اگر افغانستان کے ہمسایہ ملک پاکستان کی تشکیل اور اس کے تسلسل کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ اس ملک نے نہ صرف افغانستان بلکہ اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی کبھی حسنِ نیّت کا برتاؤ نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ ہمسائیگی کے اصولوں کو پامال کیا ہے۔
اس کے علاوہ، اس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس نے کبھی بھی اپنے عوام کی آواز یا اُن کے جائز مطالبات کی طرف کان نہیں دھرے۔ ممکن ہے کہ آج پشتونخوا یا پشتون جنہیں ہر طرح کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور جو پاکستانی فوجی جبر کے سائے تلے زندگی بسر کرتے ہیں، اسی طرح پنجابیوں کے علاوہ دیگر قومیتیں بھی اپنے بنیادی حقوق اور امتیازات سے محروم ہوں۔
یہ ملک جو ہمیشہ فوج کے زیرِ اثر رہا ہے اور جس کے پسِ پردہ ایسے عسکری حکمران کارفرما رہے ہیں جو اپنے سپاہیوں کو ہر قیمت پر قابض قوتوں اور عالمی مغرض طاقتوں کے ہاتھ پیسوں کے عوض کرائے پر دیتے ہیں؛ اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنے اور ایک مصنوعی قومی شناخت دکھانے کے لیے بعض مصنوعی اقدامات بھی کرتا ہے، لیکن افسوس کہ آج یہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر رسوائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل، ہمسایہ اور علاقائی ملکوں کو خوف زدہ کرنے اور سیاسی لابنگ کے لیے ہمیشہ بیرونی گروہوں کی سرپرستی کی ہے، جبکہ اپنے ہی عوام کی جائز جدوجہد اور مطالبات کو دہشت گردی کا نام دیا ہے۔ یہاں چند مثالیں قابلِ ذکر ہیں:
داعش:
داعشی خوارج آج کی دنیا کا ایک جدید فتنہ ہیں، جو اسلام اور شریعت کی بدنامی کے لیے سی آئی اے اور دیگر خفیہ اداروں کی سرپرستی میں وجود میں لائے گئے۔ آج یہ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان اور دیگر خطوں میں وقتاً فوقتاً حملے کرتے ہیں۔ پاکستانی خفیہ ادارے منظم انداز میں داعش کے جنگجوؤں کی تربیت کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کریں، انہیں خطّے اور دنیا کے لیے خطرہ بنا کر پیش کریں، اور پھر انہی کو کچلنے کے نام پر عالمی طاقتوں سے ڈالرز میں فنڈنگ اور اسٹریٹیجک تعاون حاصل کریں۔
اس کا تازہ ثبوت پشاور میں نصرت نامی ایک اہم داعشی کمانڈر کی ہلاکت ہے، جو موسیٰ پہلوان کے نام سے مشہور تھا اور وہاں ’’پہلوان‘‘ نامی ایک دہشت گرد مرکز کا سربراہ بھی رہ چکا تھا۔ پاکستان کے حساس ترین علاقوں میں فوج اور خفیہ اداروں کی سرپرستی میں یہی داعشی خوارج بارہا کابل اور اس کے نواحی علاقوں کی طرف بھیجے گئے ہیں، اور ان کے پاس سے پاکستانی دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔
اسرائیل:
منصوبہ بندی اور پالیسی کے اعتبار سے پاکستان کے عسکری اسٹیبلشمنٹ اور اسرائیلی صیہونی رژیم میں کوئی خاص فرق نہیں، کیونکہ غزہ اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں اور جیلوں میں دونوں رژیموں کا طرزِ عمل یکساں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی حکومت، امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے، اسرائیل کے ساتھ دوستانہ اور قربت پر مبنی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
رواں برس اقوام متحدہ کی ۸۰ ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم خطاب کر رہا تھا، تو بہت سے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کے نمائندے احتجاجاً ہال سے نکل گئے، مگر پاکستانی وفد پوری رغبت کے ساتھ جوں کا توں بیٹھا رہا، اور اس کی یہی موجودگی غزہ میں اسرائیل کے تمام جرائم کی ایک طرح سے تائید بنی۔ حتیٰ کہ آج تک پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے مظالم کی مذمت اور فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک مختصر سا بیان بھی جاری نہیں کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں پاکستان داعشی خوارج کو اسرائیل کے لیے ایک کرائے کی جنگجو تنظیم کے طور پر پیش کرے، جیسا کہ اس کی مثال شام میں دیکھی گئی، اور متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد کئی مواقع پر داعش کی پشت پناہی اور اسے سہولیات فراہم کرتی رہی ہے۔
بلوچ:
پاکستان میں بلوچ آزادی پسندوں اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی جدوجہد کوئی نئی بات نہیں۔ اس تحریک کے وجود میں آنے کی اصل وجہ خود پاکستانی فوجی حکومتوں کا بلوچ عوام کے ساتھ ایک قومی حصہ سمجھنے کے بجائے ظالمانہ، تحقیر آمیز اور جابرانہ رویہ ہے، جس نے بالآخر اس گروہ کو مسلح جدوجہد پر مجبور کر دیا۔ آج تک وہ ایک مضبوط قوت کے طور پر لڑ رہے ہیں اور اب تک سینکڑوں پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینا، ان کی ضروریات پوری کرنا اور بلوچستان کی تعمیر وترقی کی طرف توجہ دینا ضروری تھا، مگر فوجی رژیم نے ہمیشہ انہیں دشمن کی نظر سے دیکھا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ بلوچ اپنی جدوجہد کے باعث اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ بلوچستان میں پاکستانی حکومت کی رٹ اور موجودگی کو کھل کر چیلنج کر رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی:
