امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جس میں اس نے پاکستانی فوجی کمانڈروں کی تعریف کی ہے، ایک تلخ اور شرمناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ شخص، جس کا کردار خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ حالات میں جرائم، خونریزی اور قابض قوتوں کے ساتھ تعاون سے بھرا ہوا ہے، اب اُن لوگوں کی تعریف کر رہا ہے جو برسوں سے افغانستان کے بے گناہ شہریوں کو ان کے گھروں، ہسپتالوں اور اسکولوں میں شہید کر رہے ہیں۔
یہ تعریف محض ایک سادہ سیاسی بیان نہیں، بلکہ مجرم قوتوں اور ان کے علاقائی ایجنٹوں کے درمیان ایک گہرے اور خطرناک اتحاد کی علامت ہے۔ جب ٹرمپ کے ہاتھ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوں اور وہ پاکستانی مجرموں کی تعریف کرے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے: یہ تعریف کس لیے ہے؟ کیا بے دفاع لوگوں کے قتل کے لیے؟ کیا افغانستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے؟ یا خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مذموم مقاصد کے نفاذ کے لیے؟
ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران امریکی خارجہ پالیسی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ اس نے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کر کے فلسطینیوں کے خون کو حلال قرار دیا۔ اس نے جولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کر کے خطے کے بحران کو مزید بڑھایا۔ اس نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے نبرد آزما کر دیا۔ اس نے ایران پر فوجی حملے کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند دیا، اور غزہ کے لوگوں کے قتلِ عام پر نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ اس کے ذمہ داروں کے ساتھ تعاون بھی کیا۔
یہی ٹرمپ آج پاکستانی فوجی کمانڈروں کو “غیر معمولی کارکردگی” کا حامل قرار دیتا ہے۔ کون سی غیر معمولی کارکردگی؟ کیا کابل کے “امید” ہسپتال پر بمباری کر کے ۴۰۰ بے گناہ مریضوں کاو شہید کرنا؟ کیا صوبہ کنڑ میں شہریوں کے گھروں پر گولہ باری اور میزائل حملے کر کے عورتوں اور بچوں کو خون میں نہلانا؟ کیا افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے داعش جیسی تنظیموں کی پشت پناہی؟ یہ شرمناک تعریف اس بات کی غماز ہے کہ ٹرمپ اور اس کے حامی انسانیت کے خلاف جرائم کو بھی “کارنامہ” سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی تعریف اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کی متنازع پالیسیوں کے درمیان ایک واضح اور ناقابلِ تردید تعلق موجود ہے۔ ٹرمپ اور اس کے صہیونی حواری جنوبی ایشیا میں ایک ایسی کرائے کی فوج کے محتاج ہیں جو ان کے مقاصد کو پراکسی کے طور پر آگے بڑھائے۔ جس طرح اسرائیل، امریکہ کی پشت پناہی سے فلسطینیوں کو شہید کر رہا ہے، اسی طرح پاکستان بھی انہی طاقتوں کے تعاون سے افغانستان کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ ایک مربوط چال دکھائی دیتی ہے: ایک محاذ مغربی ایشیا (فلسطین) میں اور دوسرا جنوبی/وسطی ایشیا (افغانستان) میں۔ دونوں محاذوں پر قربان ہونے والے عام مسلمان شہری ہیں، جبکہ جلاد وہ کٹھ پتلیاں ہیں جن کی ڈوریں دوسروں کے ہاتھوں میں ہیں۔ ٹرمپ پاکستانی کمانڈروں کی تعریف اس لیے کرتا ہے کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ “امریکہ کے سپاہی” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ میں “جھوٹے ثالث” کا کردار ادا کرتے ہیں تاکہ اسرائیلی مفادات کو تقویت ملے، اور افغانستان میں جلاد کا کردار ادا کرتے ہیں تاکہ مشرقی پڑوسی بد امنی اور افراتفری میں ڈوب جائے۔
