امتِ مسلمہ اور اس کی تاریخ کے مختلف ادوار میں مغربی طاقتوں، صلیبی قوتوں اور بالعموم غیر مسلم عناصر نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں، خصوصاً دینِ اسلام کی عظمت، ترقی اور قوت کو روکا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بظاہر اسلام کے نام پر ایسے گروہ اور ڈھانچے قائم کیے، جنہیں مالی اور دیگر وسائل سے تقویت دی جاتی رہی، تاکہ وہ مسلمانوں کی اقتصادی، سیاسی اور دینی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں اور اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کو محدود کریں۔
آج تاریخ کے تسلسل میں ہم ایشیا کے قلب میں ایک ایسے نظام کو دیکھتے ہیں جو کئی دہائیوں سے اثر و رسوخ کا حامل رہا ہے، اور جس کے کردار اور مقاصد پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ وہ کن اہداف کے لیے سرگرم ہے اور اسے بعض حلقوں کی جانب سے اسلام کے خلاف ایک رکاوٹ کیوں سمجھا جاتا ہے۔
جب برطانوی اقتدار کو مسلم علاقوں میں زوال کا سامنا ہوا تو بعض عالمی قوتوں نے یہ حکمتِ عملی اختیار کی کہ مختلف خطوں میں ایسے اتحاد اور نظام قائم کیے جائیں جو مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور فکری خودمختاری کے دوبارہ ابھرنے کو محدود رکھ سکیں۔ اسی تناظر میں بعض سرحدیں اور ریاستی ڈھانچے تشکیل دیے گئے، جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف مسلم ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور قبائلی روابط متاثر ہوئے بلکہ باہمی تعلقات میں بھی فاصلے پیدا ہوئے۔ مزید یہ کہ مختلف ادوار میں انہی ساختوں اور انتظامات نے بیرونی مداخلتوں کے لیے سہولت کاری کا کردار بھی ادا کیا، جس سے بعض علاقوں میں داخلی اختلافات نے جنم لیا۔ نتیجتاً وہ مسلمان جو کبھی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور شناخت رکھتے تھے، مختلف گروہوں اور تقسیمات کا شکار ہو گئے۔
یہ کوئی محض تصور نہیں بلکہ اسے ایک تلخ حقیقت قرار دیا جاتا ہے کہ آج تک مسلمان اس صورتِ حال کو دیکھتے آ رہے ہیں کہ بعض پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں رہنے والے مظلوم مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جس سے ان کی ثقافتی، سیاسی اور اسلامی شناخت کو شدید نقصان پہنچا۔ ناقدین کے مطابق انہیں بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا، اور ایسے فیصلے کیے گئے جو بیرونی قوتوں کے اشاروں پر تھے، جبکہ اس کی قیمت عام اور بے بس عوام نے ادا کی۔ ان واقعات کو بعض مبصرین غلامی، بدامنی اور کرائے کی جنگوں کی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہیں۔
مزید برآں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان پالیسیوں کے اثرات صرف پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش تک محدود نہ رہے، بلکہ فلسطین جیسے خطوں کے مسلمان بھی مختلف ادوار میں شدید متاثر ہوئے۔ بعض حلقے۱۹۷۰ ء کے المناک واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جن میں تقریبا دس ہزار فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ناقدین کے مطابق آج بھی مغربی اور صہیونی طاقتوں کے اشاروں پر مظلوم فلسطینیوں کے خون کے پیاسے ہیں، آج بھی یہی فوجی رجیم اپنے اقتصادی زوال اور وحشت کو کندھا دینے کے لیے انہی طاغوتی قوتوں کا ساتھ دے کر مظلوم فلسطینیوں کا خون پینے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
تاریخ کے اس تناظر میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب کوئی نظام خود کو مسلمان کہتا ہے تو پھر وہ ایسی پالیسیوں کا حصہ کیوں بنتا ہے جن کے نتیجے میں مسلمانوں ہی کا خون بہتا ہے؟ اسی بنا پر بعض حلقے موجودہ پاکستانی رجیم کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں، اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ جب تک یہ طرزِ عمل جاری رہے گا، خطے میں بداعتمادی اور کشیدگی کم نہیں ہو سکے گی۔




















































