آج کی دنیا میں، جہاں مختلف سیاسی نظام، ہر ایک اپنے مخصوص مقاصد اور آرزوؤں کے مطابق، اپنے معاشروں کا انتظام چلا رہے ہیں، بہت کم ایسے نظام ملتے ہیں جن کی قیادت میں ایسا ہمدرد، مخلص اور ریا سے پاک رہنما موجود ہو جسے اپنے دین اور اپنی قوم کے سوا کسی اور چیز کی فکر نہ ہو۔ بہت سے ممالک میں حکمران اور سیاسی رہنما یا تو بیرونی نظاموں سے وابستہ ہیں اور دوسروں کے مطالبات اور احکامات اپنے معاشروں میں نافذ کرتے ہیں، یا اپنے اقتدار اور خاندانی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، یا انہوں نے اقتدار کو دولت جمع کرنے اور دنیاوی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
ایسے حالات میں ایسے رہنما اور قائد کا ملنا جو اپنی تمام تر کوششیں عوام کی خدمت، اسلامی احکام کو واضح کرنے اور معاشرے کو دینی اقدار کی طرف بلانے کے لیے وقف کر دے، مشکل اور نادر امر ہے۔ لیکن آج کا افغانستان، اللہ تعالیٰ کے فضل اور مجاہدین اور حق و انصاف کے پیروکاروں کی کوششوں کے نتیجے میں، اس عظیم نعمت سے بہرہ مند ہے کہ یہاں اسلامی نظام قائم ہے اور ایک ہمدرد اور عوامی رہنما، امیرالمؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ حفظہ اللہ، اس نظام کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔
وہ رہنما جس نے اپنی پوری بابرکت زندگی اسلام کی سربلندی، کفر اور جارحیت کے خلاف جدوجہد اور عوام کی خدمت کی راہ میں گزاری ہے، اور آج بھی امارت اسلامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے معاشرے کی اصلاح، شریعت کے احکام کے نفاذ اور لوگوں کو الٰہی اقدار کی طرف رہنمائی کے سوا کوئی اور مقصد، فکر اور تشویش نہیں رکھتے۔
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ خود کو صرف حاکم نہیں بلکہ عوام کا خادم بھی سمجھتے ہیں اور اپنے ارشادات میں بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ اسلامی نظام عوام کی ملکیت ہے اور ذمہ داران پر عوام کی خدمت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ موصوف حفظہ اللہ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا ہے:
“نظام قوم کی ملکیت ہے او قوم کا ایک حصہ ہے۔”
اسی طرح انہوں نے قسم کھاتے ہوئے فرمایا ہے:
“اگر دنیا کے کسی بھی گوشے میں میری وجہ سے کسی ایک مسلمان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہو تو میں پیدل چل کر وہاں جانے کے لیے تیار ہوں۔”
یہ باتیں امت مسلمہ کے ساتھ ان کی بے مثال ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں، جس کی مثال بہت سے سربراہوں اور رہنماؤں میں نہیں ملتی۔
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، یعنی کفر کے خلاف فتح اور امارت اسلامیہ کے نظام کے استحکام کے بعد سے، افغانستان کے ذمہ داران اور عوام کے لیے مختلف اعتقادی، شرعی، اخلاقی اور معاشرتی شعبوں میں قیمتی ارشادات، احکام اور ہدایات پیش کی ہیں۔
یہ ارشادات پاکیزہ اور معتبر دینی مصادر سے ماخوذ ہیں اور ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح، لوگوں کو بدعات اور ناپسندیدہ رسوم و رواج سے خبردار کرنا اور انہیں شریعت کے احکام کی طرف دعوت دینا ہے۔
ان ارشادات کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ موجودہ حساس مرحلے میں افغانستان کے معاشرے کو رہنمائی کی ضرورت ہے، تاکہ وہ درست اسلامی راستے پر قدم اٹھا سکے اور ان ثقافتی اور معاشرتی نقصانات سے خود کو محفوظ رکھ سکے جو گزشتہ برسوں کے دوران اس میں پھیل چکے ہیں۔
مضامین کی اس سلسلے کو تحریر کرنے کا مقصد امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے قیمتی ارشادات کا تجزیہ اور ان کی وضاحت کرنا ہے، تاکہ افغانستان کے دین دار عوام اپنے ہمدرد رہنما اور قائد کی ہدایات سے مزید بہتر طور پر واقف ہوں اور اصلاح و ترقی کی راہ پر قدم اٹھائیں۔
اس کام کی ضرورت اس لیے بھی پیدا ہوتی ہے کہ ممکن ہے بہت سے لوگ، حتیٰ کہ بعض ذمہ داران بھی، ان ارشادات کے مختلف پہلوؤں سے مکمل طور پر واقف نہ ہوں اور ان کے بہتر فہم کے لیے تشریح اور تجزیے کی ضرورت ہو۔ اسی طرح، چونکہ یہ ارشادات معاشرے کی ہمہ جہت اصلاح کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کا مطالعہ اور تجزیہ تمام لوگوں کو اسلامی نظام کے مقاصد اور اپنی شرعی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مضامین کا یہ سلسلہ تجزیاتی و دینی نقطۂ نظر سے اور سادہ و رواں زبان میں، مختلف موضوعات کے حوالے سے امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے ارشادات کے بنیادی محوروں کا جائزہ لے گا۔ ہر مضمون ان بنیادی موضوعات میں سے کسی ایک موضوع کے لیے مخصوص ہوگا جن پر انہوں نے زور دیا ہے، اور افغانستان کے عوام کے ثقافتی پس منظر اور دینی اعتقادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے نقطۂ نظر اور معاشرے میں اس کے اصلاحی کردار کے بارے میں وضاحت پیش کرے گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ناچیز کوشش امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے اصلاحی افکار کی بہتر معرفت اور افغان معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کی راہ میں ایک چھوٹا سا قدم ثابت ہوگی اور ہمارے معزز ہم وطنوں کو اپنے ہمدرد رہنما کی ہدایات پر عمل کرنے میں مدد دے گی۔
واللہ الموفق والمستعان۔




















