پاکستانی فوجی رجیم طویل عرصے سے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی کرائے کی طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ رجیم ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں امن اور جنگ بندی کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جنگ کے ہر اصول اور انسانی اقدار کو پاؤں تلے کچلتا ہے۔ جس طرح ٹرمپ اور اسرائیل فلسطین میں ہسپتالوں پر بمباری کرتے ہیں، اسی طرح پاکستان نے بھی کابل میں نشے کے عادی مریضوں کے “امید” ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ جس طرح صہیونی رجیم غزہ میں سکولوں اور عوام کے گھروں کو تباہ کر رہی ہے، پاکستانی رجیم بھی افغانستان کے صوبوں کنڑ، پکتیا اور خوست میں سکولوں اور عوام کے گھروں کو مارٹر اور بموں کے حملوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ مربوط جرائم اتفاقی نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہین۔ ایسی منصوبہ بندی جس میں عالمی طاقتیں پراکسی رجیم کا استعمال کر کے مسلمانوں کا خون بہاتی ہیں اور انہیں غربت، بد امنی اور پسماندگی میں دھکیلتی ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے مجرم کمانڈروں کی تعریف صرف عارضی سیاسی فائدے تک محدود نہیں، بلکہ ٹرمپ بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان امریکہ کی علاقائی سیاست میں ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کرتا ہے، افغانستان کی جانب امریکہ کے لیے لاجسٹک راہداری کی فراہمی سے لے کر انٹیلی جنس ایجنسیوں (سی آئی آئے اور موساد) کے ساتھ تعاون تک
ٹرمپ اس تعریف کے ذریعے درحقیقت پاکستان کو ہری جھنڈی دکھا رہا ہے کہ اپنے جرائم جاری رکھے، کیونکہ یہ جرائم امریکی اسٹریٹیجک مفادات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے بیانات میں بالواسطہ طور پر یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس کی نظر میں ایک افغان یا فلسطینی کی جان کی کوئی قیمت نہیں، بلکہ وہی چیزیں اہم ہیں جو عالمی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کے مفادات کو یقینی بنائیں۔
یہ شرمناک حکمت عملی نہ صرف خطے کے بحرانوں کے حل میں کوئی مدد نہیں کر سکتی بلکہ نفرت اور تشدد کی آگ کو مزید بھڑکاتی اور پھیلاتی ہے۔ افغان بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان یہ جرائم اکیلے سر انجام نہیں دے رہا بلکہ اس کی پشت پر امریکہ اور اسرائیل کا بھرپور تعاون موجود ہے۔ اور ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی کمانڈروں کی تعریف اس دعوے کا واضح اور قوی ثبوت ہے۔ یہ تعریف در حقیقت مریضوں کے قتلِ عام کی توثیق ہے۔ کنڑ کے عوام کے گھروں پر بمباری کی توثیق ہے، افغانستان میں داعش جیسی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی توثیق ہے اور ان تمام جرائم کی توثیق ہے جو پاکستانی رجیم نے مظلوم افغان عوام کے خلاف کیے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ خطے کی اقوام، بالخصوص افغان اور اہل فلسطین، اس سیاہ کھیل کو بخوبی پہچانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ اور اس جیسے دیگر لوگ غزہ اور کابل میں ارتکاب کیے جانے والے جرائم میں کوئی فرق نہٰں کرتے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمانوں کا خون ایک جیسا اور بے قیمت ہے۔
مگر تاریخ کبھی ان جرائم کو فراموش نہیں کرے گی۔ ایک دن ضرور آئے گا جب یہ جلاد اور ان کے حواری اللہ تعالیٰ اور تاریخ کے سامنے جواب دہی کے لیے بلائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
“وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ”
یعنی یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے۔
یہ الہی وعہدہ مضلوموں کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے اور ٹرمپ اور پاکستانی کرائے کی رجیم جیسے مجرموں کے لیے سب سے بڑی انتباہ ہے جنہوں نے ظلم اور خونریزی کی راہ اختیار کر رکھی ہے۔




















































