گزشتہ روز ترکیہ کی فضائیہ نے ماضی کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فضائی فوجی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں داعش کے ایک اہم کمانڈر، اوغور بہادر، کو زندہ گرفتار کرلیا گیا۔ اس اہم واقعے اور سنگین صورتِ حال کے پسِ پردہ کون سے مقاصد کارفرما ہیں؟ پاکستان کی سرزمین دنیا اور خطے کے ممالک کے خلاف کیوں استعمال کی جارہی ہے؟ اور علاقائی ممالک کو اس مسئلے کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کرنا چاہیے؟
امارتِ اسلامیہ افغانستان نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی تحقیقات، انٹیلی جنس معلومات اور خفیہ اداروں کی دریافتوں پر مبنی رپورٹیں اور انکشافات نہ صرف افغانستان اور پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کیے، بلکہ انہیں بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ بھی شیئر کیا۔ ان رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہورہی ہے، جبکہ وہاں کا حکمران سیاسی و عسکری رجیم داعش جیسی خطرناک تخریب کار تنظیم کی سرپرستی، تربیت اور اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مصروف ہے۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس سلسلے میں ٹھوس، مستند اور اہم شواہد علاقائی ممالک اور افغانستان و پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے فریقوں کے ساتھ بھی شیئر کیے، لیکن ایک عرصے تک خطے کے ممالک نے اس سنگین مسئلے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ تاہم جب پاکستانی عسکری رجیم نے اپنی زیرِ سرپرستی اور زیرِ تربیت تنظیم، داعش، کے ذریعے علاقائی ممالک کو نشانہ بنایا اور وہاں تخریب کاری اور بدامنی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا، تو ترکیہ کے انٹیلی جنس اداروں نے پاکستان کے ان مذموم عزائم سے پردہ اٹھا کر انہیں بے نقاب کردیا۔
پاکستان کے پوشیدہ عزائم اور خفیہ تخریبی سرگرمیوں کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب ایک طرف وہ دنیا اور خطے کے ممالک کے سامنے دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف جنگ کے بلند بانگ دعوے کررہا تھا، جبکہ دوسری طرف اپنی ہی سرزمین پر ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتا اور ان تنظیموں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا رہا۔
یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں، بلکہ نہایت سنگین اور دور رس نتائج کا حامل معاملہ ہے۔ اگر علاقائی ممالک اس رجیم اور اس سے وابستہ حلقوں کے مذموم عزائم اور تخریبی سرگرمیوں پر خاموش تماشائی بنے رہے اور ان کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے، تو پاکستانی عسکری رجیم کی یہ دوغلی پالیسی اور ڈھٹائی محض خفیہ سرگرمیوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ کھلم کھلا خطے کے ممالک میں بدامنی، عدم استحکام اور تخریب کاری کا سبب بنے گی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس تنظیم کی مالی معاونت، تربیت، حفاظت اور پشت پناہی بھی کی جاتی ہے اور اسے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ اگر کم از کم داعش کے عناصر خفیہ طور پر اور متعلقہ اداروں کی سرپرستی کے بغیر پاکستانی سرزمین میں داخل ہوئے ہوتے، تو شاید پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بنیاد کسی حد تک کمزور ہوتی؛ لیکن اب گرفتار ہونے والے تمام داعشی عناصر کے اعترافات سے یہ حقیقت سامنے آرہی ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ عسکری حکام اور متعلقہ ادارے اس تنظیم کی مالی معاونت اور تربیت میں ملوث ہیں۔
ذرا غور کیجیے! پاکستانی رجیم نے ترکیہ کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کسی بھی خطرے اور جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور باہمی دفاع کو یقینی بنائیں گے۔ لیکن پاکستانی رجیم نے اپنے ہی اقدامات سے اس معاہدے کی ساکھ اور افادیت پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں، جن سے کئی حیرت انگیز قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے۔
کیا پاکستان نے یہ معاہدہ اس لیے کیا تھا کہ ترکیہ کے خلاف داعش کی سرپرستی، تربیت اور ترکیہ میں اس تنظیم کے حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہ ہونے پائے؟ یا پھر اس کا اصل مقصد دوستی اور دفاعی تعاون کا لبادہ اوڑھ کر آستین کے سانپ کا کردار ادا کرنا تھا؟
قرائن و شواہد یہی ہیں۔ پاکستانی عسکری رجیم کا داعش سے متعلق منصوبہ افغانستان اور تاجکستان میں ناکامی اور رسوائی سے دوچار ہوا، لیکن اپنے مذموم عزائم اور تخریبی منصوبوں کے تحت وہ تمام ناخوش گوار واقعات کی ذمہ داری افغانستان اور ایران پر ڈالنا چاہتا تھا، تاکہ امریکی مفادات کی خاطر افغانستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان بداعتمادی کی خلیج پیدا کی جاسکے۔ مگر اللہ رب العزت باطل سازشوں اور مذموم عزائم کو ہمیشہ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہونے دیتا، بلکہ بسا اوقات انہی سازشوں کو ان کے منصوبہ سازوں کی رسوائی اور شرمندگی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
ہم ایک بار پھر عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی عسکری رجیم کے مذموم عزائم اور تخریبی اقدامات کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ اب اس رجیم کو مزید یہ موقع نہیں ملنا چاہیے کہ وہ خطے اور ہمسایہ ممالک میں بدامنی اور تخریب کاری کا سبب بنے، اور نہ ہی پاکستان کی سرزمین افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور دیگر علاقائی ممالک کے خلاف استعمال ہونے دی جائے۔
کیونکہ اب یہ معاملہ ایک سنگین علاقائی اور عالمی تشویش کی صورت اختیار کرچکا ہے کہ پاکستان کی سرزمین دنیا اور خطے کے ممالک کے خلاف استعمال ہونے کے الزامات کی زد میں ہے۔ یہ مسئلہ محض دو ممالک کے باہمی اختلافات تک محدود نہیں، بلکہ پورے خطے اور عالمی امن و سلامتی سے تعلق رکھتا ہے۔
داعش پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے۔ اس مشترکہ خطرے کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کی مستند معلومات، ٹھوس شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹوں کی قدر کی جانی چاہیے اور اس کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے مؤقف کو بھی واضح طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے، تاکہ عالمی برادری اور علاقائی ممالک یہ حقیقت سمجھ سکیں کہ افغانستان خطے اور دنیا کے ممالک کے لیے خیرخواہی اور نیک نیتی کے جذبات رکھتا ہے اور مشترکہ خطرات کے خلاف سنجیدہ، فوری اور مؤثر جدوجہد کو اپنی مشترکہ ذمہ داری تصور کرتا ہے۔


















































