چناں چہ یہاں علمائے کرام کے فتاویٰ اور مظلوم قوم کے اعتماد و ردِعمل کے درمیان تعلق کو ایک اَور اہم منطقی و فکری پہلو سے سمجھنا ضروری ہے، جو اس پورے مسئلے کی روح کو نکھار کر سامنے لاتا ہے۔
تحریکوں کو روکنے والے فتاویٰ کے حوالے سے اصل معرکۃ الآراء سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
‘کیا شریعت کے ترازو میں مذکورہ علماء کا کردار متوازن اور برابر ہے؟’
جب علمائے کرام مظلوم کی طرف سے کھڑی ہونے والی ردِعمل کی مسلح مزاحمت کو انارکی اور فتنہ اور اس کا خدشہ قرار دے کر اس کے خلاف شد و مد سے فتاویٰ جاری کرتے ہیں تو کیا ان کی جانب سے اِسی شدت، تسلسل اور جرأت کے ساتھ ظالم ریاست، اس کے جابر حکام اور ناانصافی کرنے والے اداروں کے خلاف بھی شرعی محاکمے اور فتاویٰ سامنے آتے ہیں؟
اگر ترازو کا ایک پلڑا (مظلوم کو روکنا) تو نصائح اور فتاویٰ کے بوجھ سے زمین پر جھکا رہے اور دوسرا پلڑا (ظالم کو ظلم سے روکنا) ہوا میں معلق رہے یا ریاستی مصلحتوں کی نذر ہو جائے تو مظلوم قوم کا دینی و اخلاقی اعتماد اِس علمی طبقے سے اٹھنا فطری امر ہے۔ چوں کہ شریعت اور اس کا علم کسی خاص طبقے، قبیلے یا خاندانی مسند کی شخصی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ایک آفاقی اور فطری علم ہے، جسے مظلوم بھی حاصل کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔
لہذا جب مظلوم قوم یہ دیکھتی ہے کہ علماء کا نصابِ فتاویٰ صرف جائز مسلح مزاحمت کے ہاتھ باندھنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور ظالم کے ستم پر خاموشی کی چادر تانی گئی ہے تو وہ اِن یک طرفہ فتاویٰ کو قبول نہ کرنے کا شرعی جواز تلاش کر لیتی ہے۔
مظلوم طبقہ قرآن و سنت کے عالم گیر اصولوں (حقِ دفاع، قصاص اور عدل) کی روشنی میں یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ:
‘جب ہماری داد رسی کا کوئی در کھلا نہیں اور فتاویٰ دینے والے بھی ظالم کا ہاتھ روکتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے تو اپنے حقوق اور وجود کا تحفظ ہمارا بنیادی اور شرعی فریضہ ہے۔’
ایسے نازک موڑ پر مظلوم قوم اِس توکّل اور ایمانی یقین کے ساتھ مسلح مزاحمت کا راستہ اپناتی ہے کہ چوں کہ وہ صاحبِ حق اور مظلوم ہے، اِس لیے نصرتِ الٰہی اِس کے ساتھ ہوگی۔ اگر ایک طرف علمائے کرام ‘صرف خانہ جنگی جیسے امکانی خدشات’ کی بنیاد پر تحریک کو جاری رہنے سے روکتے ہیں تو دوسری طرف مظلوم خود کو حاصل حقِ دفاع کی بنیا پر یہ امید اور یقین رکھتا ہے کہ:
‘اللہ تعالیٰ اِس کی نیت اور مجبوری کو دیکھتے ہوئے نہ صرف اِس کمزور کی غیب سے مدد فرمائے گا، بلکہ اِس جائز دفاعی تحریک کو کسی فتنہ، ہائی جیک ہونے یا ملک کو خانہ جنگی میں دھنسنے سے بھی محفوظ رکھے گا۔’
جب کہ دوسری طرف تاریخ بھی گواہ ہے کہ جب دنیا میں کوئی حکومت ظالم بن جاتی ہے تو اُس کے پاس وسائل ہمیشہ مظلوم قوم سے کہیں زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ اگر صرف ‘وسائل کی کمی’ یا ‘انارکی کے اندیشے’ کو عذر بنایا جاتا تو تاریخِ اسلام کا کوئی بڑا معرکہ برپا ہی نہ ہو سکتا۔
انگریز کے دورِ استعمار میں ہندوستان کے جلیل القدر عالم شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ نے ‘تحریکِ ریشمی رومال’ کی بنیاد رکھی۔ برطانوی حکومت کے پاس بے پناہ وسائل، فوج اور جدید ترین اسلحہ موجود تھا اور علماء کو توپوں کے آگے باندھ کر اُڑایا جا رہا تھا، لیکن اس کے باوجود شیخ الہند اور مولانا عبید اللہ سندھی نے مسلح مزاحمت کی باقاعدہ منصوبہ بندی افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کی، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ غاصب ظالم کے سامنے خاموشی اُس کے ظلم کو دوام دیتی ہے۔
