استعماری فوج سے پاکستانی فوج تک:
اگرچہ خود پاکستان کے قیام کو اب تقریباً اٹھتر سال ہونے والے ہیں، لیکن پاکستانی فوج کی بنیاد اس سے قریب ایک صدی قبل، سن ۱۸۴۹ء میں رکھی جا چکی تھی۔ شاید اسی وجہ سے یہ فوج نہ صرف عمر کے اعتبار سے اس ریاست سے لگ بھگ سو سال بڑی ہے بلکہ عملاً بھی ملک کے ہر شعبۂ زندگی پر گہرے اثرات اور ہمہ گیر غلبہ رکھتی ہے۔ یہاں فوج کو اصل اور باقی تمام اداروں کو اس کی فرع سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ پاکستانی فوج کی قبل از قیامِ پاکستان تقریباً سو سالہ تاریخ کو جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قیامِ پاکستان کے بعد اس کے کردار اور ارتقا کو سمجھنا ضروی ہے۔
برطانوی ہندوستان کی ’’صدارتی افواج‘‘:
۱۷۵۷ء میں جنگِ پلاسی میں کامیابی کے بعد برطانیہ نے بتدریج پورے ہندوستان پر اپنا تسلط مضبوط کرنا شروع کیا۔ برطانوی حکمران اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ ہندوستان پر ان کی بالادستی عوامی رضامندی سے نہیں بلکہ عسکری طاقت کے بل بوتے پر قائم ہے، اور اس اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے بھی مسلسل قوت کا سہارا لینا ناگزیر ہوگا۔
چنانچہ ہندوستان پر اپنے ناجائز تسلط کو دوام دینے کے لیے برطانیہ نے ایک منظم اور مضبوط فوج کی تشکیل پر توجہ دی۔ اگرچہ تاریخ میں طاقت کے ذریعے اقوام کو غلام بنانے کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن یہ ایک غیر معمولی امر تھا کہ کسی قوم کو اسی کے اپنے افراد کو سپاہی بنا کر محکوم کیا جائے۔
برطانیہ نے اہلِ ہند کو زیرِ نگیں رکھنے کے لیے ایسی فوج تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جس کی قیادت یورپی افسران کے ہاتھ میں ہو، جبکہ اس کے سپاہی مکمل طور پر ہندوستانی ہوں۔ اس فوج کو رفتہ رفتہ منظم کرتے ہوئے برطانیہ نے اسے تین ’’صدارتی افواج‘‘ (Presidential Armies) کی شکل دی، جو درج ذیل تھیں:
• بنگال آرمی
• بمبئی آرمی
• مدراس آرمی
مغربی ہندوستان (موجودہ پاکستان) پر برطانیہ کا قبضہ:
انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں تک برطانوی استعمار ہندوستان کے مشرقی، جنوبی اور وسطی حصوں پر اپنا قبضہ نسبتاً مضبوط کر چکا تھا۔ اس دور میں شمال مغربی خطے میں لاہور سکھ سلطنت کا مرکز تھا۔ اپنے عروج کے زمانے میں سکھوں کی حکومت موجودہ جغرافیائی نقشے کے لحاظ سے پاکستانی پنجاب، بھارتی پنجاب، کشمیر، صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اور پنجاب سے متصل سندھ کے بعض خطوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
اسی پس منظر میں ۱۸۲۵ء سے ۱۸۳۰ء کے درمیانی عرصے میں سید احمد شہید رحمہ اللہ کی قیادت میں تحریکِ مجاہدین نے سکھ اقتدار کے خلاف منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں مردان، بونیر، پشاور اور ان سے ملحق کئی علاقے سکھوں کے تسلط سے آزاد کرائے گئے، جہاں سید احمد شہید رحمہ اللہ کی امارت میں ایک باقاعدہ شرعی نظام قائم کیا گیا۔
