بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی جیو پولیٹکس کے معتبر امریکی جریدے ‘دی ڈپلومیٹ’ (The Diplomat) کا حالیہ تجزیہ کسی تحریر کی صورت میں نہیں، بلکہ راولپنڈی کے فوجی ہیڈکوارٹر کی پالیسی ساز راہ داریوں کے لیے ایک آئینہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ پاکستانی فوج جس تزویراتی غلط فہمی اور ناکام زعمِ تکبر میں مبتلا ہے… اس نے نہ صرف پورے خطے کو بارود کی بُو سے بھر دیا ہے، بلکہ خود اسلام آباد کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا ہے، جہاں سے واپسی اب ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
امارتِ اسلامی افغانستان کے اصولی، دفاعی اور شرعی موقف کے تناظر میں اگر اس صورت حال کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے اندرونی سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں کا ملبہ کابل پر ڈالنے کے لیے جو خطرناک کھیل شروع کیا ہے، وہ اب اُلٹا اُسی کو نگل رہا ہے۔
پاکستانی فوج کی اس موجودہ تزویراتی بوکھلاہٹ کی اصل وجہ کابل میں اُس کے اِس خواب کا چکنا چور ہونا ہے، جس کے تحت وہ دہائیوں سے افغانستان کو اپنی ‘تزویراتی گہرائی’ (Strategic Depth) یعنی محض ایک طفیلی ریاست سمجھتی آئی تھی۔ جب 2021ء میں افغان عوام نے امارتِ اسلامی کی قيادت میں بیس سالہ امریکی غصب اور غیر ملکی تسلط کا خاتمہ کر کے اپنی آزاد و خودمختار حکومت قائم کی تو راولپنڈی کو گمان تھا کہ کابل کی نئی قیادت ان کے اشاروں پر چلے گی۔
جب امارتِ اسلامی نے ایک غیر جانب دار، خودمختار اور افغان مفادات پر مبنی آزادانہ غیر ملکی پالیسی اختیار کی تو پاکستانی فوجی جنرلوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ وہ اثر و رسوخ جو انہوں نے برسوں کے جوڑ توڑ سے قائم کر رکھا تھا، لمحوں میں ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ پاکستانی فوج نے اپنی اسی خودساختہ سیاسی و سفارتی ذلت کو چھپانے اور کابل پر اپنا من مانا اور نام نہاد اثر و رسوخ بحال کرنے کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے نام کو بحیثیتِ بہانا استعمال کرنا شروع کیا۔
‘دی ڈپلومیٹ’ کی رپورٹ میں جن سنسنی خیز دفاعی اعداد و شمار کا پردہ چاک کیا گیا ہے، وہ راولپنڈی کی اسی بوکھلاہٹ کا عملی مظاہرہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج نے پچھلے ایک سال سے بھی کم عرصے میں افغان سرحدی حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے کم از کم 15 سے زائد فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ حال ہی میں کنڑ اور پکتیکا کے پرامن علاقوں پر امریکی ساختہ ‘GBU-12’ بموں سے کی جانے والی اندھا دھند بمباری اسی فوجی سرکشی کا شاخسانہ ہے۔ جن مظلوم اور نہتے افغانوں، عورتوں اور بچوں پر یہ بم برسائے گئے، وہ اس بات کا چیخ چیخ کر ثبوت دے رہے ہیں کہ پاکستانی فوجی قیادت سکیورٹی کا بہانہ بنا کر حقیقت میں افغان عوام کے خلاف ایک بلاجواز جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہے۔
تاہم جریدے کے مطابق ان 15 حملوں اور ہولناک بمباریوں سے راولپنڈی کو اپنا مطلوبہ اسٹریٹجک نتیجہ حاصل ہونا تو دور کی بات، اُس کی یہ تمام کارروائیاں مکمل اور بُری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ شرم ناک پہلو پاکستانی فوج کا وہ پسِ پردہ کردار ہے، جس میں وہ افغان حکومت کے مسلح مخالفین، نام نہاد ڈیتھ اسکوائڈز اور شرپسند عناصر کی سرپرستی اور فنڈنگ کر رہی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد عالمی برادری کے سامنے دہشت گردی کا مظلوم بننے کا ڈرامہ رچاتا ہے اور دوسری طرف کابل کی پرامن اسلامی حکومت کو مستحکم ہونے سے روکنے کے لیے انہی شرپسند گروہوں کی پیٹھ تھپتھپاتا ہے۔ تاہم تاریخ شواہد سے بھری پڑی ہے کہ جو فورسز اپنے داخلی مسائل کا حل سرحد پار بمباریوں اور گوریلا گروہوں کی مالی امداد میں تلاش کرتی ہیں، وہ بالآخر خود اپنے ہی جال میں پھنس جاتی ہیں۔
