تعلیم و ثقافت: اسلامی تعلیمات اور جدید علوم کے درمیان ربط
تعلیم و تربیت ترقی کی بنیادی رگ اور ہر معاشرے میں نوجوان نسل کی شناخت، اخلاق اور طرزِ فکر کی تشکیل کا سب سے بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ افغانستان جیسے ایک اسلامی معاشرے میں تعلیم و تربیت کو کبھی بھی صرف سائنسی معلومات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی منتقلی تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ طلبہ اور طالبات کی روحانی، اعتقادی اور اخلاقی تربیت بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اسی لیے امارت اسلامیہ کی تعلیمی نظام کی پالیسی ایک واضح اور بنیادی اصول پر استوار ہے، اور وہ یہ کہ مقدس اسلامی تعلیمات اور جدید علوم کے درمیان گہرا تعلق اور مناسب توازن قائم کیا جائے، تاکہ ایسے طلبہ و طالبات کی تربیت کی جا سکے جو پیشہ ورانہ مہارت بھی رکھتے ہوں اور اپنی دینی اقدار کے ساتھ وابستہ بھی رہیں۔
اس حوالے سے امارت اسلامیہ کی کامیابیوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی قبضے کے دور میں تعلیمی نظام کی خامیوں کا جائزہ لیا جائے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، اگرچہ ملک میں بھاری مالی امداد آئی، لیکن ملک کے سکولوں اور یونیورسٹیز کو سیکولر بنانے کے لیے خفیہ اور اعلانیہ کوششیں بھی کی گئیں۔ اس وقت کا تعلیمی نظام غیر ملکیوں کے زیرِ اثر تھا اور جدید علوم کو اسلامی تربیت کے ساتھ متصادم قرار دیا گیا تھا۔ دینی مضامین کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا اور انہیں محض نمائشی حیثیت حاصل تھی۔
اس ثقافتی یلغار کا نتیجہ ایسی نسل کی تربیت کی صورت میں نکلا جو اگرچہ ٹیکنالوجی اور جدید علوم سے واقف ہو چکی تھی، لیکن اسلامی عقائد، ضروری شرعی احکام اور اسلامی اخلاق کی گہری معرفت سے محروم رہ گئی تھی اور اپنی حقیقی افغانی و اسلامی شناخت کے حوالے سے اجنبیت اور فکری تزلزل کا احساس رکھتی تھی۔ قابضین کا مقصد یہ تھا کہ دین کو علمی ماحول سے الگ کر دیا جائے اور ایسے نوجوان تیار کیے جائیں جو فکری اعتبار سے مغرب کے تابع ہوں۔
امارت اسلامیہ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس نظام کی بڑی اور مسلسل کامیابیوں میں سے ایک شعبۂ تعلیم، تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے نظام کی ازسرِنو اصلاح اور اسکولوں و یونیورسٹیوں میں اسلامی روح اور شناخت کی بحالی تھی۔ امارت اسلامیہ نے اس بڑے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے کہ دینی وابستگی کے بغیر مہارت معاشرے میں فساد کا سبب بنتی ہے، تعلیمی نصاب پر نظرثانی کی۔ نئے نظام میں دینی تعلیمات، اسلامی عقائد، عبادات اور اسلامی اخلاق کو زیادہ مضبوط مقام دیا گیا، تاکہ ایک افغان مسلمان نوجوان انجینئر یا ڈاکٹر بننے سے پہلے ایک پُرعزم، ذمہ دار اور اللہ تعالیٰ کو پہچاننے والا انسان بن کر پروان چڑھے۔ ان اصلاحات نے سکولوں اور یونیورسٹیوں کو سیکولرازم کے زہریلے ماحول سے محفوظ کیا اور انہیں ایسے مراکز میں تبدیل کر دیا جہاں علم اور ایمان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ پڑھائے جاتے ہیں۔
اسی دوران بعض سیکولر حلقے اور اسلامی نظام کے مخالفین منفی پروپیگنڈے اور شکوک و شبہات پھیلا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا امارت اسلامیہ جدید علوم کی مخالف ہے اور تعلیم و تربیت کو صرف فقہی مباحث تک محدود کرنا چاہتی ہے۔ یہ الزام مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت سے بعید ہے۔
وزارتِ تعلیم کے سرکاری تعلیمی نصاب اور یونیورسٹیوں کے تدریسی نظام الاوقات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی مضامین کے ساتھ ریاضی، سائنس، طبیعیات، کیمیا، حیاتیات، کمپیوٹر اور انگریزی زبان بھی نہایت اہمیت کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر امارت اسلامیہ جدید علوم کی مخالف ہوتی تو وہ کبھی ان مضامین کو تعلیمی نظام کے سرکاری ڈھانچے میں برقرار نہ رکھتی اور نہ ہی انہیں مزید مضبوط بناتی۔ دینی ضروریات پر زور دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جدید علوم کو حذف کر دیا جائے، بلکہ اس کا مقصد ان علوم کو درست سمت دینا ہے۔
اسلام کے مقدس دین کی نظر میں دینی اور جدید (تجرباتی) علوم کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ اسلامی فقہ ان علوم کا حصول فرضِ کفایہ قرار دیتی ہے جن کی معاشرے کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے، مثلاً طب، زراعت، انجینئرنگ اور اقتصادیات۔ افغانستان کو حقیقی خودمختاری اور خودکفالت حاصل کرنے کے لیے جس طرح دین شناس علماء کی ضرورت ہے، اسی طرح ماہر ڈاکٹروں، تجربہ کار انجینئروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی بھی ضرورت ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات جدید علوم کو اخلاقی اقدار عطا کرتی ہیں۔ دینی اقدار کی معرفت ایک ماہر کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے علم کو لوگوں کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھے اور اپنے پیشے میں ناجائز فائدہ اٹھانے، بدعنوانی اور خیانت سے اجتناب کرے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ایک خوشحال اور خودمختار افغانستان کی تعمیر کے لیے اسلامی تعلیمات اور جدید علوم پرواز کے دو پر ہیں۔ امارت اسلامیہ تدبر اور منصوبہ بندی کے ذریعے ان دونوں اہم شعبوں کو ایک صحت مند تعلیمی نظام میں باہم مربوط کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ آج ہمارے نوجوان ایک محفوظ ماحول میں، مغربی ثقافتی یلغار سے دور، اپنی مضبوط اسلامی شناخت بھی سیکھ رہے ہیں اور عصرِ حاضر کے اعلیٰ ترین معیار کے علوم حاصل کرکے خود کو ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ ایسی علم دوست، ماہر اور پُرعزم نسل کی تربیت آنے والے برسوں میں افغانستان کی بقا، عزت اور ترقی کی ضامن ہوگی۔


















































