پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک خطے میں افغانستان کا ایک ناخوش گوار ہمسایہ ثابت ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان میں خواہ کسی بھی نوعیت کی حکومت قائم ہوئی ہو، پاکستان نے ہمیشہ اپنے مفادات ہی کو مقدم رکھا ہے، اور جب بھی افغان حکومت اور اس کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا ہوا تو اس نے مخالفت کی راہ اختیار کی، حتیٰ کہ بعض اوقات افغان حکومت کو ختم کرنے کی کوششیں بھی کیں۔
جب امارتِ اسلامیہ دوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آئی تو پاکستان نے اپنی سابقہ روش کے مطابق ایک بار پھر وہی پالیسی اختیار کی۔ اب پاکستان کو یہ احساس ہوا کہ اس مرتبہ افغانستان میں ایسے لوگ برسرِ اقتدار آئے ہیں جو اپنے دین اور ملک کے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان مفادات پر کسی کے ساتھ سودے بازی کے لیے تیار نہیں، تو اس نے امارتِ اسلامیہ کے خلاف مختلف حربے آزمانا شروع کر دیے۔
پاکستان نے کوشش کی کہ عالمی سطح پر امارتِ اسلامیہ کو بدنام کیا جائے اور افغانستان کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسی بہانے افغانستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور اس پر حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں سول تنصیبات تباہ ہوئیں اور بے شمار شہری شہید ہوئے۔ یہ سلسلہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
افغانستان چار دہائیوں پر محیط جنگوں سے نکل کر ابھی امن، استحکام اور ترقی کی فضا میں سانس لینا شروع ہی کر رہا ہے۔ ایسے میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کسی نہ کسی طریقے سے افغانستان کو ایک نئی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے۔
اگر ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر گہرائی سے غور کریں تو موجودہ حالات میں بھی اس سے اپنے لیے بہت سی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں اس زمانے کے عرف کے مطابق مسلمانوں کے لیے ایک نئی ریاست قائم کی تو ابتدا میں مسلمان کمزور تھے اور ان کے پاس مخالف قوتوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت موجود نہیں تھی۔
اسی لیے خیبر کے یہودی اور مدینہ کے اندر موجود منافقین، جو مسلسل نوزائیدہ اسلامی ریاست کے خلاف سازشیں کرتے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے تھے، مسلمانوں نے فوری طور پر ان کے خلاف جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ صبر و تحمل سے کام لیا۔ اس دوران پوری توجہ اسلامی ریاست کی بنیادوں کو مستحکم کرنے اور اس کے سامنے موجود مختلف چیلنجوں کو بتدریج دور کرنے پر مرکوز رکھی گئی۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کی اس حکمتِ عملی سے موجودہ حالات کے لیے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ افغانستان ابھی کئی دہائیوں کی تباہ کن جنگوں سے نکلا ہے۔ امارتِ اسلامیہ موجودہ حالات میں اقتصادی، عسکری اور دیگر شعبوں میں افغانستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانا چاہتی ہے۔ ایسے حالات میں تحمل، بردباری اور تزویراتی صبر سے کام لینا ناگزیر ہے۔
افغان ایک جذباتی قوم ہیں اور بعض اوقات اپنے جذبات پر قابو رکھنا ان کے لیے دشوار ہو جاتا ہے، لیکن ایسے نازک حالات میں جذبات کے بجائے حکمت، تدبر اور دوراندیشی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں جنگ کے مقابلے میں امن کو ترجیح دینا زیادہ بہتر اور ملک کے مفاد میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے امراء و قائدین کو ہر قسم کے حالات میں حکمت، بصیرت اور تدبر کے ساتھ درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔



















































