1. ملک چھوڑنے والے ارکان کی جانب سے امداد کا سلسلہ
داعش کی مالی معاونت کی اہم اور کم لاگت والی حکمتِ عملیوں میں سے ایک وہ طریقہ ہے جس کے تحت یورپ کے وہ شہری جو داعش میں شامل ہونے کے لیے شام، عراق یا دیگر جنگی علاقوں میں جاتے ہیں، یورپ چھوڑنے کے بعد بھی سماجی فلاحی رقوم حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس طریقے کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی بجٹ کے ذریعے داعش کے لیے مسلسل آمدنی کا بندوبست ہو سکے۔
سسٹم کے غلط استعمال کا طریقہ
اکثر یہ لوگ یورپ سے روانگی کے وقت درج ذیل سرکاری امداد بند نہیں کرواتے بلکہ جان بوجھ کر انہیں فعال چھوڑ دیتے ہیں:
۔ بے روزگاری الاؤنس (Unemployment Benefits)
۔ خاندان/بچوں کے الاؤنس (Family / Child Benefits)
۔ سماجی بہبود کی امداد (Social Assistance Allowances)
۔ معذوری/بیماری الاؤنس (Disability / Sickness Allowances)
میزبان ممالک کی ادارے یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ متعلقہ شخص اب بھی یورپ میں موجود ہے اور قانونی طور پر امداد کا حق دار ہے۔
یہ عمل کیسے ممکن ہوتا ہے؟
یورپ سے نکلنے والے افراد عام طور پر یہ کام کرتے ہیں:
۔ حکومت کو اپنے روانگی کی اطلاع نہ دینا
۔ اپنے بنک اکاؤنٹ کو فعال رکھنا
۔ جعلی پتے یا جعلی رابطہ معلومات استعمال کرنا
۔ خاندان یا ثالث کے ذریعے دستاویزات کی تجدید کروانا
۔ کچھ صورتوں میں جعلی شناخت کا استعمال
یوں یہ شخص جنگی علاقے میں بیٹھ کر ہر ماہ یورپ کے خزانے سے غیر قانونی آمدنی حاصل کرتا رہتا ہے۔
*2: رقوم کی منتقلی کے طریقۂ کار*
(الف) Facilitators / سہولت کاروں کے ذریعے پیسے بھیجنا
زیادہ تر کیسز میں Benefit Fraud سے حاصل شدہ رقوم براہ راست داعش تک نہیں پہنچتیں، بلکہ انہیں مقامی اور بین الاقوامی سہولت کار (Facilitators) منتقل کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر:
۔ قابلِ اعتماد دوست
۔ خاندان کے افراد
۔ یا وہ شخص ہوتے ہیں جن کے داعش سے پرانے روابط ہوں۔
رقوم منتقل کرنے کا طریقہ:
1. بینک اکاؤنٹ سے رقوم نکالنا
سہولت کار اُس کارڈ یا آن لائن بینکنگ تک رسائی رکھتا ہے جہاں امدادی رقم جمع ہوتی ہے۔ وہ:
✓ اے ٹی ایم (ATM) سےرقم نکالتا ہے
✓ یا آن لائن ٹرانسفر کے لیے رقم تیار کرتا ہے۔
*2. نقد رقم کے لیے چینل تیار کرنا*
رقم نکالنے کے بعد اسے مالیاتی اسمگلروں کے حوالے کیا جاتا ہے جو:
۔ سرحدی راستوں
۔ مسافروں
۔ یا تجارتی چینلوں
کے ذریعے نقد رقم آگے بھیجتے ہیں۔
3. سفری یا اسمگلنگ راستوں کا استعمال
پیسے اکثر اس طرح پہنچائے جاتے ہیں:
✓ مسافروں کے سامان میں
✓ مقامی تاجروں کے ذریعے
✓ یا خفیہ اسمگلنگ راستوں کے ذریعے
اور اس طرح رقم شام، عراق یا دیگر جنگی علاقوں تک پہنچتی ہے۔
4. رقوم کی حتمی فراہمی داعش کو
جب رقم جنگی علاقے میں پہنچتی ہے تو:
✓ داعش کی مالیاتی کمیٹی اسے وصول کرتی ہے
✓ رجسٹر کرتی ہے
✓ اور اسے آپریشنز، تنخواہوں، پروپیگنڈا اور لاجسٹک ضروریات پر خرچ کرتی ہے۔
(ب) خاندان کے ذریعے رقوم بھیجنا:
یورپ سے جنگی علاقوں میں جانے والے کئی لوگ اپنے بینک اکاؤنٹس کا کنٹرول اپنے گھر والوں کو دے دیتے ہیں۔ خاندان کی مدد سے:
۔ بنیفٹ فراڈ (Benefit Fraud) سے رقم نکالنا
۔ نقد کرنسی میں تبدیل کرنا
۔ اور داعش تک پہنچانا
نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
طریقہ کار:
۔ خاندان کے افراد کو پیسے نکالنے اور استعمال کرنے کا اختیار دے دیا جاتا ہے۔
۔ متعلقہ شخص اپنا ATM کارڈ، آن لائن بینکنگ تک رسائی یا پیسے وصول کرنے کے دوسرے ذرائع خاندان کے حوالے کر دیتا ہے۔
۔ یوں حکومت کو شک نہیں ہوتا، کیونکہ رقم انہی کے اکاؤنٹ میں آتی رہتی ہے جنہیں قانوناً یورپ میں مقیم سمجھا جاتا ہے۔
رقم نکلوانا:
خاندان کے افراد ہر ماہ:
✓اے ٹی ایم (ATM) سے پیسے نکالتے ہیں
✓ یا بینک سے رقم نقد کرنسی میں تبدیل کرواتے ہیں
اور پھر اس کی ترسیل کا انتظام کرتے ہیں۔
حوالہ اور غیر رسمی مالیاتی نظام کا استعمال:
رقم پھر ان طریقوں سے بھیجی جاتی ہے:
۔ ہنڈی/حوالہ (غیر سرکاری اعتماد پر مبنی نظام)
۔ مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس
۔ تجارتی یا خفیہ مالیاتی بروکرز
یہ طریقے انتہائی کم کاغذی شواہد کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لیے ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
آخری مرحلہ: داعش کو رقم کی ترسیل
جب رقم جنگی علاقے تک پہنچتی ہے، تو:
۔ داعش کے مالیاتی ذمہ دار اسے وصول کرتے ہیں
۔ اور اسے آپریشنز، لاجسٹکس، تنخواہوں اور پروپیگنڈہ سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں۔




















































