تیسرا شبہه: معاہدۂ دوحہ اور کفار کی اعانت کا الزام
کیا امارتِ اسلامیہ کا امریکہ کے ساتھ معاہدے میں یہ عہد کرنا کہ وہ القاعدہ اور دیگر جہادی جماعتوں کو افغانستان کی سرزمین سے دوسرے ممالک کے خلاف مسلح کارروائیوں سے روکے گی، مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی مدد، مسلمانوں سے براءت اور کفار سے دوستی کے مترادف ہے؟ نیز، کیا داعش کے خلاف امارت کی جنگ میں امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کا الزام درست ہے، اور کیا اس بنیاد پر اسے کفر کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے؟
داعشی خوارج ان الزامات کو بنیاد بنا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ امارتِ اسلامیہ ایسے امور کی مرتکب ہوئی ہے جو اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ اس شبہے کو سمجھنے کے لیے پہلے اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے جس میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کی نوبت آئی۔
نیویارک اور واشنگٹن میں القاعدہ کے حملوں کے بعد افغانستان ایک بڑی آزمائش سے دوچار ہوا۔ امارتِ اسلامیہ کی حکومت ختم کر دی گئی، اس کے قائدین شہید یا گرفتار ہوئے، نوجوانوں اور خواتین کو قید و تشدد کا سامنا کرنا پڑا، عزتیں پامال ہوئیں اور بوڑھے اور بچے بھی قتل و خون ریزی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ملک پر قبضہ ہوا، اس کے وسائل لوٹے گئے اور مہاجرین منتشر ہو گئے۔ قابض قوتوں، ان کی حمایت یافتہ افغان حکومت اور بعض ہمسایہ ممالک نے ان مہاجرین میں سے متعدد افراد کو ان کے اپنے ملکوں کے جابر حکمرانوں کے حوالے کر دیا۔ یوں امریکہ کی قیادت میں نیٹو کے متعدد رکن ممالک تقریباً بیس برس تک امارتِ اسلامیہ افغانستان کے خلاف جنگ لڑتے رہے۔
ان تمام مصائب کے باوجود امارت نے مجاہدین سے براءت کا اعلان نہیں کیا، نہ کسی عرب یا غیر عرب مجاہد کو غیر مسلم قوتوں کے حوالے کیا اور نہ کسی سودے کے تحت ان کے سپرد کیا، جیسا امریکہ کے تابع متعدد اسلامی ممالک نے ایسے اقدامات کیے۔
القاعدہ نے نیویارک اور واشنگٹن کے حملوں کا فیصلہ اپنے اجتہاد کی بنیاد پر ملا عمر رحمہ اللہ کی رضامندی کے بغیر کیا تھا؛ لیکن ان کے نتیجے میں افغانستان پر ہونے والے حملے اور اس کے بعد دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ، تباہی، یلغار اور لوٹ مار کا بوجھ امارت اور افغانستان کے عوام کو اٹھانا پڑا۔
طویل جنگ، تباہی اور مسلسل بدامنی کے بعد افغانستان کے عوام کو امن و سکون، تعمیرِ نو اور معمول کی زندگی کی بحالی کی ضرورت تھی۔ اسی پس منظر میں غیر ملکی افواج کے انخلا، قیدیوں کی رہائی، جنگ کے خاتمے اور نظمِ حکومت کی بحالی کے لیے مذاکرات اور معاہدے کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اب، جب غیر ملکی افواج کا انخلا اور اقتدار کی تبدیلی واقع ہو چکی ہے، ان معاملات کا ذکر مستقبل کے مقاصد کے طور پر نہیں، بلکہ مذاکرات کے تاریخی پس منظر کے طور پر کیا جانا چاہیے۔
اس بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا غیر مسلم فریق کے ساتھ مذاکرات، صلح یا جنگ بندی کا معاہدہ کرنا بذاتِ خود ممنوع ہے؟ قرآن و سنت سے واضح ہوتا ہے کہ صلح کا راستہ اصولاً موجود ہے، البتہ کسی مخصوص معاہدے کا حکم اس کی شرائط، حالات اور نتائج کو دیکھ کر متعین کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾
ترجمہ: اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں اور اللہ پر بھروسا کریں؛ بےشک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ )سورۃ الأنفال: ۶۱(
سیرتِ نبوی ﷺ میں صلحِ حدیبیہ اس کی نمایاں مثال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ فرمایا اور بعض ایسی شرائط بھی قبول فرمائیں جو بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت تھیں۔ انہی میں قریش کی جانب سے آنے والے مسلمان مردوں کو واپس کرنے کی شرط بھی شامل تھی(یہ شرط آپ ﷺ کے ساتھ خاص تھی، جمہور احناف کے نزدیک منسوخ ہے۔)
حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو قریش نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے انہیں ان کے بھیجے ہوئے افراد کے ساتھ واپس فرما دیا۔ یہ واقعہ صحیح البخاری میں تفصیل سے مذکور ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الشروط، حدیث: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲)
اس واقعے سے صلح اور عہد کی پابندی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ تاہم اس کی کسی خاص شرط کو موجودہ حالات پر منطبق کرنا ایک الگ فقہی بحث ہے۔
