امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بیس سالہ خونریز قبضے کے بعد، بالآخر امارت اسلامیہ نے ہزاروں شہداء اور زخمیوں کی قربانیوں کے نتیجے میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اس سرزمین پر آزادی کا پرچم لہرا دیا۔ اس دوران پاکستانی فوجی رجیم کا خیال تھا کہ یہ تبدیلی اس کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہوئی ہے، جس کے ذریعے وہ افغانستان پر ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے اپنا تسلط قائم کر سکتی ہے اور اپنی فرسودہ اور مذموم پالیسیوں کو اس ملک میں نافذ کر سکتی ہے۔ لیکن اسلام آباد کی فوجی رجیم اس حقیقت سے بے خبر تھی کہ امارت اسلامیہ ماضی کے کٹھ پتلی نظاموں کی طرح نہیں ہے کہ معمولی قیمت پر اس سرزمین میں غیر ملکیوں کے لیے مداخلت کی راہ ہموار کر دے۔
پاکستانی فوجی رجیم نے ابتدا میں خفیہ اور علانیہ اثرورسوخ کے ذریعے افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی اور امارت اسلامیہ کو مجبور کرنا چاہا کہ وہ اس رجیم کی ناپاک اور غیر انسانی پالیسیوں کو قبول کر لے۔ لیکن جب امارت اسلامیہ نے ان مطالبات کے مقابلے میں سخت موقف اختیار کیا اور اس رجیم کے لیے مداخلت کے دروازے بند کر دیے تو اس نے دباؤ ڈالنے کے مختلف طریقے اختیار کیے۔ اس رجیم کا پہلا قدم لاکھوں افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنا تھا، اس نے مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہر قسم کے قانونی اور انسانی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے نکال دیا اور ان کی جائیدادیں اور مال و اسباب بھی ضبط کر لیے۔ ان کا خیال تھا کہ اس دباؤ کے ذریعے امارت اسلامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے، لیکن امارت اسلامیہ پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہی، مہاجرین کے مسائل سے نمٹی اور ثابت کر دیا کہ کوئی بھی دباؤ اس کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔
اس ناکامی کے بعد پاکستانی فوجی رجیم نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور افغانستان کے لیے اپنی تجارتی گزرگاہیں بند کر دیں۔ اس کا مقصد افغانستان کی معیشت کو کمزور کرنا اور امارت اسلامیہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔ لیکن اس پالیسی کا نتیجہ بھی پہلی پالیسی کے برعکس نکلا۔ پاکستان سے بھارت اور وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تجارتی راہیں منقطع ہو گئیں اور سب سے زیادہ نقصان خود پاکستان کو اٹھانا پڑا۔ زرعی پیداوار اور تجارتی سامان کسٹم مراکز پر خراب ہو گیا، پاکستانی کسانوں اور تاجروں کو شدید معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور اس ملک کی کمزور معیشت تباہی کے گڑھے کے مزید قریب پہنچ گئی۔ دوسری طرف افغانستان نے بھی تیزی سے متبادل تجارتی راستے فعال کر دیے اور ثابت کر دیا کہ کسی بھی قسم کی پابندی اس قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
ان دو بڑی شکستوں کے بعد پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے آخری اور بدترین اقدام کی طرف رخ کیا، اس نے نہتے شہریوں، عورتوں اور بچوں پر توپ خانے کے ذریعے اور فضائی حملے شروع کر دیے۔ اس کا خیال تھا کہ شاید بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر امارت اسلامیہ کو پسپائی پر مجبور کر دے گا۔ لیکن یہ پالیسی بھی ناکام ہو گئی، کیونکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرکے اس نے دنیا کے بیدار ضمیروں کو مشتعل کر دیا اور متعدد سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے سخت مذمت کا سامنا کیا۔ دنیا کی نظر میں پاکستان کی شبیہ مزید داغ دار ہو گئی اور افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والے کے طور پر اس رجیم کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔
پاکستانی فوجی رجیم کو سمجھ لینا چاہیے کہ امارت اسلامیہ کا نظام ماضی کے نظاموں کی طرح نہیں ہے کہ ہوا کے ہر جھونکے سے لرز اٹھے اور اس سرزمین میں غیر ملکیوں کے لیے اثرورسوخ اور مداخلت کی راہ ہموار کرے۔ اس نظام نے ہزاروں شہداء اور معذوروں کی قربانیوں کے ذریعے اپنی آزادی اور عزت حاصل کی ہے اور اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کی راہ میں کسی کی ملامت سے نہیں ڈرتا۔ امارت اسلامیہ پہاڑ کی طرح ثابت قدم کھڑی ہے اور کسی بھی ملک کو اس سرزمین میں مداخلت کا حق نہیں دیتی، خواہ اس راہ میں اسے بے شمار قربانیاں ہی کیوں نہ دینی پڑیں۔
پاکستانی فوجی رجیم کو غفلت کی نیند سے بیدار ہونا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی فرسودہ پالیسیاں اور ناپاک مقاصد اب اس آزاد اور بیدار قون کے سامنے شکست سے دوچار ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر جارح بالآخر آزاد قوموں کے پختہ عزم کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوا ہے۔


















