تحریک طالبان پاکستان بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ اس تحریک کی ایک محرک بھی بلوچ آزادی پسندوں کی طرح اپنی سرزمین اور وسائل پر اختیار کی خواہش ہے، جبکہ دوسری طرف یہ ایک دینی تحریک بھی ہے جو اسلامی شریعت کے نفاذ اور ایک اسلامی نظام چاہتی ہے۔
یہ ان کا بلا شبہ جائز حق ہے۔ اپنی جدوجہد کے دوران انہوں نے پاکستانی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے اور خود بھی بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی حکومت، مذاکرات کے معاملے میں بھی، اس گروہ پر قابو پانے کے لیے افغانستان کی امارتِ اسلامیہ سے مدد مانگ کر اپنی ذمہ داری سے بھاگنے کی ایک مثال پیش کرتی ہے۔ پاکستانی فوج نے کبھی بھی ٹی ٹی پی کے مطالبات یا پیغامات کو نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی مصالحت کے لیے سنجیدہ ارادہ دکھایا۔
اسی وجہ سے ٹی ٹی پی ایک خالص پاکستانی اور پاکستان کے اندر موجود مسلح تحریک کے طور پر دن بدن مضبوط ہو رہی ہے اور وسیع عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عسکری حکمران اس تلخ حقیقت کو تسلیم کریں، مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس کا الزام افغانستان پر نہ دھریں، کیونکہ امارتِ اسلامی اپنے اس عہد پر قائم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔
افغانستان:
افغانستان کو بھی سوویت فوجوں کے خلاف جہاد میں اور بعد ازاں امریکی قبضے سے آزادی کی جدوجہد میں پاکستان سے گلہ بھی ہے اور شکر گزار بھی؛ شکوہ اس بات کا کہ پاکستان نے کبھی افغانستان کی آزادی کی جدوجہد کا احترام نہ کیا بلکہ ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں رہا، اور ایک مستحکم افغانستان کا نعرہ صرف زبان تک محدود رکھا۔
شکر گزاری اس لحاظ سے کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور انہیں مہمان نوازی فراہم کی۔ اسی احترام کے باعث افغانستان نے ہمیشہ اسے برادر ملک سمجھا اور معاشی و تجارتی روابط میں بھی پاکستان کو دوسروں پر ترجیح دی۔ مگر آج جب افغانستان پاکستانی مصنوعات اور راستوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہے، تو اس کا سبب خود پاکستانی فوجی حکومت کی غلط پالیسیاں اور افغانستان میں قائم ہونے والے امن و استحکام سے اس کی دشمنی ہے۔
افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ قیام کے بعد حالات بدل چکے ہیں۔ یہاں چالیس سالہ جنگ ختم ہوچکی ہے، اور پہلی بار افغان قوم امن و ثبات میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ وہ بہتر موقع تھا کہ پاکستان کے اس دعوے کی عملی صورت سامنے آتی کہ ’’افغانستان کا استحکام، پاکستان کا استحکام ہے‘‘؛ مگر اس کے برعکس ایک پُرامن افغانستان نے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بے چین کر دیا۔ اسی بے چینی کے نتیجے میں اس نے کئی بار افغان سرزمین پر حملے کیے، جن کا جوابی اور مؤثر ردِعمل بھی ملا۔
اب پاکستان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس قسم کی شر انگیز پالیسیاں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، بلکہ عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی ساکھ مزید خراب کرتی ہیں اور ملک کو دنیا کی نظروں میں گراتی ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور ہمسایہ ممالک کے احترام کے حوالے سے سنجیدہ فیصلے کرے۔ دہشت گرد گروہوں اور کھوکھلے نعروں پر سرمایہ کاری کی پالیسی کو ختم کرنا ہو گا۔ افغان قوم سمجھ چکی ہے کہ صرف اتحاد اور اپنے موجودہ نظام کی حمایت ہی انہیں پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے اثر سے آزاد رکھ سکتی ہے۔
امارتِ اسلامی، اپنی معیشت پر مبنی خارجہ پالیسی اور متوازن حکمتِ عملی کے تحت تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ طاقت اور دھمکی کی زبان کو ترک کر کے سفارتی زبان اختیار کرے، جیسا کہ قطر اور ترکیہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں افغان وفد نے تمام اعتراضات کا تفصیلی جواب دیا، مگر پاکستانی وفد خود ہی مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا، اور اس بات کا ثبوت دیا کہ پاکستان کی سول حکومت ان فیصلوں کا اختیار نہیں رکھتی بلکہ ایک مخصوص عسکری حلقہ ہی ملک کو کنٹرول کرتا ہے۔
اگر پاکستان کی یہی پالیسی برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں، جب وہ بین الاقوامی اعتماد بھی کھو بیٹھے گا اور بھاری قرضوں اور معاشی عدم استحکام کے بوجھ تلے اپنا عوامی اعتماد بھی مکمل طور پر گنوا بیٹھے گا۔




















