۱۸۳۱ء میں سید احمد شہید رحمہ اللہ اور ان کے قریبی رفیق، ہم فکر اور برصغیر کے جلیل القدر عالمِ دین شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے سکھ اقتدار کے خلاف برپا کی گئی اسلامی اصلاحی و جہادی تحریک کے دوران بالا کوٹ کے مقام پر جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت اگرچہ بظاہر اس تحریک کے عسکری پہلو کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی، تاہم فکری اور دینی اعتبار سے یہ تحریک اپنے گہرے اثرات چھوڑ گئی، جس نے بعد کے ادوار میں مسلمانوں میں دینی بیداری، اصلاحِ عقائد اور استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا کیا۔ بالا کوٹ کے بعد یہ تحریک وقتی طور پر منتشر ہو گئی، مگر اس کے نظریاتی اثرات شمالی ہند اور سرحدی علاقوں میں طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔
دوسری جانب ۱۸۳۹ء میں سکھ سلطنت کے بانی اور طاقتور حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد سکھ ریاست شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گئی۔ درباری سازشیں، باہمی اقتدار کی کشمکش اور فوجی قیادت کے اختلافات نے سکھوں کی عسکری طاقت کو بری طرح کمزور کر دیا۔ اس اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے پنجاب کی جانب اپنی توسیعی پالیسی کو عملی شکل دی اور ۱۸۴۶ء میں پہلی انگریز سکھ جنگ اور ۱۸۴۹ء میں دوسری انگریز سکھ جنگ کے ذریعے سکھوں کی باقی ماندہ مزاحمت کو بھی ختم کر دیا۔ یوں ۱۸۴۹ء کے اختتام تک پنجاب سمیت سکھ سلطنت کا پورا علاقہ برطانوی اقتدار کے تحت آ گیا۔
اسی عرصے میں انگریز ایک طرف پنجاب اور سرحدی علاقوں (موجودہ خیبر پختونخواہ) میں اپنی گرفت مضبوط کر رہے تھے، تو دوسری طرف سندھ اور بلوچستان میں بھی اپنے سیاسی و فوجی تسلط کو وسعت دے رہے تھے۔ سندھ میں اس وقت تالپور خاندان کے مسلمان امراء کی حکومت قائم تھی، لیکن باہمی اختلافات، داخلی کمزوری اور سیاسی تقسیم کے باعث یہ ریاست دو حصوں؛ خیرپور اور میرپور میں بٹ چکی تھی۔ انگریزوں نے اس کمزور صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۱۸۴۳ء میں میانی کے مقام پر ایک فیصلہ کن جنگ کے بعد امرائے سندھ کو شکست دی، جس کے نتیجے میں سندھ کے ساحلی علاقوں سمیت اس کا بڑا حصہ برطانوی قبضے میں چلا گیا۔
اسی دوران انگریز ۱۸۳۹ء تک بلوچستان میں قلات پر بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے، اور ۱۸۴۲ء میں وہاں باقاعدہ ’’پولیٹیکل ایجنٹ‘‘ کا نظام نافذ کر دیا گیا۔ اس نظام کے ذریعے انہوں نے مقامی سرداروں کو زیرِ اثر لا کر بتدریج پورے بلوچستان میں اپنی بالادستی قائم کی، یہاں تک کہ ۱۸۷۶ء میں کوئٹہ بھی مکمل طور پر برطانوی اقتدار میں آ گیا۔ ان تمام فوجی اور سیاسی کارروائیوں میں انگریزوں نے بنیادی طور پر بنگال آرمی اور مدراس آرمی کو استعمال کیا، اور فتوحات کے بعد مغربی ہندوستان اور سرحدی علاقوں میں زیادہ تر بنگال آرمی کے افسران اور سپاہیوں کو تعینات کیا گیا، جس سے برطانوی اقتدار کی جڑیں مزید مضبوط ہو گئیں۔
’’فرنٹیئر فورس‘‘ کا قیام:
