یہ قصہ ہے آج سے ڈھائی عشرے قبل کا ، جب ستمبر کے مہینے میں امریکا کے اندر دو تعمیریں طیاروں کے تصادم.سے زمین بوس ہوگئی تھیں اور ان میں امریکی حکام کے بقول ہزاروں افراد جل بن کر راکھ بن گئے تھےـ اس واقعہ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی تھی اور یا ہوتی ہے یہ عقدہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے پر آج بھی کھلنے کا نام نہیں لے رہاـ لیکن اس وقت دنیا کی بادشاہت کے دعویدار اور طاقت کی گھمنڈ سے سرشار امریکی صدر نے اپنی انتظامیہ سمیت اندھا دھند طریقہ پر افغانستان پر الزام لگایا اور افغانستان میں تازہ ترین قائم ہوئی اسلامی حکومت کو مورد الزام ٹھرایاـ امریکی صدر بڑے ہی رعونت آمیز لہجہ میں خطاب کرتا تھا اور جو اس کی جی میں آتا بلا تردد میڈیا کے سامنے کہہ ڈالتاـ اس نے افغانستان کو تباہی وبربادی اور بخرہ ہونے کے عمل سے بچانے والی حکومت کو دھمکی آمیز لہجہ میں خبردار کیا کہ تم نے جس عرب شہزادے کو مہمان بنایا ہے اسے جلد از جلد ہمارے حوالہ کردو! ورنہ میں اینٹ سے اینٹ بجاوں گا اور پھر تم کہیں کا نہ رہوگےـ اس نے اپنے زعم میں جو منصوبہ ترتیب دیا تھا اس کی رو سے واقعتا بھی کوئی کہیں کا نہیں رہ پاتا تھاـ اس کا دعوی تھا کہ واقعہ تمھارے عرب مہمان کا کیا دھرا ہے اور اسی کے دماغ سے نکلا ہوا ہےـ اس لئے بہر کیف اس کی حوالگی از حد ضروری ہےـ
جواب میں افغان سرزمین پر حاکم نظام اور اس کے راس میں حاکم اسلامی نظام کے سربراہ نے اس دعوی کے دلائل مانگے اور نہایت ہی شائستہ لہجہ میں پیغام بھیجا کہ ہم نے جس عرب کو مہمان بنایا ہیں وہ ہمارے لئے ایک بھائی کی حہثیت رکھتے ہیں اور اس کے کئے دھرے کی ذمہ داری واقعتا ہمارے کاندھوں پر آتی ہےـ لیکن پہلے یہ تو ثابت ہوجائے کہ اس نے کچھ کیا بھی ہے یا محض دھونس اور دھوکہ ہے اور ایک منظم سازش کے ذریعہ ان کا نام لے کر ایک اور منصوبہ زیر عمل پایہ تکمیل تک پہنچایا جارہا ہے؟ انہوں نے بڑے ہی احترامانہ انداز سے دنیا بھر کی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے تجویز دی کہ اگر واقعتا مہمانِ گرامی سے ایسا کام سرزد ہوا ہے اور امریکی حکام کے پاس اس کے ثبوت ہیں تو ہم تیار ہیں کہ امریکی حکام کے نمائندوں کی موجودگی میں اسے عدالت کے حوالہ کردیں اور ہماری اسلامی شرعی عدالت کیس کو اسلامی اصولوں کے مطابق نمٹادےـ اور اگر ہماری عدالت پر کسی کو شبہ ہے تو پھر ہم یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ کسی بھی اسلامی ملک کی عدالت یہ کیس نمٹادے ـ ہاں مگر ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمیں پریشر کے تحت مجبور کیا جائے اور اپنی من چاہی خواہشات ہم پر مسلط کرےـ ہم جہاں مسلمان ہیں اور ایک بلند اسلامی تاریخ کا امتیاز رکھتے ہیں وہیں ایک ایسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں جس کی رگ رگ حمیت ایمانی سے لبریز ہے اور جس کا چپہ چپہ شہداء کے لہو سے معطر ہےـ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مسلمان کی حفاظت کے لئے ہم حلومت اور حاکمیت کو قربان کرسکتے ہیں مگر اصولوں پر سودا کا سوچ بھی نہیں سکتےـ
