پاکستان اِس وقت اپنے سیاسی اور معاشی وجود کے ایک ایسے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ریاستی ڈھانچے کو بیک وقت شدید داخلی تضادات اور گہرے مالیاتی بحران کا سامنا ہے۔ جولائی 2023 میں فوجی رجیم کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کراچی میں مقتدر تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ایک بڑے وفد سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی کارپوریٹ لہجے میں دعویٰ کیا تھا کہ:
‘ملکی معیشت ایک سال کے اندر بحالی کے رَن وے پر دوڑتے ہوئے اُڑان بھر لے گی۔’ اُنہوں نے ساتھ ہی عوام کو مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مایوسی کفر ہے’۔
تاہم تین سال بعد اکتوبر 2026 کی موجودہ زمینی صورت حال اُن کے دعووں کے بالکل برعکس ایک ہولناک منظرنامہ پیش کرتی ہے، جہاں عالمی اداروں کی دستاویزات اور ملکی حقائق فوجی رجیم کے تزویراتی فیصلوں اور معاشی نتائج کے مابین گہرے تضاد کو واشگاف کر رہے ہیں۔ گویا معیشت کا جہاز رَن وے پر دوڑتے ہوئے ‘سکردو کے مخصوص پہاڑوں جتنی بلند اُڑان’ کیا بھرتا، وہ زمین بوس (Crash Land) ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی بینک اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ معاشی رپورٹس کے مطابق پاکستان اِس وقت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل وسیع تزویراتی خطے (MENAAP) میں غربت کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ واشگاف الفاظ میں بتاتی ہے کہ اس پورے خطے میں تین ڈالر روزانہ سے کم کمانے والے غریبوں کی کل تعداد کا اکیلے اڑتالیس فیصد حصہ پاکستان میں مقیم ہے، جب کہ ملکی سطح پر قومی غربت کی شرح بائیس فیصد سے بڑھ کر انتیس فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سات کروڑ سے زائد پاکستانی خطِ غربت سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی طرح اقوامِ متحدہ کے کثیر الجہتی غربت کے اشاریے (MPI) کے مطابق ملک کی اڑتیس اعشاریہ تین فیصد آبادی صحت، تعلیم اور بنیادی معیارِ زندگی سے یکسر محروم ہے۔ علاقائی موازنہ پاکستان کی اِس تنزلی کو مزید واضح کرتا ہے۔
کیوں کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب علاقائی پڑوسیوں نے اپنی طویل مدتی معاشی پالیسیوں سے کروڑوں انسانوں کو غربت سے نکالا ہے، وہاں بھارت میں یہ شرح سولہ اعشاریہ چار فیصد اور بنگلہ دیش میں چودہ اعشاریہ نو فیصد تک محدود ہو چکی ہے، جو پاکستان کی فوجی رجیم کی پالیسیوں کے عقلی معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اِس معاشی زوال کا ایک نمایاں سبب وہ تزویراتی تضاد بھی ہے، جو ستمبر 2023 میں نگران حکومت اور فوجی رجیم کی جانب سے وضع کردہ ‘اَن لیگل فارنرز ریپیٹریشن پلان’ (غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے منصوبہ) کی شکل میں سامنے آیا۔ اس فوجی رجیم بیانیے کے تحت ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور وسائل کی قلت کا ذمے دار افغان مہاجرین کو ٹھہراتے ہوئے لاکھوں پناہ گزینوں کو زبردستی ملک بدر کیا گیا، لیکن اِس کے نتائج فوجی رجیم کی نام نہاد پالیسی کے بالکل برعکس نکلے۔
معاشی ماہرین کے تجزیوں کے مطابق یہ افغان باشندے پاکستان کی غیر رسمی معیشت… بالخصوص ٹرانسپورٹ، ہول سیل مارکیٹ، تعمیرات اور زراعت کے شعبوں میں سستے مزدور اور فعال کاروباری عنصر کے طور پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ اِن کے اچانک انخلا نے پاکستان کی معیشت میں سپلائی چین کو شدید متاثر کر کے ملکی معیشت کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دیا۔
