تاریخ میں واپسی کے تصور کا مقدمہ!
دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے بیچوں بیچ بعض اوقات ایسی چیزیں نمودار ہوتی ہیں جو بظاہر نئی دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کی روح پرانی ہوتی ہے؛ جیسے تاریخ اپنے اسباق بار بار دہراتی ہے اور ہمیں گہرے غور و فکر کی طرف بلاتی ہے۔ ’’داعش‘‘ کے نام سے معروف گروہ بھی انہی مظاہر میں سے ایک ہے، جس نے عالمِ اسلام اور پوری انسانیت کو ایک خونریز اور خوفناک چیلنج سے دوچار کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ گروہ واقعی نیا اور بے بنیاد تھا؟ یا اس کے عقائد و اعمال کی نشانیاں تاریخ کے اوراق میں تلاش کی جا سکتی ہیں؟
یہ تحریر اس یقین پر مبنی ہے کہ داعش کو سمجھنا صرف موجودہ دور کے واقعات تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ ضروری ہے کہ ہم ماضی کی طرف پلٹیں اور اس وقت کا جائزہ لیں جب امتِ مسلمہ کے اندر پہلا بڑا اختلاف رونما ہوا؛ جب ایک گروہ ’’خوارج‘‘ کے نام سے ابھرا۔ خوارج نے دین کو سخت گیر اور بے رحم انداز میں پڑھا، صرف خود کو سچا مسلمان سمجھا اور دوسروں کو کافر قرار دیا۔ انہوں نے اپنی تلواریں نہ صرف دشمنوں پر، بلکہ اپنے کل کے ساتھیوں پر بھی چلائیں اور نوخیز اسلامی معاشرے میں تفرقہ اور خونریزی کے بیج بوئے۔
آج، صدیاں گزرنے کے بعد، اُن ابتدائی خوارج اور موجودہ داعش کے درمیان خوفناک مماثلتیں نظر آتی ہیں؛ تکفیری نظریے اور دوسروں کے انکار کی منطق سے لے کر پرتشدد طریقوں اور وحشت ناک اعمال تک، تاکہ مخالفین کو ڈرایا جا سکے۔ یہ مماثلت اتفاقی نہیں بلکہ ایک تباہ کن سانچے کے زندہ رہنے کی علامت ہے، وہ سانچہ جو جب بھی فکری اور سماجی اسباب مہیا ہوں، نئی شکل اور جدید لباس میں سامنے آ جاتا ہے۔
اس تحریر کا مقصد صرف خونریزی اور ظلم کی داستان سنانا نہیں، بلکہ اس سوچ کی جڑوں کا سراغ لگانا اور اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ داعش کوئی منفرد اور نیا گروہ نہیں، بلکہ اسی پرانی سوچ کی ’’واپسی‘‘ ہے جو جدید شکل اور ترقی یافتہ ذرائع کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے۔ اس تاریخی رشتے کو سمجھنا اُن واقعات کی گہرائی کو جاننے کی کلید ہے جو ہماری دنیا کے ماضی اور مستقبل کے لیے ایک انتباہ ہے، تاکہ تاریخ کے اندھیروں سے پھر ایسی تاریکی نہ ابھرے۔
اس تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ حقائق کو منصفانہ اور مستند نقطۂ نظر سے پیش کیا جائے اور سادہ و روان زبان میں یہ پیغام دیا جائے کہ انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف جدوجہد، عسکری جنگ سے پہلے ایک فکری اور ثقافتی جنگ ہے؛ ایسی جنگ جس میں شعور اور سمجھ بوجھ ہمارے سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔
اس سلسلے میں اس گروہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا؛ اس کی تاریخی اور نظریاتی جڑوں سے لے کر عملی طریقوں اور تباہ کن نتائج تک۔ ہم دیکھیں گے کہ دونوں( قدیم وجدید) گروہوں نے کیسے دینی مفاہیم کا غلط استعمال کر کے اپنے تشدد کو جواز دیا اور آخرکار، تمام بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود کیسے اپنے بھیانک انجام سے دوچار ہوئے۔
امید ہے یہ تحریر، اگرچہ مختصرہو، مگر اس منحوس گروہ کو گہرائی سے سمجھنے کی طرف ایک قدم ثابت ہو، اور ایسی دنیا کی تعمیر کی راہ ہموار کرے جو تشدد اور انتہا پسندی سے پاک ہو؛ ایک ایسی دنیا جہاں افہام و تفہیم، رواداری، تشدد اور تکفیر کی جگہ لے لے اور انسانیت ایک اعلیٰ قدر کے طور پر سب کے لیے قابلِ احترام ہو۔




















































