افغان خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر دور میں انہیں جارحین کے خلاف مختلف شکلوں میں جدوجہد کے میدان میں لایا اور ہر جارح کو ان کے ہاتھوں شکست سے دوچار کیا۔
اب تک، جارحیت کے سدباب اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے افغان خندقوں میں رہتے تھے۔ اب ایک بار پھر وہ غیر ملکی جارحیت سے اسلامی سرزمین، سرحدوں اور حدود کی حفاظت کر رہے ہیں، جسے "رباط” کہا جاتا ہے۔ رباط کی اسلام میں خصوصی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
> "اللہ کی راہ میں رباط کا ایک دن دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے۔” (بخاری)
صحیح مسلم کے ایک روایت میں ہے:
> "ایک دن اور ایک رات کا رباط ایک ماہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر مجاہد رباط کی حالت میں فوت ہو جائے تو اس کے عمل کا ثواب جاری رہتا ہے، اور اگر وہ زندہ رہے تو اس کا رزق جاری رہتا ہے، اور وہ ‘فتان’ یعنی قبر کے عذاب یا فتنوں سے محفوظ رہتا ہے۔”
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
> "مرنے کے بعد بھی عمل کا تسلسل صرف مرابط مجاہد کی خصوصیت ہے، جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ صحیح مسلم کے علاوہ دیگر کتب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہر انسان کے عمل پر اس کی موت کے بعد خاتمہ کی مہر لگ جاتی ہے، سوائے مرابط مجاہد کے، جس کا عمل موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔” (امام نووی رحمہ اللہ کی صحیح مسلم پر حاشیہ)
ابو عزام عراقی نے ایک وصیت میں مجاہدین کے لیے یہ الفاظ لکھے:
> "اللہ کی راہ میں رباط کعبہ اور بیت المقدس کی مجاورت سے بہتر ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں رباط کی ایک رات مجھے حجر اسود کے پاس رات کے تہجد سے زیادہ پسند ہے۔ دیکھیں! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بہترین مقام پر بہترین عبادت سے رباط کی ایک رات کو ترجیح دی۔”
موجودہ وقت میں جب امارت اسلامیہ کے مجاہدین سرحدوں اور حدود کی حفاظت کر رہے ہیں، وہ نہ صرف مذکورہ فضیلت سے بہرہ مند ہیں بلکہ ان پر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ملک کے اہم مقامات کو کنٹرول کرتے ہیں جو سب سے پہلے جارحیت کا سامنا کرتے ہیں۔ انہیں اپنے کام کو اسی لیے ایک عظیم ذمہ داری سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک بے مثال اسلامی نظام اور غیرت مند مسلم قوم کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ دیگر فوجی دستوں کی طرح نہیں جو اپنے طاغوتی نظاموں کے دفاع کے لیے سرحدیں سنبھالتے ہیں۔
انہیں اس راہ میں مکمل استقامت اور نگرانی پر توجہ دینی چاہیے اور اپنے کام کو اسی طرح ایک ذمہ داری اور خصوصی فریضہ سمجھنا چاہیے جیسے وہ اس سے قبل عملی جہاد کو سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کی معمولی سی غفلت سے ملک کو بڑے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ ان کی پوری بیداری اور استقامت سے نہ صرف نظام مضبوط ہوگا بلکہ ملک بھی خطرات سے محفوظ رہے گا۔




















































