پاکستانی فوج کی کرائے داری، غلامی، فروخت اور ناکام معاہدوں کی حقیقتیں ہر شخص، خواہ پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ، یا کم از کم سیاسی شعور رکھتا ہو، کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ حالیہ عرصے میں دنیا بڑے سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے اور ان کی وجہ سے متعدد انسانی پہلو متاثر ہوئے ہیں، جن میں سب سے پہلے معاشی اور اس کے بعد دینی، سیاسی، ثقافتی، علمی اور وہ تمام پہلو شامل ہیں جن کی انسانی معاشروں کو اپنی روزمرہ زندگی میں عارضی یا طویل مدتی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کی دہشت گرد انتظامیہ کی اسیر اقوام اور خود پاکستان کی ساخت کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن جو چیز اس وقت پاکستان کی مسلم عوام اور اس ملک کے ہمسایوں کے لیے ایک بڑے دردِ سر میں تبدیل ہو چکی ہے، وہ اس مظلوم عوام پر ظالم فوجی رجیم کی حکمرانی ہے۔
پاکستان کے حکمران طبقے کو ان شیطان صفت سپر پاورز کی جانب سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے اور ان کے لیے پالیسیاں بنائی جاتی ہیں، جنہوں نے اس حکمران طبقے کے سائے تلے مظلوم اقوام کو محض طاقت اور جبر کے ذریعے اکٹھا کر رکھا ہے اور زمین کے ایک ٹکڑے کو ان کے لیے ’’پاکستان‘‘ کا نام دیا ہے، اس انداز میں کہ زمین کے اس ٹکڑے کے حکمران اور دعوے دار خود بھی اس کے مفہوم کو نہیں سمجھتے۔
وہ شیطان صفت طاقتیں جو فوجی رجیم کو پالیسیاں دیتی ہیں، اس بات سے آگاہ ہیں کہ یہ غلام خود بہت مظلوم ہیں، نہ وہ اپنے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس قابل ہیں کہ اس جعلی جغرافیے کی حفاظت کر سکیں۔ کیونکہ غیروں کی پالیسیاں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ ان کا نتیجہ بالآخر اپنے ہی اوپر ظلم اور زیادتی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس ظلم کی واضح مثالیں خود فوجی طبقے کے سائے تلے مظلوم مسلم قوموں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مثلاً حکمران طبقے کے شریکوں میں سے پنجاب کی رہائشی اور وزیراعلیٰ مریم نواز کھلے عام خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں اور ان کے عوام پر یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ پنجاب اور پنجابیوں کو غیر محفوظ بناتے ہیں، حالانکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام اپنی لاپتہ ماؤں، بہنوں، بھائیوں، باپوں اور اپنی ناموسوں کو تلاش کرنے کے لیے نکلے ہیں۔
وہ اپنے قدرتی وسائل میں اپنا حق اور روزگار کے مواقع چاہتے ہیں، وہ اپنی سرزمین اور اپنے گھر میں امن، اپنی پیداوار اور اپنی مصنوعات سستی اور اپنے لیے چاہتے ہیں۔ وہ رجیم جن کی تشکیل جعلی ہو، یا جو غیروں کی طرف سے تشکیل دی گئ ہو، یا جس کی پالیسیاں غیروں کی جانب سے طے کی جاتی ہوں، ہمیشہ اپنی طاقت اور وجود سے بڑھ کر دکھائی جاتے ہے۔ جب بھی کسی رجیم کو اس کے قدرتی ڈھانچے سے زیادہ پھلا دیا جائے تو حقیقت کے میدان میں، اور اگر واضح الفاظ میں کہیں تو مقابلے کے میدان میں، فرار یا خود فریبی سے کام لیتی ہے، اور اس کا فرار اور خود فریبی، مقابلے کے میدان میں شکست سے بھی بڑے نقصانات پیدا کرتی ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم بھی انہی رجیموں میں سے ایک ہے، جو دس لاکھ (۱٬۰۰۰٬۰۰۰) مسلح فوج، دنیا کے طاقتور انٹیلی جنس ادارے (آئی ایس آئی) اور ایٹمی بم رکھنے والی ریاست کی دعوے دار ہے۔ لیکن یہی فوج ایک ہی دن میں نوے ہزار (۹۰٬۰۰۰) کی تعداد میں ہتھیار ڈال چکی ہے، اسی مسلح فوج سے بنگلہ دیش کے نام سے ایک ملک الگ ہو چکا ہے، اسی مسلح فوج نے اپنے ہی عوام کے سیکڑوں بیٹوں کو لاپتہ کیا ہے اور یہی غلام فوجی رجیم ہے جسے اپنی تاریخ میں کوئی فوجی کامیابی حاصل نہیں۔
لیکن کرائے کی پاکستانی انتظامیہ کے غیروں کے بنائے ہوئے اور جعلی ڈھانچوں میں، جس نے ہمیشہ اپنی حقیقت سے خود کو بڑا اور طاقتور ظاہر کیا، بہت سے ممالک دھوکا کھا چکے ہیں اور اسے اربوں ڈالر قرض دے چکے ہیں، جن میں چین اور متحدہ عرب امارات کے قرضے نمایاں ہیں۔ حالیہ عرصے میں سعودی عرب نے بھی اس ملک پر اعتماد کیا اور اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، لیکن ایران پر امریکہ کے حملوں کے ساتھ ہی ایران نے سعودی عرب پر ایسے حملے کیے جن کا اسے کبھی سامنا نہیں ہوا تھا۔
دفاعی معاہدے کے مطابق پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے تھا، لیکن فرار اور اپنی جان چھڑانے کی خاطر پاکستانی فوجی رجیم نے افغانستان کے شہریوں پر بمباری شروع کر دی، گویا ہم تو اپنے دفاع میں مصروف ہیں اور ایک ہی وقت میں دو جگہ نہیں لڑ سکتے۔ سعودی عرب نے دوسری مرتبہ پھر مذکورہ معاہدے کی تجدید کی اور اس بار ایک تیسرے ملک، ترکی، نے بھی پاکستان پر اعتماد کیا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر مکہ دفاعی معاہدہ کیا، لیکن اس بار یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے ہوئے اور یہاں تک کہ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی ﷺ,کے برقی نظام پر حملے کیے لیکن پاکستانی کرائے کی انتظامیہ نے خود کو چھڑانے، بہانے بنانے اور فرار کی خاطر ایک بار پھر افغانستان کے شہریوں پر بمباری شروع کر دی۔
پاکستان کی کرائے کی فوج، حکمران طبقہ اور ان کے بیرونی شیطان صفت معاونین کبھی نہیں چاہتے کہ مسلم قومیں امن میں رہیں، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ اس فوجی رجیم کے قیام کے بعد نہ پاکستان کی قومیں امن میں رہیں، نہ عرب دنیا کے ممالک سوالیوں سے نجات پا سکے، نہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک نے پُرامن تعلقات قائم کیے اور نہ ہی وسطی ایشیا میں دور و نزدیک واقع ممالک نے طویل مدتی دینی، سیاسی، معاشی، ثقافتی، علمی اور سماجی استحکام کی میزبانی کی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس مشترکہ نقصان کے مقابلے میں ممالک ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں، اپنے ممالک اور قوموں کو اس شریر فوجی رجیم کے شر سے نجات دلائیں اور اپنی تاریخی شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر تعلقات قائم کریں۔



















































