دسمبر کی برفانی ہواؤں میں افغان سرحد پر واقع بدخشان کا لامتناہی اور دشوار گزار پہاڑی سلسلہ جتنا پُراسرار نظر آتا ہے، اس سے کہیں زیادہ یہ خطہ عالمی و علاقائی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔
حالیہ چند مہینوں میں افغانستان کا نام استعمال کرنے والے بین الاقوامی، خصوصاً پاکستانی اور افغانستان سے خودساختہ جلاوطن میڈیا کی سنسنی خیز سرخیوں کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بدخشان میں امارتِ اسلامیہ کا کنٹرول کمزور ہو رہا اور وہاں مخالفین نے ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
تاہم جب ڈرامائی سرخیوں، دھندلے دعووں اور پرانی ویڈیوز کا پردہ ہٹا کر گراؤنڈ ریئلٹی کو دیکھا جائے تو کہانی بالکل مختلف اور حقائق کے عين مطابق نظر آتی ہے۔
حالیہ جمعرات 23 جولائی 2026 کی رات بدخشان کے ضلع زیباک میں واقع ‘توپ خانہ’ اور پاکستان کے سرحدی علاقے چترال کے مقام ‘شاہ سلیم’ پر ایک اہم سرحدی واقعہ پیش آیا۔
افغان سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی ضلع چترال کے علاقے شاہ سلیم سے بدخشان کے علاقے ‘زیباک’ کی حدود میں پاکستانی انٹیلی جنس کی طرف سے دراندازی کے لیے بھیجے گئے مسلح باغیوں کا افغان مجاہدین کی ۱۵ویں بارڈر بریگیڈ نے سخت جوابی کارروائی کے ساتھ راستہ روکا، جس کے نتیجے میں ۵ باغی ہلاک اور متعدد زخمی ہو کر واپس پاکستان چترال بھاگ گئے۔
امارت اسلامیہ کے مخالف نام نہاد میڈیا میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ ۱۵ویں بارڈر بریگیڈ کے کمانڈر ملا عبدالجمیل رحمانی اس جھڑپ میں شہید یا شدید زخمی ہو گئے ہیں، تاہم مقامی ذرائع اور سرحدی بریگیڈ نے تصدیق کی کہ کمانڈر رحمانی مکمل طور پر محفوظ اور صحت مند ہیں۔
اس واقعے نے جہاں امارتِ اسلامیہ کی سرحدوں پر مضبوط گرفت کو ثابت کیا، وہیں جلاوطن میڈیا کے اس پروپیگنڈا سحر کو بھی توڑ دیا جو وہ ایک عرصے سے قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے نام نہاد ‘افغانستان انٹرنیشنل’، ‘ہشتِ صبح’ اور ‘آمو ٹی وی’ جیسے خودساختہ جلاوطن میڈیا اداروں کے طریقہ کار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
یہ ادارے، جن کے پاس افغانستان کے اندر گراؤنڈ رپورٹرز کا کوئی نیٹ ورک موجود نہیں ہے، دور دراز کے علاقوں کی خبروں کے لیے صرف غیر تصدیق شدہ آڈیوز، واٹس ایپ گروپس، نام نہاد مزاحمتی گروہوں کے خود ساختہ بیانات اور انٹرنیٹ پر پھیلی ہوئی رطب و یابس قسم کی افواہات پر انحصار کرتے ہیں۔
ماضی میں بھی کئی فیکٹ چیکنگ(Fact-checking) اداروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ‘ان مبینہ اداروں’ نے کئی سال پرانی ویڈیوز یا مقامی نوعیت کے زمین تنازعات کو ‘طالبان مخالف بڑی کامیابی’ یا ‘اندرونی اختلافات’ کا رنگ دے کر پیش کیا۔
اگرچہ یہ ایک فطری امر ہے کہ جب کوئی نام نہاد اور عوام و آخرت جواب دہی سے لاپروا ادارہ کسی کی سیاسی مخالفت پر اتر آئے تو وہ سچ اور جھوٹ کا ایک ایسا مکسچر تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کا مقصد صرف مخالف کو پریشان اور غیر مستحکم ظاہر کرنا ہوتا ہے۔
دوسری طرف اگر احمد مسعود اور ان کی مبینہ ‘قومی مزاحمتی محاذ’ کی بات کی جائے تو ان کی موجودہ عسکری و سیاسی حقیقت کی قلعی خود افغان تاریخ کھول دیتی ہے۔
ایک عام اور منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو گروہ اور قیادت اگست 2021ء میں امریکا اور نیٹو کی فزیکل طاقت، جدید ترین ہتھیاروں اور اربوں ڈالر کے بجٹ کی موجودگی میں امارتِ اسلامیہ کی پیش قدمی نہ روک سکی، وہ آج خود ساختہ جلاوطنی میں بیٹھ کر گراؤنڈ پر کیا تبدیلی لا سکتی ہے؟