پنجاب اور سرحد کے شہری علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے بعد برطانوی استعمار کو سب سے سنگین چیلنج اپنی مغربی سرحد کے تحفظ کا درپیش تھا۔ اگرچہ سید احمد شہید رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد تحریکِ مجاہدین کو وقتی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا، تاہم یہ تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ رفتہ رفتہ دوبارہ منظم ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ۱۸۴۵ء–۴۶ء کے عرصے میں بالا کوٹ، گڑھی حبیب اللہ، مانسہرہ اور مظفرآباد پر مشتمل علاقوں میں ایک باقاعدہ شرعی امارت قائم ہو چکی تھی، جس کے امیر مولانا عنایت علی عظیم آبادی تھے۔
ان مجاہدین کی مسلسل سرگرمیوں اور پشاور، مردان، کوہاٹ اور دیگر مقبوضہ علاقوں پر ہونے والے قبائلی حملوں نے انگریز حکومت کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا۔ انہی خطرات سے نمٹنے اور مغربی سرحد پر مزاحمت کو کچلنے کے لیے ۱۸۴۹ء میں ایک نئی عسکری قوت قائم کی گئی، جسے ’’فرنٹیئر فورس‘‘ (Punjab Irregular Frontier Force) کا نام دیا گیا۔ اس فورس میں مجموعی طور پر دس رجمنٹیں شامل تھیں، جن میں پانچ پیادہ اور پانچ سوار رجمنٹیں تھیں، اور انہیں قبائلی سرحد کے ساتھ ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، بنوں اور پشاور جیسے اہم مقامات پر تعینات کیا گیا۔
ہر رجمنٹ کی اعلیٰ کمان چار یورپی افسران کے پاس ہوتی تھی، جبکہ ان کے ماتحت سولہ(۱۶) مقامی افسر اور تقریباً نو سو(۹۰۰) مقامی سپاہی خدمات انجام دیتے تھے۔ ان سپاہیوں کی اکثریت کا تعلق انہی مقبوضہ پشتون علاقوں سے تھا، تاکہ مقامی آبادی کے خلاف کارروائیوں میں جغرافیہ، زبان اور سماجی ساخت سے فائدہ اٹھایا جا سکے، جبکہ پنجاب اور برصغیر کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان، سکھ اور ہندو نسبتاً کم تعداد میں شامل تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’’فرنٹیئر فورس‘‘ کا قیام ہی موجودہ پاکستانی فوج کے غیر رسمی آغاز کی بنیاد تھا۔ یہ رجمنٹ آج بھی پاکستانی فوج کا حصہ ہے اور اس کا نام تک برقرار رکھا گیا ہے، تاکہ اس استعماری عسکری روایت سے تاریخی تسلسل قائم رہے۔ فوجی حلقوں میں اسے مختصراً “Piffers” کہا جاتا ہے، اور پاکستانی بری فوج کے دو سابق سربراہان، جنرل موسیٰ خان اور جنرل عبدالوحید کاکڑ، اسی رجمنٹ سے وابستہ رہے ہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد کی افواج کے درمیان صرف نام کی مماثلت ہی نہیں پائی جاتی، بلکہ عملی طور پر بھی پاکستانی فوج اور فرنٹیئر کور آج قبائلی علاقوں: شمالی وجنوبی وزیرستان، باجوڑ، سوات، دیر اور خیبر و مہمند کے علاقوں میں انہی مقاصد کی تکمیل میں سرگرم ہیں، جن کے حصول کے لیے انگریزوں نے تقریباً ایک سو ستر(۱۷۰) سال قبل ”فرنٹیئر فورس“ تشکیل دی تھی۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسی رجمنٹ کے اہلکاروں نے ۱۹۹۳ء میں امریکی افواج کے ساتھ مل کر صومالیہ میں مسلمانوں اور وہاں موجود مجاہدینِ اسلام کے خلاف کارروائیوں میں بھی اپنی خدمات سرانجام دی تھیں۔




















