مگر اس معقول اور منطقی تجویز پر امریکی حکام مزید بگڑ گئےـ اور بگڑنے کی وجہ بھی تھی کہ اس وقت تقریبا آدھی دنیا اس کے سامنے سر بسجود تھی ـ وہ جو فرمان صادر کرتے دنیا اس کے سامنے لبیک وسعدیک کی صدا بلند کرتی ـ عقل ومنطق سے کوسوں دور ہر بات پر بز اخفش کی طرح ہاں میں ہاں ملاتی اور اندھی تقلید کی نت نئی مثال قائم کرتی ـ اس لئے امریکی صدر نے ان تجاویز کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف طاقت کی زبان کا سہارا لیا اور دھمکی پر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آخری دفعہ الٹی میٹم دے رہا ہوں ـ اور اگر مہمان کو ہمارے قبضہ میں نہ دیا تو پھر وہ ہوگا جو کسی نے نہ دیکھا ہوگاـ گویا وہ بزبانِ حال کہہ رہا تھا کہ آگِ نمرودی کے شعلے بھڑک اٹھیں گے اور ابراہیمی وجود کو اس کے اندر ضرور بالضرور اس کے اندر دھکیلا جائے گاـ چنانچہ اس کے لئے پہلے دباو کے تمام تر حربے آزمالئے گئےـ دنیا جہاں کی ساری معاشی پابندیاں لگا لی گئیں ـ ملکوں سے تمام سفارتی تعلقات بزور وجبر منقطع کروا لئے گئےـ پوری دنیا کو مطلع کیا کہ اب ہم افغانستان پر چڑھائی کرنے جارہے ہیں ـ تمھارے سامنے دو ہی آپشن ہیں کہ ہم کو چن لو یا پھر انتقام کی آگ میں تم بھی جھلسنے کے لئے تیار ہوجاوـ
بالآخر سات اکتوبر ۲۰۰۱ ء کو وہ سیاہ دن آ پہنچا جس میں ترقی یافتہ دنیا کی تمام تر ٹیکنالوجی یکجا ہو کر مظلوم افغانستان پر دھاوا بولنے کے لئے متحرک ہوگئی اور صنعتی انقلاب کے دعوے سے لے کر آج تک دنیا کو جس طرح اس ٹیکنالوجی کے فضائل بتائے گئے تھے وہ آج تباہی و بربادی برپا کرنے کے لئے دنیا کو اپنا کرشمہ عملا دکھانے واسطے آگے بڑھی ـ جس نے آبادی کا انقلاب لانا تھا وہ تباہی کے دہانے پہنچانے کے کام پر مامور ہوگئی ـ ٹینک اور طیارے ان گنت بارودی مواد سے لدے ہوئے بسوئے افغانستان روانہ ہوگئےـ عالم کفر اور عالمِ اسلام نے ہر جگہ حد سے بڑھ کر استقبال کے ساتھ ساتھ اپنی بھی نفری اور ہر طرح کی مادی قوت سے ان کی کمر مضبوط کی ـ بہت جلد یہ قافلہ افغانستان آ پہنچا اور لمحوں میں یہاں کی فضاء اور زمین بارود و آہن کی آلودگی سے معمور کیاـ
