا اصل مقصد وہی ہوتا ہے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھا ہوتا ہے، اور اس مقصد کے لیے اسے جس حد تک بھی جانا پڑے وہ چلی جاتی ہے۔
حال ہی میں نئے صوبوں کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ حالانکہ شاید ہی کوئی صاحبِ دانش ایسا ہو جو ملکی مسائل کا حل ملک کو مزید چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے میں دیکھتا ہو۔ لیکن یہ ہمارا عسکری مافیا ہے جسے ملکی مسائل کا حل نئے صوبوں میں نظر آتا ہے، اور درحقیقت وہ نئے صوبوں کے بہانے اپنے نئے منصوبوں کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔
ساتھ ہی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ اور صدر زرداری کے فوری دستخط ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہی ہے ۔اگر بنظرِ غور دیکھا جائے تو زمینی حالات اتنے گھمبیر نہیں کہ ہنگامی حالت نافذ کر دی جائے۔ مسئلہ اپنی جگہ موجود سہی لیکن وہ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی جرگوں کے ذریعے حل ہونے والا ہے۔ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے ذریعے پوری صوبائی حکومت کو مفلوج کرنے سے یہی مقصد ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی مداخلت کا جواز پیدا کیا جائے۔
بالفاظ دیگر سول اور سیاسی راستے موجود ہونے کے باوجود ہنگامی حالت مسلط کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ حل کرنا ان کا مقصد نہیں، بلکہ عوام کو یہ دکھانا ہے کہ "سول حکومتیں نااہل ہو چکی ہیں لہٰذا اب تمام صورتحال کا حل صرف فوج ہی ہے۔
اس کھیل میں صدر مملکت اور دیگر سیاسی قیادت کا کردار انتہائی افسوسناک ہے، جو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں پر اندھا دھند مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کی ڈوریں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں اور وہ کن کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ نیز یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جمہوریت کے یہ دعویدار کتنے کامیاب ہیں اور آیا ان کی جمہوریت باقی بھی ہے یا نہیں۔
چنانچہ ایک چھوٹے سے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور پھر اسی کو جواز بنا کر ایمرجنسی لگانا نہ صرف صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ وفاق کو اندر سے کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔ اس کا حتمی نتیجہ سیکیورٹی اداروں کو بے لگام اختیارات ملنا ہے تاکہ وہ اپنے خواب پورے کر سکیں اور ملک و عوام کی مزید لوٹ مار کر سکیں۔ کیونکہ یہ نہ عوام کو اپنا سمجھتے ہیں اور نہ ملک کو۔ یہی محافظ کا لبادہ اوڑھے ہوئے عناصر اس ملک کے حقیقی دشمن ہیں جنہوں نے نہ عوام کی جان بخشی اور نہ ان کے مال کی نگہبانی کی، بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
لہٰذا ملک کا حقیقی حل مصنوعی بحرانوں میں نہیں، بلکہ تمام صوبوں میں اعتدال اور انصاف کی فضا قائم کرنے میں ہے۔


















































