افغانستان کی جانب سے خطرات اور پاکستانی فوج کی بنیاد
١٨٣٩ء میں جب برطانیہ نے افغانستان پر یلغار کی، تو اپنے وفادار شاه شجاع کو کابل کے تخت پر بٹھا دیا۔ تاہم یہ اقتدار محض ظاہری تھا؛ درحقیقت یہ خطہ بڑی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بن چکا تھا۔ ۱۸۶۳ء میں شاع شجاع کی وفات کے بعد افغانستان اور برطانیہ کے تعلقات بتدریج کشیدہ ہوتے گئے۔ نئے امیر نے برطانیہ کی اطاعت سے انکار کیا اور روس کے ساتھ تعلقات استوار کیے؛ وہی روس جسے برطانیہ اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا تھا۔
انہی حالات کے نتیجے میں ۱۸۷۸ء میں دوسری انگریز افغان جنگ بھڑک اٹھی۔ برطانیہ نے کابل پر قبضہ کر لیا اور یعقوب علی خان کو اپنا کٹھ پتلی حکمران مقرر کیا۔ لیکن جلد ہی اسے یہ حقیقت سمجھ آ گئی کہ افغانستان کے پہاڑ صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر قوم کے عزم کے مضبوط قلعے ہیں۔
برطانیہ اس نتیجے پر پہنچا کہ افغان قوم کو بزورِ طاقت غلام بنانا ممکن نہیں۔ چنانچہ اس نے اپنی حکمتِ عملی بدل دی: براہِ راست قبضے کے بجائے وہ افغانستان میں ایسا نظام قائم کرنا چاہتا تھا جو اس کی مغربی سرحدوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔
مزید برآں، یہ بھی واضح تھا کہ افغانستان بدستور روس اور برطانیہ کے درمیان سیاسی کشمکش کا مرکز بنا رہے گا۔ اسی لیے برطانیہ نے اپنی حکمتِ عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیا:
۱۔ ہندوستان کی مغربی سرحدوں کا مضبوط تحفظ
۲۔ روسی اثر و رسوخ کی روک تھام
۳۔ ہر اس ممکنہ بغاوت کا سدباب جو اس کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہو
ان ہی مقاصد کے حصول کے لیے برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ مغربی ہند (موجودہ پاکستان) میں اپنی فوج کو مزید مضبوط، منظم اور مؤثر بنایا جائے۔
اسی تسلسل میں برطانوی جرنیلوں، جیسے لارڈ رابرٹس (جو پہلے فرنٹیئر فورس کا سربراہ رہا، بعد ازاں افغانستان پر یلغار کی قیادت کی اور ۱۸۸۵ء میں بنگال آرمی کا کمانڈر مقرر ہوا) اور جارج مک من نے اس بات پر زور دیا کہ فوج ایسے قبائل سے تشکیل دی جائے جو نہ صرف جنگی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ استعمار کے ساتھ وفادار بھی رہیں۔ یہی نظریہ بعد میں ’’مارشل ریسز‘‘(Martial Races) کے نام سے معروف ہوا۔
اس پالیسی کے تحت برصغیر کے بعض علاقوں کو خصوصی طور پر منتخب کیا گیا، جن میں جہلم، راولپنڈی، اٹک، کوہاٹ اور بونیر خاص طور پر نمایاں تھے۔ ان علاقوں سے بھرتی کا عمل تیزی سے شروع کیا گیا۔ ۱۸۸۵ء میں جب لارڈ رابرٹس نے بنگال آرمی کی قیادت سنبھالی تو یہ عمل مزید تیز ہو گیا اور مدراس و بمبئی کی افواج تک بھی پھیل گیا۔ بعد ازاں لارڈ کیچنر نے اس پورے نظام کو مزید منظم شکل دی۔
لارڈ کیچنر نے برطانوی ہند کی فوج میں ایک بڑی تنظیمِ نو (Reorganization) کی۔ ۱۹۰۳ء تک اس نے بنگال، مدراس اور بمبئی کی افواج کو یکجا کر کے ایک مرکزی فوج تشکیل دی، جسے رائل انڈین آرمی (شاہی ہندی فوج) کہا گیا۔ بعد میں اس فوج کو چار بڑی کمانڈز میں تقسیم کیا گیا:
بنگال، پنجاب، مدراس اور بمبئی۔
ان میں پنجاب کمانڈ کو خاص اہمیت حاصل تھی، کیونکہ یہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع تھی۔ اسی کمانڈ کو مغربی ہند کے اہم علاقوں: پنجاب، سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا)، سندھ اور بلوچستان کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ۱۹۰۰ء تک رائل انڈین آرمی کی نصف سے زیادہ قوت انہی نام نہاد جنگجو قبائل پر مشتمل تھی، جن کا تعلق زیادہ تر پنجاب اور سرحدی علاقوں سے تھا۔
یہی پنجاب کمانڈ بعد میں موجودہ پاکستانی فوج کی بنیادی اساس بنی۔ اسی بنا پر اس کمانڈ کا قیام پاکستانی فوج کی ابتدائی بنیاد سمجھا جاتا ہے، اور لارڈ کیچنر کو اس کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
جب اس تمام تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ بیسویں صدی کے اواخر میں پاکستانی فوج کے بہت سے فیصلے دراصل اسی استعماری سوچ کا تسلسل تھے۔ مثال کے طور پر ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ان کی شمولیت بڑی حد تک مذہبی جذبے کے بجائے صرف اور صرف اسٹریٹیجک مفادات پر مبنی تھی۔
اسی طرح اگر کبھی پاکستانی فوج نے امارتِ اسلامیہ افغانستان کی مدد بھی کی ہو، تو وہ شریعت کے نفاذ کی خاطر نہیں تھی؛ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے یہ فوج اپنے ملک میں شریعت نافذ کرتی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسی برطانوی پالیسی کا تسلسل ہے: کابل میں ایسا نظامِ حکومت قائم رہے جو ان کے سکیورٹی مفادات کے خلاف نہ ہو۔
اور جب اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو ۱۱ ستمبر کے بعد پاکستانی فوج کا وہ فیصلہ؛ جس میں اس نے امارتِ اسلامیہ سے تعلقات منقطع کر کے امریکہ کا ساتھ دیا، ہرگز یو ٹرن نہیں کہلا سکتا؛ کیونکہ یہ فوج ابتدا ہی سے اسی اصول پر قائم رہی ہے کہ اگر افغانستان میں کوئی حکومت ان کے اشاروں کو قبول نہ کرے تو اس کے خلاف اقدام کیا جائے اور اس کی جگہ ایسا رجیم یا شخصیت لائی جائے جو ان کے مفادات سے ہم آہنگ ہو۔



















































