بلوچ آریائی اقوام کے اُس قدیم گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو گزشتہ تین ہزار برس سے بحیرۂ عرب کے ساحل کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے خطۂ بلوچستان کی وسیع صحرائی اور پہاڑی سرزمین پر آباد ہیں۔ ان کی ایک منفرد زبان، تہذیب، روایات، قبائلی ساخت اور زندگی کے اپنے مخصوص اصول ہیں۔
بلوچ ایک باوقار، وفادار، مہمان نواز، وعدے کے پکے، صابر، آزادی پسند اور اپنی تہذیب و ثقافت سے گہری وابستگی رکھنے والی قوم ہے۔ تاریخ کے طویل اور پُرآشوب ادوار میں بڑے بڑے سیاسی، معاشی اور علاقائی تغیرات کے باوجود انہوں نے اپنی شناخت، ثقافت اور تاریخی حیثیت کو محفوظ رکھا ہے۔ اپنی آزادی، دین، سرزمین، تہذیب اور ثقافت کے دفاع کے لیے انہوں نے ہر جارح کے خلاف شجاعت اور غیرت کی تلوار اٹھائی، اور آج تک کسی بھی حملہ آور کی بالادستی کو دل سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔
ساتویں صدی عیسوی میں، خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی لشکر اس خطے میں پہنچے تو بلوچ بتدریج اسلام سے مشرف ہوئے۔ وفاداری، غیرت، حمیت اور مہمان نوازی جیسے بلوچوں کے فطری اوصاف اسلامی اقدار سے نہایت ہم آہنگ تھے، اسی لیے اسلام کو انہوں نے اپنی رضا و رغبت سے قبول کیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد بلوچوں نے اس دینِ حق کی اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان اپنی اہم جغرافیائی حیثیت کے باعث انہوں نے اسلام کو دریائے سندھ اور اس کے اطراف کے علاقوں تک پہنچایا۔ اموی اور عباسی خلافتوں کے ادوار میں بھی انہوں نے اسلامی سلطنت کی سرحدوں کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دیں اور صدیوں تک دینِ اسلام کے پیغامبر، محافظ اور سچے عاشق بنے رہے۔ بلوچ مجاہدین کی شجاعت اور قربانیاں اسلامی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہیں۔
بلوچ پہلی مرتبہ ایک متحد اور مضبوط ریاست کی صورت میں میر نصیر خان بلوچ کی قیادت میں ابھرے۔ میر نصیر خان بلوچ ایک مدبر اور بصیرت کے مالک سیاسی رہنما تھے جنہوں نے بلوچ قبائل کو متحد کیا، ایک منظم بلوچ فوج تشکیل دی، انتظامی ڈھانچے اور اصلاحات نافذ کیں، منتشر بلوچ طاقت کو یکجا کیا اور قبائلی سرداروں، اہلِ علم اور دینی علماء کو اپنے گرد جمع کیا۔ ریاست کے داخلی و خارجی امور اور اہم فیصلے دینی اصولوں، بلوچ روایات اور ریاست و قبائل کے اجتماعی مفادات کی بنیاد پر انہی علماء، سرداروں اور دانشوروں کی مشاورت سے انجام پاتے تھے، جن کی قیادت خود میر نصیر خان بلوچ کرتے تھے۔
میر نصیر خان بلوچ احمد شاہ بابا کے ہم عصر تھے اور ۱۷۴۷ء سے ۱۷۹۴ء تک ریاستِ قلات کے طاقتور اور بااثر حکمران رہے۔ درانی سلطنت کے ساتھ ایک معاہدے کی بنیاد پر، جو ’’معاہدۂ قلات‘‘ کے نام سے معروف ہے، ریاستِ قلات ایک باوقار اتحادی ریاست تھی جو اپنے تمام داخلی معاملات میں مکمل خودمختاری رکھتی تھی۔ ریاستِ قلات کا یہ دور، خصوصاً میر نصیر خان کی حکمرانی، بلوچستان کی تاریخ کا ایک ترقی یافتہ، پُرامن، خوشحال اور روشن عہد تھا۔ اس زمانے میں بلوچ ثقافت، تہذیب، معیشت، زبان اور ادب نے نمایاں ترقی کی، اور بلوچ قبائل ایک باعزت اور آسودہ زندگی کے حامل بنے۔
برطانوی استعمار کے دور میں ریاستِ قلات بھی خطے کی دیگر ریاستوں کی طرح اپنی مکمل آزادی برقرار نہ رکھ سکی۔ انگریزوں نے معاہدۂ مستونگ کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستِ قلات کے بعض علاقوں اور اُن اہم اسٹریٹجک راستوں پر قبضہ کرلیا جو بلوچستان سے گزرتے تھے۔ تاہم قلات ایک نیم خودمختار ریاست کے طور پر قائم رہی، جس میں داخلی معاملات میں آزادی حاصل تھی جبکہ خارجی امور میں انگریزوں کا غلبہ تھا۔ برطانوی استعمار کے خاتمے اور ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے قیام تک ریاستِ قلات کی یہی نیم خودمختار حیثیت برقرار رہی؛ یہ ایک استعمار شدہ سرزمین نہیں تھی۔
۱۹۴۷ء میں پاکستان کے قیام اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی کے آغاز کی کہانی دراصل دھوکے، جھوٹ، خیانت، ظلم، ناانصافی، سازشوں اور سیاسی بداعتمادی کا وہ سیاہ باب ہے جس میں پاکستان کے نام سے وجود میں آنے والی نئی ریاست کی سیاسی و عسکری اشرافیہ کی بددیانتی اور غلامانہ ذہنیت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے۔




















































