ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تاحال جاری ہے، اور حالات روز بروز بہتری کے بجائے عدمِ تحفظ اور خونریزی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس نے مجموعی طور پر خطے کی تجارت، معیشت اور باہمی تعلقات کو متاثر اور کمزور کر دیا ہے۔ اس جنگ میں مشرقِ وسطیٰ اور عرب ممالک کی سرزمین، تجارت کے ساتھ ساتھ، ان طاقتوں کی کشمکش اور مقابلہ بازی کی نذر ہو چکی ہے، جس کے باعث تیل کے ذخائر اور سمندری تجارت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ابتدا سے لے کر اب تک، مشرقِ وسطیٰ اور عرب سرزمین ان ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور عسکری دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر اس جنگ کے نقصانات اور خسارے عرب ممالک ہی برداشت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی جنگ کا مرکز بھی یہی خطہ ہے۔ اس جنگ کا دوسرا پہلو، جس کے پوشیدہ مقاصد تھے، اب واضح ہو چکا ہے: امریکہ یہ چاہتا تھا کہ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک طاقتور قوت کے طور پر مضبوط کیا جائے۔
ایران نے اس خطرے کو محسوس کیا، کیونکہ اس نظام کی مضبوطی نہ صرف جزیرۂ عرب کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ اس خطے میں ایران کے مفادات اور موجودگی کو بھی چیلنج کرتی ہے۔
جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کے ذخائر تک اس کی رسائی خطرے میں پڑ گئی۔ اسی طرح عرب دنیا میں اس کا عسکری وجود اور اثر و رسوخ بھی کمزور پڑنے لگا ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر اپنی کچھ قوت کھوتا ہوا نظر آتا ہے، جبکہ اسرائیلی رجیم بھی کمزوری کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس جنگ کی سب سے خوفناک جہت یہ ہے کہ حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ باہمی دفاع کے بجائے اقوام کی تباہی اور نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بڑی طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں اور جیت و ہار کے دہانے پر ہیں۔ ثالثی اور پُرامن حل بین الاقوامی اداروں کی پہنچ سے باہر دکھائی دیتا ہے۔
اب انہیں فیصلہ کرنا ہوگا: اگر ایران طاقت کے بجائے کمزوری کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے مفادات اور داخلی سیاسی قوت کھو دے گا۔ اور اگر امریکہ سخت مؤقف اور عسکری فیصلے نہیں کرتا تو یہ جنگ اس کے زوال اور طاقت میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔




















