جس شاہانہ ٹھاٹھ باٹ سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا اور جو فرعونی لہجہ اس کے پیچھے کار فرما تھا اس کے نتیجہ میں بیس سال مسلسل افغانستان کے بے بس عوام پر بمباری جاری رہی ـ جس میں حکومتی ڈھانچہ سے لے کر عام گھروں اور خیموں تک، عسکری تنصیبات سے لے کر تعلیمی اداروں اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق تمام عام المنفعہ انفراسٹرکچر تک ہر جگہ نشانہ بنی اور بھسم ہوگئی ـ انسانوں کی کیا تفریق، مرد وزن، جوان بوڑھے اور بچے بلکہ جانوروں تک بھی بچے نہ رہے اور ہر ایک کو اس فرعونی عذاب کا مزا چکھایا گیاـ زندہ انسانوں کو اذیت دینے لئے الگ قسم کی جیلیں بنائی گئیں ـ دنیا سے دور ایک اور دنیا میں بسا لئے گئے جہاں کھلم کھلا انہیں تمام انسانی حقوق اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم رکھا گیاـ تاکہ کسی طرح انہیں جھکنے پر مجبور کیا جائےـ ساتھ میں سرزمین افغانستان پر سب سے بڑا تعمیری بلکہ شاہکاری کارنامہ جو سرانجام دیا گیا وہ یہ کہ ہر چوک و چوراہے پر ایک قید خانہ بنایا گیا تاکہ جو زندہ انسان نظر آئے اسے اس میں اذیت در اذیت رکھا جائےـ الغرض اس کشت وخون کے جنونی منظر میں ہزاروں اور لاکھوں سے بڑھ کر ملیون انسان جام شہادت پاگئے اور آدھی آبادی عقوبت خانوں کا مزا چکھ کر زندگی کی تمام لذتوں سے محروم رہی ـ لیکن بایں ہمہ کسی نے جھکنے کا نام لیا اور نہ ہی زبان پر شکوہ کے الفاظ لائےـ اسلام کی حمیت اور بیرق کو بلند وبالا رکھنے کے لئے جس سے جو بن پڑا وہ کر گزراـ جان کی ضرورت پڑی تو پیش کیاـ اولاد کا نذرانہ دینے کا مرحلہ آیا تو اصحاب رسول کی یاد تازہ کردی ـ ہجرت، فقر وفاقہ اور مشکلات جھیلنے کی نوبت درپیش ہوئی تو مصیبت کو سہارا دیاـ جیلیں بھرنے کی ٹھوکر کھانی پڑی تو عزیز ازجان جوانی اور زندگی نذر کردی ـ مسلسل جہد پیہم لگی رہی ـ استعماری ٹولہ سے برسرِ پیکار زندگی کا ہر طبقہ رہاـ ٹینک اور طیارے کے مقابلہ میں خالی ہاتھ یا پتھر ہی سہی مگر لمحہ بھر کے لئے مزاحمت خاموش نہ رہی ـ
دو دہائیاں ایک فرعونی خواہش کی تکمیل کا مرحلہ جاری رہاـ اس خواہش کی تکمیل کے پیچھے مادیات کا طومار اور وسائل کا بھرمار تھاـ مگر اس کے مد مقابل مزاحمت تھی ـ مزاحمت کیا تھی؟ کن وسائل سے مالامال تھی؟ یہ سوال جب پاکستان میں افغانستان کے سفیر اور بعد میں بدنامِ زمانہ.جیل گوانتنامو کے اسیر ملا عبدالسلام ضعیف سے کیا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ ہمارے پاس اس فرعونی خواہش کے مقابلہ آڑے آنے کے لئے مضبوط قسم کا ایمان اور کوہِ پیما جیسا عزم موجود ہےـ جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ـ اور اسی سوال کے جواب میں امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا جو آئندہ نسلوں کے لئے تاریخ ساز بن گیا اور زبانِ زد عام وخاص بن گیاـ ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمیں کامیابی کا وعدہ دلایا ہے اور بش ہمیں ذلت کی وعید سنارہا ہےـ ہمیں اللہ کے وعدے پر کامل یقین ہے اور بہرکیف اللہ کا وعدہ واقع ہو کر رہے گاـ اور پھر چشمِ فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ جو لوگ طاقت کے نشہ میں دھت مست تھے وہ مذاکرات کی بھیک مانگنے لگےـ جنھوں نے وقت کے نمرود اور فرعون بن کر آگ کے شعلے فخر سے بھڑکائے تھے وہ اپنی آگ میں ایسے جھلسادئیے گئے کہ پھر واپس لوٹنے کو محفوظ راستے کی دہائی دینے لگے ـ بیس سال کے طویل عرصہ میں زر وزور کا بے تحاشا استعمال جو کیا اور جو توانائی پاس تھی وہ پوری کی پوری اس طشت میں انڈیل دی ـ مگر وہ ان مردانِ ہمت پر کارگر نہ ہوئی الٹا ان کی کمزوری کا باعث بنی ـ بھاگنے پر مجبور کرتی رہی اور بالآخر رات کے گھپ اندھیرے میں دم دبا کر ایسے بھاگے کہ دنیا حیرت زدہ اور انگشت بدندان دیکھتی رہ گئی ـ
یہاں آکر عقل کی بھی باچھیں کھل جاتی ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اور عقل کی ماتم بھی بلاوجہ نہیں ہےـ کہ ایک طرف مادیات کا طومار ہےـ وسائل کی بھرمار ہےـ ٹیکنالوجی اور جدید آلات اور ہتھیاروں کی یلغار ہےـ زر وزور کا بے دریغ استعمال ہورہا ہےـ دسیسہ اور تبلیغات کا بے تحاشا عمل آگے بڑھ رہا ہےـ جبکہ دوسری طرف چند بے سروسامان سرپھرے ہیں ـ جو ہر طرح کی مادی قوت سے تہ دست ہیں ـ زمین دشمن اور آسمان دشمن والی فضاء میں زندگی کے ایام کاٹ رہے ہیں مگر پھر سینہ سپر ہو کر تمام تر دسیسوں کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن رہے ہیں ـ مگر یہ بھی کچھ زیادہ تعجب اس لئے نہیں ہے کہ ان کے پاس ایمان کی فولادی قوت ہےـ عزم مستحکم ہےـ اپنی مٹی کی اسلامی محبت سے معمور اور اسلام کے تند وتیز جذبہ سے سرشار ہیں ـ اس لئے ان کے مقابل جس نے بھی آنا ہے اور جس شان سے بھی آنا ہے انہیں کوئی مسئلہ اس لئے نہیں ہے کہ مرکر بھی جیتے ہیں اور ان کا مقابل زندہ رہ کر بھی ذلیل ہےـ ہاں مگر فرق یہ کہ بات کرتے ہیں تو نہایت ہی معقول انداز میں اور دلائل کی روشنی میں اور فریق مقابل کو مادیات کا غرور ہوتا ہے اس لئے وہ عقل ومنطق کو پس پشت ڈال کر اتراتا ہے اور اکڑ دکھاتا ہےـ یہ الگ بات ہے کہ پھر اس کا غرور اس کے زوال کا سبب بنتا ہے اور اسے اپنا غرور ہی موت کی کھائی میں ڈال دیتا ہےـ آج جبکہ سات اکتوبر کے سیاہ دن کی مناسبت سے ذکر ہورہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان آج بھی عقل ومنطق کی بات کرتا ہےـ شستہ لہجہ اور مہذب طرز گفتگو کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ـ مگر کچھ ناعاقبت اندیشوں کو آج بھی طاقت کا گھمنڈ ہےـ اور اکڑ دکھانے لگے ہیں ـ اس سیاہ دن کی مناسبت سے انہیں بھی آنکھیں کھول لینی چاہیے اور دو دہائیوں پر محیط ظلم وجبر کی طویل داستان اور اس کے مقابلہ میں جاندار مزاحمت اور شاندار قربانیوں کا از سر نوجائزہ لینا چاہیےـ تاکہ گھمنڈ پھر خاک میں ملا نہ دےـ



















