‘دی ڈپلومیٹ’ نے بالکل بجا طور پر راولپنڈی کے پالیسی سازوں کو خبردار کیا ہے کہ کابل کو معاشی ناکہ بندی، سرحدوں کی بندش اور فضائی حملوں کے ذریعے گھٹنوں کے بل لانے کا خواب ایک انتہائی ‘کم نظر’ (Short-Sighted) اور حماقت پر مبنی رویّہ ہے۔ جن جرنیلوں نے شاید تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا، اُنہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس ملک اور قوم کو دنیا کی نام نہاد واحد سپر پاور امریکا اور پاکستانی فوج سمیت 48 اتحادی ممالک دو دہائیوں پر محیط خوف ناک ترین بدمعاشی اور ہلاکت خیز تکنیکوں کے باوجود (اللہ تعالی کے فضل سے) اپنے آگے نہیں جھکا سکے، اسے دیوانے کے حد تک بے وقوف پاکستانی فوج کی بمباری کیا مات دے گی؟
اللہ تعالی کی طرف سے اسلام پسند افغانوں کی فطرت میں غیر ملکی دباؤ یا بندوق کی نوک پر فیصلے تسلیم کرنا لکھا ہی نہیں گیا۔ راولپنڈی کی اس متعصبانہ اور نفرت انگیز پالیسی کا واحد نتیجہ یہ نکلا ہے کہ افغانستان کے چپے چپے پر اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں پاکستان مخالف شدید ترین عوامی جذبات اور نفرت کا نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔
اس تزویراتی زوال کی گہرائی اُس وقت اَور بھی واضح ہو کر سامنے آتی ہے، جب پاکستانی فوج کے ٹرمپ کے خاندانی تعلقات اور اسرائیل نواز کمپنیوں سے خفیہ ڈرون سودے بازیوں کے حقائق منظرِ عام پر آتے ہیں۔ اپنے ہی ملک کے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے فلسطین کے قاتلوں اور اسرائیلی اثر و رسوخ رکھنے والی لابیوں کے ساتھ خفیہ سازباز کر کے تکنیک حاصل کرنا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا وہ خونین چہرہ ہے، جسے اب چھپانا پاکستانی فوج کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی فوج کی ترجیحات اسلامی اخوّت یا خطے کا امن نہیں، بلکہ صرف اپنے اقتدار، بقا اور اسلام دشمن امریکی مفادات کی تکیمل کی جنگ لڑنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سکیورٹی بحران کا مرکز کابل نہیں، بلکہ خود اسلام آباد اور راولپنڈی کی غلط پالیسیاں ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی موجودہ داخلی صورت حال اور وہاں کے صوبائی حکام کا کابل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کے مطالبات اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج کا تیار کردہ ‘پڑوسی الزام تراشی کارڈ’ اور ‘جعلی سکیورٹی بیانیہ’ اب خود اس کے اپنے ملک کے اندر زنگ آلود ہو چکا ہے۔ عوام اور صوبائی حکومتیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ فوج کی ناکامی کا سبب افغانستان کا عدمِ تعاون نہیں، بلکہ راولپنڈی کی اپنی نالائقی، دوغلی اور منافقانہ پالیسیاں ہیں۔
نتیجۃً امارتِ اسلامی افغانستان نے ہمیشہ حکمت، صبر اور اپنے دفاع کے کامل حق کے ساتھ ان تمام چالوں کا مقابلہ کیا ہے۔ افغان حکومت اور عوام پر دباؤ ڈالنے کی یہ تمام فوجی کوششیں ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہیں۔ اگر پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اب بھی حقائق سے سبق نہ سیکھا اور افغان حدود کی خلاف ورزیوں سمیت طاقت کے گھمنڈ کا بیانیہ ترک نہ کیا تو اس کم نظر اور بدعقلی پر مبنی پالیسی کا حتمی خسارہ صرف اور صرف پاکستان کے اپنے سیاسی و دفاعی وجود کو بھگتنا پڑے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم پر مبنی ناانصافی اور گولہ باری کا دھواں گہرا ہو جاتا ہے تو فتح ہمیشہ اپنے حق کے لیے ڈٹ جانے والوں کی ہی ہوتی ہے۔


















