مسلح مزاحمت انارکی میں کب بدلتی ہے؟
واضح رہے کہ مسلح مزاحمت خود بخود فتنہ یا خانہ جنگی نہیں بنتی۔ یہ اُس وقت تباہی کا باعث بنتی ہے… جب اس تحریک کی باگ ڈور ایسے ‘قوم پرست، دنیا پرست یا غیر تربیت یافتہ لوگوں’ کے ہاتھ میں چلی جائے، جن کے پاس دین کی سوجھ بوجھ ہو اور نہ ہی انسانی جان کی حرمت کا احساس۔ جب تحریکوں کا مقصد صرف انتقام بن جائے تو وہ عام شہریوں، بچوں اور غیر متعلقہ لوگوں پر بھی حملے شروع کر دیتی ہیں، جو کہ شریعت میں سخت حرام اور فساد فی الارض ہے۔
اس کا سب سے بڑا حل یہ ہے کہ:
‘ایسی جائز اور ضروری مسلح مزاحمت کی قیادت بجائے خود باکردار، متقی اور راسخ العلم علمائے کرام کے ہاتھ میں ہو۔ یعنی علمائے کرام مظلوم کو مزاحمت سے روکنے کے لیے فتاویٰ جاری کرنے کے بجائے خود مظلوم کا دست و بازو بن جائیں ان کی قیادت سنبھال لیں۔’
چناں چہ جب علمائے کرام خود ایسی تحاریک کی قیادت کرتے ہیں تو:
وہ تحریک کو ذاتی اور قومی مفادات کے لیے ہائی جیک ہونے سے بچاتے ہیں۔
وہ شریعت کی حد بندیوں (عام شہریوں، عورتوں، بچوں اور غیر جنگجوؤں کو نقصان نہ پہنچانے جیسے اصولوں) پر سختی سے عمل کرواتے ہیں۔
وہ تحریک کا رخ صرف ‘دفعِ ظلم’ اور ‘انصاف کے قیام’ تک محدود رکھتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی معاصر مثال افغانستان کی امارتِ اسلامی کی 20 سالہ جدوجہد ہے۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور (امریکا) اور 47 اتحادی ممالک تھے اور دوسری طرف وسائل سے محروم، لیکن ایمانی قوت اور علمائے کرام کی منظم قیادت میں لڑنے والے لوگ اور مجاہدین تھے۔ اس مزاحمت نے نہ صرف دشمن کو شکست دی، بلکہ منظم دینی نظم و ضبط کی وجہ سے ملک کو مستقل خانہ جنگی میں دھنسنے سے بھی بچا لیا۔
ایمانی اتحاد اور نبوی بشارت:
اجتماعی مظلومیت کے اس موڑ پر سب سے اہم چیز ‘ایمانی قوت’ اور ‘اتحاد’ ہے۔ جیسا کہ سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر 4297 میں ذکر ہے۔
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
‘عنقریب دیگر اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی، جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
صحابہ نے عرض کیا:
‘اے اللہ کے رسول! کیا اُس وقت ہماری تعداد کم ہوگی؟’
آپ ﷺ نے فرمایا:
‘نہیں۔ بلکہ تم اُس دن بہت زیادہ ہو گے، لیکن تم سمندر کے جھاگ کی طرح بے وزن ہوگے۔ اور اللہ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمھارا خوف نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’وہن‘ ڈال دے گا۔’
پوچھا گیا:
‘وہن کیا ہے؟’
فرمایا:
‘دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔’
یہ حدیثِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ مسلمان جب آپس میں بکھر جاتے ہیں اور دنیاوی آرام یا خوف کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں تو وہ ظلم کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔
چناں چہ ایک مظلوم کے لیے شریعتِ اسلامیہ بزدلی، لاچاری اور ظالم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا نام نہیں ہے۔ اگر عدلیہ ناکام ہو جائے، ریاست خود ظالم بن جائے اور اصلاح کا ہر راستہ بند کر دیا جائے تو اپنے حقوق اور وجود کی بقا کے لیے مسلح مزاحمت کرنا مظلوم کا انسانی، فطری اور شرعی حق بن جاتا ہے۔
شرط صرف اتنی ہے کہ یہ مزاحمت جذباتیت یا دنیاوی مفادات کی بھیٹ نہ چڑھے، بلکہ اس کی قیادت ایسے باعمل علمائے کرام اور متقی لوگ کریں، جو اتحادِ امت کی فضا قائم کریں۔ ایمانی طاقت کو بیدار کریں اور جنگی اخلاقیات کی پاس داری کرتے ہوئے مظلومین کے لیے حقیقی عدل، امن اور خیر کا ذریعہ بنیں۔

















