مضحکہ خیز طور پر امریکا کے انخلا سے قبل ہی ان مبینہ رہنماؤں کا افغانستان چھوڑ کر بھاگ جانا اس بات کا واضح اعتراف تھا کہ ‘ان کی تمام تر طاقت افغان عوام کی حمایت پر نہیں، بلکہ ایک اسلام و افغان دشمن غیر ملکی طاقت کی بے ساکھیوں پر کھڑی تھی۔’
زندہ ضمیر افغان قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے کبھی بیرونی اشاروں اور غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والے رہنماؤں کو قبول نہیں کیا۔
حالیہ خبروں اور رپورٹس سے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ یہ خودساختہ جلاوطن مبینہ رہنما اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت کھو چکے اور یورپی دارالحکومتوں سے لے کر اسلام آباد تک انٹیلی جنس اجلاسوں کے ذریعے ایک پراکسی کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
جب کسی گروہ پر اپنے ہی ہمسائے یا بیرونی اداروں کی پراکسی بننے کا ٹھپہ لگ جائے تو افغان عوام کی نظر میں اس کی بچی کچی اخلاقی اور قومی ساکھ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدخشان یا پنجشیر میں ان کی آوازوں پر کوئی زندہ ضمیر افغان لبیک نہیں کہتا۔
البتہ پراکسی کے کھیل میں بدنامی کی حد تک مشہور ہونے والی پاکستانی فوج کی جانب سے یہ پراکسی کھیل اس وقت مزید شدید ہوا، جب امارتِ اسلامیہ پر دباؤ بڑھانے کی دیگر تمام عسکری حکمتِ عملیاں ناکام ہو گئیں۔
گزشتہ سال 9 اکتوبر 2025 سے جون 2026ء تک راولپنڈی کے ماتحت اسلام آباد کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن جولائی 2026ء میں شائع ہونے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یوناما کی مستند رپورٹس نے تمام تر سچائی واضح کر دی۔
تحقیقات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ کابل کے ‘امید’ منشیات بحالی مرکز پر ہونے والے پاکستانی فوجی حملے میں کوئی عسکریت پسند موجود نہیں تھا، بلکہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد عام سویلین، مریض اور طبی عملہ تھے۔
حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیمیوں کے اس انکشاف نے جہاں پاکستان کی عسکری دباؤ کی بدنام پالیسی کا پردہ چاک کیا، وہیں یہ بھی ثابت کر دیا کہ جب اپنا زور ختم اور جارحانہ فضائی اقدامات ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر چترال جیسے علاقوں سے بدخشان کے اندر پراکسی عناصر کو دھکیلنے کا پرانا کھیل شروع کر دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ چار دہائیوں کی خون ریزی کے بعد عام افغان عوام اب مزید کسی خانہ جنگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وہ امارتِ اسلامیہ کے قائم کردہ مرکزی امن و امان اور سرحدوں کے دفاع کو ترجیح دیتے ہیں۔
بدخشان کے پہاڑوں میں پیش آنے والے واقعات ہوں یا میڈیا پر چھیڑی گئی پروپیگنڈا جنگ… گراؤنڈ ریئلٹی یہی بتاتی ہے کہ بیرونی بے ساکھیوں پر کھڑے یہ جلاوطن گروہ صرف ایک عارضی سکیورٹی دردِ سر تو بن سکتے ہیں، مگر اللہ تعالی کی مدد و نصرت اور فضل و کرم سے امارتِ اسلامیہ کے استحکام اور افغان عوام کے ارادے کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
اس خطے کا پائیدار مستقبل سنسنی خیز پروپیگنڈے یا پراکسیز کے استعمال میں نہیں، بلکہ گراؤنڈ حقائق کو تسلیم کرنے اور باہمی افہام و تفہیم پر مبنی بارڈر مینجمنٹ میں ہی مضمر ہے۔




































