71ء میں بھارت کے خلاف فوج کا ”جہاد”!
1971ء کے واقعات نے پاکستانی فوج کی مبیّنہ عسکری صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی قیادت کی حقیقت کو پوری طرح آشکار کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں جنگ کے دوران فوج کے متعدد اعلیٰ افسران نے جس انداز سے اپنے فرائض سے پہلو تہی اختیار کی، اس نے نہ صرف فوجی نظم و ضبط پر سنگین سوالات اٹھائے بلکہ سپاہیوں کے حوصلوں کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ کئی ایسے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض سینئر افسران بھارتی فوج کی پیش قدمی کی معمولی اطلاعات سن کر ہی اپنے ماتحت دستوں کو میدانِ جنگ میں چھوڑ کر فرار ہو جاتے تھے۔
اسی سلسلے میں 8 دسمبر 1971ء کو میجر جنرل رحیم خان، جو چاند پور کے علاقے میں تعینات ایک ڈویژن کے کمانڈر تھا، اپنی پوری ڈویژن کو اس کے حال پر چھوڑ کر تنہا فرار ہو گیا، حالانکہ اس وقت تک بھارتی فوج کا باقاعدہ حملہ شروع بھی نہیں ہوا تھا۔
اسی طرح نویں ڈویژن کی 107 ویں بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر محمد حیات کے پاس جب یہ اطلاع پہنچی کہ بھارتی ٹینک جیسور کے دفاعی حصار کو عبور کر کے آگے بڑھ رہے ہیں تو اس نے خبر کی تحقیق یا صورتِ حال کا جائزہ لینے کی بجائے فوراً پسپائی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 6 دسمبر 1971ء کو وہ جیسور کے انتہائی اہم دفاعی قلعے کو چھوڑ کر اکیلا فرار ہو گیا۔ ان کے اس اقدام کے نتیجے میں باقی افسران اور سپاہیوں میں بھی بدحواسی پھیل گئی اور وہ غیر منظم انداز میں پسپا ہونے لگے۔ نتیجتاً جیسور کا اہم قلعہ اور اس میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سامان بغیر کسی مؤثر مزاحمت کے بھارتی فوج کے قبضے میں چلا گیا۔
39 ویں ڈویژن کی 53 ویں بریگیڈ کا کمانڈر بریگیڈیئر محمد اسلم نیازی نے بھی اسی طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ 9 دسمبر 1971ء کو وہ لکشمی قلعے سے فرار ہو گیا جبکہ 123 زخمی فوجی، بھاری ہتھیار، عسکری سازوسامان اور تمام فوجی ذخائر قلعے میں موجود تھے۔ ان زخمی فوجیوں اور جنگی وسائل کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا اور بھارتی فوج نے بغیر کسی مزاحمت کے ان سب پر قبضہ کر لیا۔
مغربی پاکستان کے محاذ پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی۔ 15 ویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل عابد خان نے ضلع سیالکوٹ کے 98 دیہات بھارتی فوج کے قبضے میں جانے دیے جبکہ ان علاقوں کے دفاع کے لیے کوئی قابلِ ذکر مزاحمت نہیں ہوئی۔ اسی طرح پہلی کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ارشاد احمد خان نے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل شکرگڑھ کے تقریباً پانچ سو (500) دیہاتوں پر بھارتی فوج کو بغیر کسی بڑی جنگ کے قبضہ جمانے کا موقع فراہم کیا۔
مشرقی پاکستان میں تعینات فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اے کے نیازی کا طرزِ عمل درج بالا تمام فوجی افسران سے بدتر تھا۔ اس وقت ڈھاکہ میں تقریبا چھبیس ہزار(26،000)فوجیوں پر مشتمل ایک بڑی دفاعی قوت موجود تھی۔ اس کے علاوہ اسلحے، گولہ بارود اور خوراک کے خاطر خواہ ذخائر بھی دستیاب تھے اور دفاعی پوزیشن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ تاہم جب یہ اطلاع ملی کہ بھارتی فوج ایک ہفتے بعد ڈھاکہ پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے تو جنرل نیازی کے ہاتھ پاؤں اس بری طرح پھول گئے کہ نہ صرف اس نے بھارتی فوج کے کمانڈر ان چیف کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ بلکہ اس نے اس امر پر بھی رضامندی ظاہر کی کہ وہ ایک عوامی مقام پر مکتی باہنی کے کارکنوں، بھارتی فوجیوں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں بھارتی جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے باضابطہ طور پر اور بذاتِ خود ہتھیا رڈالے گا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل نیازی خود جنرل اروڑا کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ گیا اور اپنے اے ڈی سی کو حکم دیا کہ پاکستانی فوجی بھارتی کمانڈر کو فوجی اعزاز اور سلامی پیش کریں۔ اس کے بعد 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں ہتھیار ڈالنے کی تاریخی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستانی فوج کے تقریباً نوے ہزار فوجیوں اور اہلکاروں کی شکست کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے براہِ راست دیکھا۔
یوں مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا سیاہ اور شرمناک موقع آیا کہ خود کو مسلمان کہلانے والے نوے ہزار مسلح فوجیوں نے کافروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔



















































