پاکستان کی فوجی رجیم کے زوال کا ایک اور بہت بڑا سبب یہ ہے کہ پاکستانی جرنیل اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں۔ پاکستانی جرنیلوں نے اپنے ناجائز نظام کو برقرار رکھنے کے لیے دسیوں ہزار لوگوں کو شہید کیا یا زندہ لاپتہ کر دیا۔ پاکستانی عوام پر ہر قسم کے مظالم ڈھائے گئے۔ انہی مظالم اور غیر انسانی حرکات نے پاکستانی عوام کو مسلح جدوجہد اور جہاد کی طرف مجبور کر دیا۔
اب جب کہ ہر روز یہی مسلمان اپنے حقوق کی بحالی کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، پاکستانی جرنیل اپنی غلطیوں اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک پر الزام لگاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مظلوم لوگ دوسرے ملکوں کے اشارے پر پاکستان کا امن خراب کر رہے ہیں۔
مگر یہ ظالم جرنیل کبھی اس بات کی گہرائی میں نہیں جھانکتے کہ آخر یہ لوگ مسلح جدوجہد پر کیوں مجبور ہوئے؟ چونکہ پاکستانی جرنیل اپنے مظالم اور ناجائز اعمال کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور صرف یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں کہ یہ سب پڑوسیوں کے ایجنٹ ہیں، اسی لیے یہ رویہ ان کے لیے ایک ہلاکت خیز طوفان بن کر اٹھے گا۔
ہمارے پاس اس کی ایک بہترین مثال پڑوسی ملک افغانستان میں موجود ہے۔ جب افغانستان میں غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف مسلح مقاومت شروع ہوئی تو اس وقت کا افغان جمہوریہ بھی بالکل یہی بات کرتی تھی اور عوام سے کہتی تھی کہ جو ہمارے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، وہ پاکستان کے ایجنٹ ہیں۔ اسی لیے اس نے مسلسل بیس سال تک پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا۔
کئی بار افغان جمہوریہ نے پاکستان کے ساتھ نشستیں بھی کیں، ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے اور دیگر مراعات دینے کا وعدہ کیا، لیکن اپنے ہر ناجائز عمل کا الزام پاکستان پر دھرتی رہی۔ جو بھی شخص افغان جمہوریہ کے ظلم کے خلاف حق کی صدا بلند کرتا، اسے “پنجابی” کا لیبل لگا کر بدنام کر دیا جاتا تھا۔
اب پاکستانی فوجی رجیم بھی بالکل اسی چیز کی نقالی کر رہی ہے جو سقوط شدہ افغان جمہوریہ کرتی تھی۔ ہر مظلوم کو پڑوسی ملکوں کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ عوام کے حقوق چھینے جاتے ہیں، پاکستانی عوام کو قتل کیا جاتا ہے، ہر قسم کا ظلم اور کرپشن کی جاتی ہے، مگر جب کوئی حق کی صدا بلند کرتا ہے تو اسے پڑوسیوں کا ایجنٹ قرار دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
یہ ناکام پالیسی اور حکمتِ عملی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ اس نے افغان جمہوریہ کو تباہ و برباد کر دیا۔ اگر پاکستانی فوجی رجیم بھی اسی پالیسی پر چلتی رہی، اپنے مسلح مخالفین کے ساتھ مذاکرات کرنے، ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے، ان کے حقوق بحال کرنے سے انکار کرتی رہی، اور صرف یہ کہہ کر بات ختم کرتی رہی کہ یہ سب پڑوسیوں کے ایجنٹ ہیں، تو پاکستانی فوجی رجیم کا بھی وہی انجام ہوگا جو افغان جمہوریہ کا ہوا، یعنی حتمی اور ناگزیر سقوط۔




















