مزید برآں کابل میں امارت اسلامیہ پر تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) جیسی تنظیموں کی سرپرستی کا الزام عائد کرنے کی نام نہاد خارجہ پالیسی کے نتیجے میں ڈیورنڈ لائن پر بارہا فوجی جھڑپیں اور فضائی کارروائیاں ہوئیں، جنہوں نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کی باہمی تجارت کے دروازے کر کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی معاشی کی صورت حال کو مزید بدترین کر دیا۔
داخلی سطح پر بدامنی اور توانائی کے بحران، بالخصوص بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جہاں ہزاروں فیکٹریاں بند ہونے سے لاکھوں دیہاڑی دار مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اِس صنعتی زوال کے باعث بڑے مقامی سرمایہ کاروں اور کثیر القومی کمپنیوں نے اپنا سرمایہ سمیٹ کر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے محفوظ ممالک کا رخ کر لیا ہے۔
اس بڑے پیمانے پر ہونے والے سرمائے کے فرار (Flight of Capital) نے اکتوبر 2026 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو اِس حد تک نچوڑ دیا ہے کہ ملک باقاعدہ دیوالیہ ہونے کے گہرے سائے کے پھندے سے لٹک رہا ہے۔
اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوجی رجیم اور سیاسی قیادت اب بھی قلیل مدتی امداد کی روایتی نام نہاد تزویراتی پالیسیوں پر انحصار کر رہی ہے، جس کے تحت واشنگٹن میں امریکی حکومت سے دس ارب ڈالر کے ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فنڈ’ کی درخواست کی گئی ہے، جو نائن الیون کے بعد امارت اسلامیہ کے خلاف امریکا کا ساتھ دینے جیسی فوجی خدمات کے عوض مالی پیکج حاصل کرنے کے پرانے اور ‘روایتی کرایہ دارانہ طرزِ عمل ‘ کا تسلسل ہے۔
اسی طرح ملکی اِمپورٹ بِل کو سنبھالنے کے لیے ریاض میں سعودی حکومت سے پندرہ سال کی طویل مدت کے لیے تقریباً چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر مالیت کے اُدھار تیل کی سہولت مانگی گئی ہے، تاہم خلیجی ممالک کی جانب سے اب تک کسی حتمی منظوری کا نہ آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ‘دوست ممالک بھی اب پاکستان کو بلا مشروط مالی مدد فراہم کرنے سے کترانے لگے ہیں۔’
بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور معاشی تجزیہ کاروں کا متفقہ خیال ہے کہ پاکستان کے اِن تمام معاشی، سیاسی اور خارجہ پالیسی کے بحرانوں کی اصل وجہ ملکی فیصلہ سازی، معیشت اور طرزِ حکومت پر فوجی رجیم کا کنٹرول، بلکہ حد سے زیادہ کنٹرول اور تمام فیصلوں کو خالص معاشی اصولوں کے بجائے ‘جنگ سے پیسہ کمانے پر مبنی دماغ’ سے دیکھنے کی پالیسی ہے۔
افغان مہاجرین کے انخلا کے باوجود ملک میں غربت کا بڑھتا ہوا طوفان یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کی جڑیں پناہ گزینوں میں نہیں… بلکہ ناقص معاشی منصوبہ بندی، صنعتی زوال، سیاسی عدمِ استحکام اور ملک کے تمام اداروں میں فوجی رجیم کے ریٹائرڈ افسر جاتی کارندوں کی تعیناتیوں میں پیوست ہیں۔
جب تک ملک میں حقیقی اسلامی بالادستی، سیاسی استحکام اور بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں اور فوجی رجیم کو بیرکوں میں واپس نہیں بھیجا جاتا، تب تک بیرونی قرضوں اور عارضی پیکجز پر انحصار پاکستان کو دیوالیہ پن کے اِس مستقل چکر سے آزاد نہیں کروا سکتا۔


















































