گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں امریکہ کی سربراہی میں مسلم اور غیر مسلم ممالک کے ایک سلسلہ وار اجلاس کا انعقاد ہوا، جس میں “بورڈ آف پیس” (یعنی امن کونسل) کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے قیام پر گزشتہ ایک سال سے غور و فکر اور کوششیں جاری تھیں، جو اب عملی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ادارے کے اختیارات اور دائرۂ کار کیا ہوں گے اور یہ کہاں تک پھیلے گا؟
ابتدا میں یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ یہ ادارہ صرف غزہ کی سکیورٹی سے متعلق کام کرے گا اور وہاں جاری خونریزی کو روکنے اور ایک پُرامن فضا قائم کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن کل یہ بات سامنے آئی کہ بورڈ آف پیس کا کردار صرف غزہ تک محدود نہیں ہوگا۔ اگرچہ اس ادارے کا منشور ابھی واضح نہیں، تاہم بعض مغربی میڈیا ادارےے اس کے منشور کے چند نکات منظرِ عام پر لائے ہیں، جن کی روشنی میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ پوری دنیا میں سکیورٹی کے قیام کے لیے اقدامات کرے گا اور ہر ملک میں امن و استحکام کے لیے تعاون کرے گا۔
ان ہی ذرائع کے مطابق اس ادارے کا سربراہ امریکی صدر ہوگا، اور اس کے ساتھ پانچ دیگر اعلیٰ شخصیات شامل ہوں گی، جن میں ٹرمپ کے داماد، امریکی وزیرِ خارجہ اور برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم شامل ہیں۔ ویٹو کا حق صرف امریکہ کے پاس ہوگا۔ اس کونسل کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے، اور یہ رکنیت صرف تین سال کے لیے ہوگی، البتہ جو ممالک زیادہ رقم ادا کریں گے ان کی رکنیت میں توسیع کی جائے گی۔ کونسل میں گفتگو اور ایجنڈا طے کرنے کا اختیار بھی صرف امریکہ اور اس کے صدر کے پاس ہوگا۔
اس وقت سب سے پہلے اسرائیل کو اس ادارے کی رکنیت دی جا چکی ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور پاکستان سمیت بعض مسلم اور دیگر ممالک نے بھی رکنیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس کے برعکس یورپ کی اکثریت اور فرانس نے اس کی رکنیت سے انکار کر دیا ہے۔ روس نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ اگر اس کے منجمد اثاثے آزاد کر دیے جائیں تو وہ رکنیت کے لیے تیار ہے، جبکہ چین نے اس ادارے کے قیام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے رکنیت قبول نہیں کی۔
نئی قائم ہونے والی امن کونسل ابتدا میں غزہ کے لیے ایک ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دے گی، جو غزہ کی تعمیرِ نو اور موجودہ تباہی کو دور کرنے کا کام انجام دے گی۔ اس کے بعد یہ ادارہ دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہوگا۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان کی حکومت بھی اس میں شامل ہوئی، اور اس کی رکنیت کی دستاویز پر کل دستخط کیے گئے اور اس کی توثیق کی گئی، جس پر پاکستان میں سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اس فیصلے کے حامی افراد سب سے پہلے امن کونسل کے قیام کی ایک بڑی فکری بنیاد بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ اور سکیورٹی کونسل اس حد تک ناکام ہو چکی ہیں کہ نہ ان کے پاس مؤثر عملی طاقت ہے اور نہ ہی وہ ظالم کو ظلم سے روک سکتی ہیں۔ اس لیے ایک ایسے طاقتور ادارے کی ضرورت تھی جو سکیورٹی کے قیام کے لیے سنجیدہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں فیصلہ کن اختیار رکھنے والے صرف پانچ ممالک ہیں، جن میں کوئی بھی مسلمان ملک شامل نہیں، بلکہ مسلمان ممالک کو تیسرے درجے پر رکھا گیا۔ ان کے بقول اس کی وجہ یہ تھی کہ اقوامِ متحدہ اور اس سے پہلے لیگ آف نیشنز کے قیام کے وقت مسلمانوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور اس عمل میں تاخیر کی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے سب سے زیادہ فائدہ یورپ نے اٹھایا، اسی لیے وہ ٹرمپ کی امن کونسل کو شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے، جبکہ مسلمان ممالک جلدی میں اس عمل میں شامل ہو رہے ہیں تاکہ ماضی کی طرح ایک بار پھر تیسرے درجے تک محدود نہ ہو جائیں۔ پاکستان کی شمولیت کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں عوام اور خاص طور پر ملک کے خیرخواہ سیاست دان اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ اس عمل میں شمولیت کسی نہ کسی قیمت کے بدلے میں ہوئی ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط ہے اور پاکستان کی موجودہ معاشی حالت اس کی متحمل نہیں، اس لیے لازماً کوئی سودے بازی کی گئی ہوگی، جس کے نتیجے میں امریکہ یا اسرائیل نے یہ رقم اپنے ذمہ لی ہوگی۔
گزشتہ روز پاکستان کی پارلیمان میں ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کھلے الفاظ میں کہا کہ یہ کیسا امن فورم ہے؟ یہ غزہ میں امن کیسے قائم کرے گا جبکہ غزہ کی جنگ کے اصل ذمہ دار نیتن یاہو اور ٹرمپ ہیں اور یہی دونوں اس فورم کی مرکزی شخصیات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ نہ پارلیمان کو اعتماد میں لے کر کیا گیا، نہ عوام کو آگاہ کیا گیا، حتیٰ کہ کابینہ کے ارکان بھی اس سے لاعلم رہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ غزہ کے لیے بنائے گئے اس فورم میں نیتن یاہو موجود ہے لیکن فلسطین کی طرف سے کوئی فریق شامل نہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح اسرائیل کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے اور فلسطین کی آزادی کے تمام امکانات کو کچلا جا رہا ہے؟ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجے میں کہا تھا کہ اگر حماس نے بات نہ مانی تو اسے زمین سے مٹا دیا جائے گا، اور اسی وقت پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک خاموش رہے، بلکہ اسی دوران پاکستان نے اس فورم کی رکنیت پر دستخط کر دیے۔
ان کے مطابق چونکہ امریکہ اور اسرائیل فلسطین میں مزاحمت کو ختم کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اب یہ کام اس نئے فورم کے ذریعے مسلمان ممالک کے سپرد کیا جا رہا ہے، اور آئندہ حماس کا سامنا پاکستانی افواج سے ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی عوام میں اپنی فوج کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔
پاکستان کے ممتاز سیاسی تجزیہ کار مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ صرف اسرائیل کو مضبوط کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عالمِ اسلام میں امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھانا ہے۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر اس ادارے کا بنیادی کام دنیا بھر میں امن قائم کرنا ہے تو کل امریکہ ایران کو اپنا اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن قرار دے کر وہاں امن کے نام پر فوج داخل کرے گا، نظام کو تہس نہس کرے گا اور اپنے مفادات حاصل کرے گا، جبکہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو اس کے لیے استعمال کیا جائے گا اور وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکیں گے۔
مصطفیٰ کھوکھر کی یہ بات اس لیے بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ رکنیت کی تقریب میں پاکستانی نمائندے بار بار یہ کہتے رہے کہ پاکستان اب تک امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم رہا ہے اور ماضی میں بھی ہمیشہ امریکہ کا وفادار رہا ہے۔ حالانکہ یہاں ضرورت اس بات کی تھی کہ پاکستان اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بناتا، لیکن اس کے لیے اصل ترجیح امریکہ کو خوش کرنا ہے، چاہے اس کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑے، اس کے اقدامات کی حمایت کرنی پڑے، کسی مسلم ملک کو روندنا پڑے یا اپنے ہی شہریوں کو ناحق اور ظالمانہ طریقے سے قتل کرنا پڑے۔ مبصرین کے مطابق اسی وجہ سے اس عمل میں شمولیت پاکستان کے وقار کے لیے شدید نقصان اور زوال کا سبب بن سکتی ہے۔




















