عہد کی پابندی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا﴾(سورۃ النحل: ۹۱)
ترجمہ: جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑو۔
اسی طرح کسی مظلوم مسلمان کو پناہ دینا، کسی شخص کو دوسرے ملک کے حوالے کرنا، اور اپنی سرزمین سے بیرونِ ملک مسلح کارروائیوں کی اجازت دینا الگ الگ معاملات ہیں۔ ان میں سے ایک کے بارے میں اختیار کی گئی پالیسی سے دوسرے کا حکم خودبخود ثابت نہیں ہوتا۔ متعلقہ معاہدے میں ان امور کے بارے میں کیا ذمہ داریاں قبول کی گئی ہیں، اس کا فیصلہ اس کے اصل متن کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
لہٰذا محض مذاکرات، صلح یا جنگ بندی کو مسلمانوں سے براءت یا غیر مسلموں کی ایسی اعانت قرار نہیں دیا جا سکتا جو موجبِ کفر ہو۔ اسی طرح صرف مصلحت کا نام لے کر کسی معاہدے کی ہر شرط کو درست بھی نہیں کہا جا سکتا۔ علمی طریقہ یہی ہے کہ ہر شرط کو الگ سمجھا جائے، اس کے متعلق معتبر شواہد سامنے رکھے جائیں اور پھر شرعی اصولوں کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے۔
یہ اعتراض بھی درست نہیں کہ اس معاہدے کے ذریعے ہمیشہ کے لیے جہاد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کسی معاہدے سے ایسا نتیجہ اخذ کرنے کے لیے اس کی اصل شرائط، مدت اور دائرۂ اطلاق کو دیکھنا ضروری ہے۔ محض صلح یا جنگ بندی کا معاہدہ کسی شرعی حکم کی دائمی تنسیخ کے مترادف نہیں ہوتا۔ البتہ معاہدے سے الگ ہونے کی گنجائش کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی فریق جب چاہے عہد توڑ دے؛ اس کے لیے معاہدے کی شرائط اور متعلقہ شرعی احکام کی پابندی ضروری ہے۔
حالات کا درست ادراک، نتائج پر نظر اور جنگ و صلح کے مواقع میں امتیاز، نظمِ حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہیں۔ پوری دنیا کو اپنا دشمن بنا لینا اور ہر وقت سب کے ساتھ جنگ میں الجھے رہنا نبی کریم ﷺ کا اسوہ نہیں۔ مسلسل محاذ آرائی سے نہ ریاست کا استحکام یقینی بنتا ہے اور نہ عوام کے امن و تحفظ کی ضمانت ملتی ہے۔ ایسی قیادت جو حالات، استطاعت اور نتائج کو نظرانداز کرکے ہر اختلاف کو جنگ میں بدل دے، اپنی منزل تک پہنچنے کے بجائے اپنے لوگوں کو بھی تباہی سے دوچار کر سکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے غیر مسلم قبائل اور گروہوں کے ساتھ حالات کے مطابق مختلف نوعیت کے معاہدات فرمائے؛ کسی کے ساتھ صلح اور جنگ بندی کی، کسی سے عہد و پیمان باندھا اور کسی کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ فرمایا۔ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد آپ ﷺ نے یہودی گروہوں کے ساتھ بھی معاہدات کے ذریعے باہمی حقوق اور ذمہ داریاں متعین فرمائیں۔ ان معاملات میں آپ ﷺ کا طرزِ عمل عہد کی پاس داری اور ہر گروہ کے ساتھ اس کے اپنے رویے کے مطابق معاملہ کرنے پر قائم تھا۔ چنانچہ جس گروہ نے عہد شکنی کی، اس کی خلاف ورزی پر اسی کے خلاف کارروائی ہوئی؛ کسی ایک گروہ کی عہد شکنی کا ذمہ دار تمام یہودی گروہوں کو قرار نہیں دیا گیا۔
یہی خیرُالخلقﷺ کی حکمتِ سیاست ہے، اور آپ ﷺ کا طرزِ عمل ہمیشہ بہترین رہا ہے اور رہے گا۔ جو اس پر زبانِ طعن دراز کرے، تکبر کے باعث اسے ماننے سے انکار کرے، یا اسے کفار کی اعانت اور دین میں مداہنت کا نام دے، وہ اپنی تباہی کا سامان خود کرتا ہے!
امارت نے نہ یہ عہد کیا ہے کہ وہ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو پناہ نہیں دے گی، اور نہ کسی سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ان کے اپنے ملکوں کے حوالے کر دے گی۔ اس کا عہد صرف اتنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف جنگ کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
پھر اس پالیسی میں کفار سے دوستی کہاں سے نکل آئی؟ اس میں مسلمانوں سے بےتعلقی کا اظہار کہاں ہے؟ اور مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کی کون سی صورت پائی جاتی ہے؟ یہ سب باتیں گمراہوں اور بہتان تراشوں کے ذہنوں کی پیداوار کے علاوہ کچھ نہیں۔
رہا یہ الزام کہ امارت داعش کے خلاف لڑنے کے لیے امریکا یا کسی اور کے ساتھ تعاون کرتی ہے، تو یہ بھی بےبنیاد ہے۔ افغانستان کی آزادی سے پہلے ہو یا اس کے بعد، امارت کے خلاف ایسا کوئی تعاون ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ذمہ داران بارہا واضح کر چکے ہیں کہ انہیں نہ کسی کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی کی مدد درکار ہے۔ امارت اپنے بل بوتے پر اس گروہ کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


















































