زمین پر صدیوں کے تسلسل میں ایسے بہت سے رجیم اور حلقے گزرے ہیں، جن کی ظاہری وضع قطع اور انداز تو مسلمانوں جیسا ہوتا تھا، لیکن باطن میں وہ مغرب، صلیب اور یہود کے مقاصد اور جنگوں کا ستون اور مرکز ہوتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو حق کے مقابلے میں اکساتے، مسلمانوں کے درمیان داخلی نفاق پیدا کرتے، مسلمانوں کی سرزمینوں اور قدرتی وسائل کو لوٹتے اور ان کے عقیدوی اتحاد کو پارہ پارہ کرتے تھے۔
بیسویں صدی میں ایسی دو ریاستیں وجود میں آئیں، جن میں سے ایک نے مسلمانوں کی توجہ دشمنی کی طرف مبذول کرائی اور دوسری نے بظاہر اسلام دوستی کی شکل اختیار کی، لیکن باطنی طور پر دونوں ایک ہی منصوبہ تھیں اور ہیں۔ ایک کھلے عام مسلمانوں کو کچلتی ہے اور دوسری خفیہ طور پر، بالکل یہی صورتِ حال جاری ہے کہ مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے۔ اسرائیل اور پاکستان ایشیا میں عجمیوں اور مشرقِ وسطیٰ کے عربوں کی سرزمینوں پر غلبہ مضبوط کرنے کے لیے مغرب کا وہ منصوبہ ہیں، جو مغربی سلطنت کے مقابلے میں عجمیوں اور عربوں کو مصروف رکھنے اور دفاع کرنے کے ستون کا کردار ادا کریں۔
سوال کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان کے اندر کتنی بار اور افغانستان کی سرزمین پر اس مغربی رجیم کے آلۂ کاروں نے وحشت برپا کی۔ وحشت اور ظلم کے دوران انہوں نے جو بارودی مواد استعمال کیا، وہ وہی تمام مواد ہے جو امریکہ نے فلسطین کے مسلمانوں کے اجتماعی قتلِ عام کے لیے اسرائیل کو دیا ہے۔ آج بھی اور ماضی میں بھی یہی بارود پاکستانی فوجی رجیم نے افغانوں کے خلاف استعمال کیا۔ اس بارود نے افغانستان کے مظلوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور عام شہریوں کو شہید اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
لہٰذا ہمیں واضح طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ مذکورہ رجیم کا مقصد محض زبان اور الفاظ کا دعویٰ اور ادعا نہیں، بلکہ اس کی تشکیل کا سبب اور بنیاد ہے۔ افغانستان، پاکستان، کشمیر اور بنگال کے مسلمانوں کو کچلنا اور انہیں اسی طرح قتل کرنا، جیسے اسرائیل فلسطین کے مسلمانوں کا قتلِ عام کرتا ہے۔
آپ کے ذہن میں ہوگا کہ کتنی بار عام لوگوں اور عوام پر بمباری کی گئی، پاکستان کے اندر پختونخوا کے قبائل کو بارود اور آگ کی زد میں رکھا گیا، کشمیر کے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا اور فلسطین میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور مشترکہ کرائے کے معاہدے کی وجہ سے پندرہ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ عالمی برادریوں اور دیگر نام نہاد مغربی تنظیموں نے صرف مذمت کی اور اسے غلط ہدف کو نشانہ بنانا قرار دیا۔ جس طرح مسلمان اور کفار اسرائیل کے مظالم کی صرف مذمت کرتے ہیں، اسی طرح پاکستانی رجیم کی کارروائیاں کا جواب بھی مذمت تک محدود ہیں، کیونکہ یہ دونوں رجیم مغرب اور تنظیموں کے دفاعی ستون ہیں، ان کا وجود اور موجودگی ہی ان کے مقاصد کی دلیل بن چکے ہیں۔
اس فوج اور رجیم کا مقصد مسلمانوں کو کچلنا، مسلمانوں کی سرزمینوں اور سیاست پر قبضہ اور تسلط ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے افغانوں اور سرزمین کی تقسیم کے منصوبے شروع کیے، شر اور فساد کے گروہوں کی پرورش کے منصوبے شروع کیے اور یہاں تک کہ خوارج اور داعش کے نام سے بھی ایک منصوبہ تشکیل دیا، تاکہ اپنی وحشت اور تسلط پسند سیاست اور ریاست کو وسعت دے سکیں۔
کیونکہ پاکستان اور اسرائیل کی یہ عادت ہے کہ پھیلاؤ کے لیے وحشت اور ظلم کا ہر طریقہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے کہ کرۂ ارض پر ان کا کوئی نشان اور وجود نہیں، نہ ان کی متعین، کھینچی ہوئی سرحدیں اور حدود ہیں، آج وہ انہیں کھینچیں گے، خواہ طاقت اور ظلم کے ذریعے ہوں یا امریکہ کی جانب سے مشروعیت کی مہر کے ذریعے۔
پاکستان اور اسرائیل ممالک نہیں ہیں، بلکہ صرف بیسویں صدی کے جبر اور طاقت سے اٹھائے گئے ستون ہیں، جنہیں برطانیہ، مغرب اور یہود نے اپنے مقاصد کے لیے تشکیل دیا ہے، اسی لیے انہیں منصوبے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔


















































