شجاع، زبردست اور پُختہ عقیدے کے حامل شہید سید منیر واهب تقبله اللہ ولد سید محسن صوبہ لوگر کے ضلع برکی برک کے گاؤں ہُسخیل کے رہائشی تھے۔ ۱۹۹۶ء میں انہوں نے ایک دیندار اور متدین خاندان میں اس فانی دنیا میں قدم رکھا۔
تعلیمی پس منظر:
شہید واهب تقبله اللہ نے اپنی پرائمری اور مڈل تعلیم اپنے گاؤں کے چلوذئی ہائی اسکول میں حاصل کی اور بارہویں جماعت تک تعلیم مکمل کی۔ بچپن سے ہی وہ دین، اخلاق اور پاکیزہ اسلامی عقیدے کے حامل تھے اور اسلامی اقدار سے گہری محبت رکھتے تھے۔
جہاد کا آغاز:
جب غیر ملکی دشمنوں کے قبضے نے افغان وطن کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ہر مسلمان افغان کی سکون کی نیند چھین لی، تو شہید سید منیر واهب بھی حق کی راہ کے راہی مجاہدین کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے ۲۰۱۴ء میں امارت اسلامیہ کی صفوں میں اپنی جہادی جدوجہد کا آغاز کیا اور بڑے اخلاص، بہادری اور عزم و استقامت سے اس راستے پر گامزن رہے۔
جہادی میدان میں:
شہید واهب تقبله اللہ بہت خوش اخلاق، نیک دل اور جری انسان تھے۔ جہاد سے ان کی محبت بے شمار تھی، یہاں تک کہ جب کبھی تشکیل کی طرف روانہ ہونے کا وقت آتا تو وہ بے حد خوش ہوتے اور اگر کبھی تشکیل سے پیچھے رہ جاتے تو بہت غمگین ہو جاتے۔ ان کی جرات اور بہادری ان کے ساتھیوں کے لئے حیران کن تھی۔ وہ اپنے ساتھیوں میں اخلاص، تقویٰ اور بہادری کی وجہ سے مشہور تھے۔ ہمیشہ جنگ کے میدان میں اولین صف میں ہوتے اور کبھی بھی خطرے سے منہ نہیں موڑتے تھے۔
ننگرہار کی تشکیل:
جب داعشی خوارج کے خلاف آپریشن شروع ہوئے، تو لوگر کے مجاہدین کا دستہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد بھیجا گیا۔ شہید واهب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچے اور بہت بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی قیادت میں دشمن کے متعدد مورچے فتح کر لیے گئے اور انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ شہید واهب نے اس آپریشن میں فعال حصہ لیا اور شجاعت کے ساتھ کئی کامیاب کارنامے سرانجام دیے۔
ساتھیوں سے محبت:
شہید واهب ہمیشہ اپنے قریبی ساتھیوں کو تاکید کرتے رہتے کہ ان کے گھر والوں کو ان کی شہادت کی خبر نہ دیں، یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ جہاد سے کتنی محبت رکھتے تھے۔ ساتھیوں کے مطابق جب وہ جنگ کے لیے روانہ ہوتے تو سب کو اخلاص کے ساتھ الوداع کہتے اور دعاؤں کی درخواست کرتے۔
آخری جنگ اور شہادت کے لمحات:
رات کی تاریک چادر ابھی سمیٹی نہیں گئی تھی کہ جنگ کی آگ دوبارہ بھڑک اُٹھی۔ پہاڑوں کی خاموشی بدوقوں کی گھن گرج سے ٹوٹ گئی اور بارود کی بو فضا میں پھیل گئی۔ دشمن کے مورچوں سے مسلسل گولیاں چل رہی تھیں، مگر مجاہدین پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرح ڈٹے ہوئے تھے۔
اس معرکے کے سخت لمحات میں بھاری ہتھیاروں کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور مارٹر کے استعمال کی ضرورت پیش آئی۔ ساتھیوں نے آواز لگائی کہ کون یہ ذمہ داری سنبھالے گا؟
بات ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ واہب تقبلہ اللہ نے بہادری کے ساتھ کہا:
“میں جا رہا ہوں، تم لوگ اپنے کام پر توجہ دو۔”
انہوں نے مارٹر کے گولوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور موت کی جانب بے پرواہ قدموں سے چل دیے۔ دشمن کے مورچوں پر درست انداز میں مارٹر برسانے شروع کر دیے۔ ہر گولا دشمن کے مورچوں پر آگ بن کر برس رہا تھا۔ مگر تقدیر کچھ اور ہی لکھ چکی تھی۔
جب واہب تقبلہ اللہ اپنی پوزیشن بدل رہے تھے تو اچانک زمین سے آگ کا ایک شعلہ اٹھا اور دشمن کی دفن کردہ بارودی سرنگ پھٹ گئی۔
واہب شدید زخمی ہو گئے، مگر ان کا عزم اب بھی برقرار تھا، خون کی سرخ دھاروں میں وہ صفِ اوّل سے نیچے اتر آئے، جیسے زخمی باز اب بھی پرواز کا ارادہ رکھتا ہو۔
ساتھیوں نے انہیں جلد منتقل کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے پرسکون لہجے میں کہا:
“مجھے نیچے مت اتارو! میں تو ویسے بھی شہید ہونے والا ہوں، تم لوگ میرے ساتھ تکلیف میں پڑ جاؤ گے!”
مگر محبت کرنے والے ساتھیوں نے ان کی ایک نہ مانی اور انہیں علاج کے لیے لے چلے۔
ابھی راستہ آدھا بھی نہ طے ہوا تھا کہ ان کی زندگی کی شمع آہستہ آہستہ بجھنے لگی۔ اور بالآخر وہ جوانمرد مجاہد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کر کے شہادت کی ابدی نیند سو گیا۔ نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ
پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر ان کے خون سے پھول کھل اٹھے اور بہادری کی ایک نئی داستان تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو گئی۔ رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ
شہادت کی تاریخ اور مقام:
شہید سید منیر واہب تقبلہ اللہ نے ۱۹ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو صوبہ ننگر ہار کے ضلع شیرزاد سے مربوط علاقے میں شہادت کا شرف حاصل کیا۔
خصوصیات:
شہید واہب تقبلہ اللہ خوش اخلاق، متواضع، بہادر اور مخلص مجاہد تھے۔ ساتھیوں سے محبت، دین سے اخلاق اور جہاد سے لگاؤ ان کی شخصیت کے اہم پہلو تھے۔ وہ ہمیشہ سب سے پہلی صف میں رہتے، مشکلات کے سامنے صابر اور مقصد کی راہ میں ثابت قدم رہے۔
رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ
اللھم تقبلہ من الشھداء




















































