۹۔ مصلحین اور داعیین کی بے توجہی اور ان کی کمی
موجودہ دور میں مسلمانوں کی کمزوری اور پسماندگی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب امت اور نوجوانوں کے حوالے سے مصلحین اور علمائے دین کی بے توجہی، بے اعتنائی اور احساسِ ذمہ داری کی کمزوری ہے۔
جس دن سے داعیوں اور علمائے دین نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری سے منہ موڑا اور اپنے آپ کو معاشرے سے الگ کر لیا، اسی دن سے انہوں نے اسلام کے دشمنوں کے لیے سرگرمیوں کا میدان خالی چھوڑ دیا۔ دشمنوں نے مختلف ذرائع اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عورتوں، مردوں، جوانوں اور کم عمر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں راہِ حق سے ہٹانے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں اور مختلف پروگرام شروع کیے۔ وہ اپنی ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے اور بہت سے نوجوانوں کو اپنے دین اور عقیدے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا۔
وہ نوجوان جو کل تک اسلام اور اپنے عقیدے کی خاطر ہر قسم کی قربانی اور جان نثاری کے لیے تیار رہتے تھے اور اسلام کی قوت اور عزت کا باعث بنے ہوئے تھے، آج ان میں سے اکثر کی سب سے بڑی فکر صرف اپنی شہوانی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل رہ گئی ہے، اور دین و اسلام ان کے نزدیک وہ اہمیت نہیں رکھتے جو انہیں حاصل ہونی چاہیے۔ ان مسائل کی بنیادی وجہ دینی ذمہ داران، داعیوں اور مصلحین کی بے توجہی اور مسلمانوں، بالخصوص نوجوانوں، کے بارے میں ان کے احساسِ ذمہ داری کا کمزور پڑ جانا ہے۔
ہم ایسے افراد بھی دیکھتے ہیں جو عالم اور داعی کہلانے کے باوجود خود کو نوجوانوں سے الگ رکھتے ہیں اور انہیں مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان نوجوانوں، خصوصاً ان لوگوں سے جن کا ظاہر اور لباس اسلامی معیاروں کے مطابق نہیں ہوتا، فاصلہ اختیار کریں۔ کیا اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ علماء اور داعی ایسے نوجوانوں سے دور رہیں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں؟ اگر آج ایک داعی ایسے کسی نوجوان سے دوری اختیار کرے گا تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ دشمن اسے گمراہ کرنے اور تباہ کرنے کے لیے اس کے قریب آ جائے گا۔
مختصراً، جس معاشرے میں خیرخواہ اور نصیحت کرنے والے موجود نہ ہوں، یا وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا نہ کریں، وہاں امت اور نوجوان راہِ راست سے بھٹک جائیں گے، اور یہی ان کی کمزوری کا سبب بنے گا۔ لیکن اگر معاشرے میں ایسے ناصح اور مصلح موجود ہوں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، لوگوں کی رہنمائی کریں اور انہیں برائیوں سے روکیں، تو نوجوانوں اور پوری مسلم قوم کی گمراہی میں کمی آئے گی۔ وہ دین کی خدمت، قربانی اور جان نثاری کے لیے آمادہ ہوں گے اور اپنا کھویا ہوا وقار اور قوت دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔
الحمدللہ! آج امارت اسلامیہ کے دورِ حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وزارت قائم کی جا چکی ہے۔ امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جوانوں اور کم عمر نوجوانوں کی گمراہی کی روک تھام کی جائے گی، اور معاشرے کے تمام افراد اسلام اور اسلامی نظام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کریں گے۔


















































