داعش کی فنڈنگ حکمتِ عملی میں فدیہ کا کردار:
فدیے کے ذریعے مالی وسائل کی مضبوطی داعش کی تمویل کی حکمتِ عملی کے اہم اور مستقل عناصر میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔ یہ طریقۂ کار اس تنظیم کے مالی ڈھانچے کا وہ حصہ ہے جو صرف اُن کے جنگی ساز و سامان کے تسلسل کے لیے نہیں بلکہ ان کے سیاسی، پروپیگنڈا اور تنظیمی مقاصد کے حصول میں بھی حیاتیاتی کردار ادا کرتا ہے۔ داعش کے لیے اغوا صرف خوف و دہشت پھیلانے کا ذریعہ نہیں تھا؛ بلکہ ایک منظم، منصوبہ بند اور دیرپا آمدنی کا سرچشمہ بھی تھا جسے وہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہوشیاری سے بروئے کار لاتے تھے۔ خاص طور پر یورپی ممالک کے شہریوں کے اغوا اور ان کی رہائی کے بدلے بھاری فدیے مانگنا، داعش کے مالی ذخائر کو لاکھوں ڈالرز سے مالا مال کر گیا۔
یہ رقوم براہِ راست جنگ کے تسلسل، ہتھیار و آلات کی خریداری، عسکری کارروائیوں کے انضباط اور اپنے دائرۂ اثر کے پھیلاؤ میں استعمال کی گئیں۔
متعدد دستاویزی واقعات میں داعش نے فدیہ وصول کرنے کے لیے ایسے اہداف کو چنا، جو بین الاقوامی میڈیا، عوامی رائے اور حکومتوں کی توجہ حاصل کریں۔ غیر ملکی صحافی، امدادی کارکن، طبی عملہ اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے اکثر اس گروہ کے اغوا کا شکار بنے۔ ان افراد کی رہائی ان کے وطنوں کے لیے سیاسی، جذباتی اور اخلاقی اہمیت رکھتی تھی، اسی بنا پر اکثر فدیے کی ادائیگی کا راستہ اختیار کیا جاتا۔ داعش کی کارروائیوں کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گروہ جان بوجھ کر ایسے مقبول اور بااثر اہداف کا انتخاب کرتا تھا تاکہ فدیے کی مانگ کا سیاسی اور مالی دونوں جانب اثر زیادہ سے زیادہ ہو۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ فدیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ۔۔ جو بعض برسوں میں درجنوں ملین ڈالر تک پہنچ گئی ۔۔ داعش کی آمدنی میں اس قدر اہم حیثیت رکھتی تھی کہ بعض اوقات یہ تیل کی سمگلنگ، آثارِ قدیمہ کی غیرقانونی تجارت اور گندم کے کاروبار سے مقابلہ کرتی تھی۔ مثال کے طور پر، ۲۰۱۳ء تا ۲۰۱۵ء کے درمیان یورپی شہریوں کے اغوا کے عوض ملنے والے فدیے اتنے تھے کہ وہ داعش کے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ بن گئے تھے۔ یہ رقوم نہ صرف ہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری میں صرف ہوئیں بلکہ جنگجوؤں کی تنخواہوں، کمانڈروں کے فائدوں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کی مضبوطی میں بھی لگائی گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فدیوں کی آمدنی صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں رہی۔ داعش نے ان رقوم کا ایک حصہ اپنے انتظامی ڈھانچے کے مالی اخراجات کے لیے مخصوص کیا تاکہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی انتظامیہ چلائے اور وہاں کے لوگوں پر قابو برقرار رکھے۔ اسی طرح پروپیگنڈا مشین ۔۔ ویڈیوز کی تیاری، سوشل میڈیا کی مینجمنٹ اور آن لائن تشہیری مواد کی پھیلاؤ کے ذریعے ۔۔ بڑے پیمانے پر انہی آمدنیوں سے چلائی جاتی رہی۔
یہ پروپیگنڈا کوششیں صرف بین الاقوامی افراد کو بھرتی کرنے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوئیں بلکہ خوف کے ماحول کو قائم کرنے، دشمن کے مورال کو توڑنے اور اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں۔
معاشی و سکیورٹی نقطۂ نظر سے، فدیے دینا داعش کے لیے کئی جہتوں میں فائدہ مند رہا۔ ایک تو یہ کہ یہ آمدنی جنگ اور دہشت گرد نیٹ ورک کی مالی معاونت کے لیے تیزی اور نسبتاً محفوظ طریقے سے مہیا ہو جاتی تھی۔ دوسرے، ہر اغوا مغربی حکومتوں کے خلاف سیاسی دباؤ کا ذریعہ بن جاتا کیونکہ اپنے شہریوں کی جان و سلامتی اُن ممالک کی اندرونی پالیسیوں میں سنجیدہ مسئلہ شمار ہوتی۔ جب کوئی یورپی شہری داعش کے ہاتھوں اغوا ہوتا ہے تو اس کے وطن کی حکومت دو مشکل انتخابوں کے درمیان پھنستی ہے: یا تو وہ اپنے شہری کی زندگی بچانے کے لیے فدیہ ادا کرے، یا دہشت گردی کی تمویل روکنے کے بہانے اس انسانے خطرے کو قبول کر لے۔ یہ صورتحال سیاسی بحران، عوامی دباؤ اور خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کا سبب بنتی ہے۔
فدیہ ادا کرنے کا یہ طریقہ کار داعش کے لیے ایک خطرناک مگر مفید چکر ۔۔ یا یوں کہیے کہ ایک ’’فائدہ مند دورہ‘‘ پیدا کرتی ہے۔ جب یہ گروہ کامیابی کے ساتھ فدیے حاصل کرتا، تو نہ صرف اس کی مالی قوت بڑھتی بلکہ مزید اغوا کی ترغیب بھی پیدا ہوتی، کیونکہ یہ راستہ کم خطرہ اور زیادہ منافع بخش تھا۔ اسی وجہ سے امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک عمومی طور پر ’’فدیہ نہ دینے‘‘ کی پالیسی اپناتے نظر آئے، جبکہ بعض یورپی ممالک کھلے یا خفیہ طور پر اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے فدیے ادا کرتے رہے جو بدلے میں داعش کی مالی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا۔
نتیجتاََ فدیے کا کردار محض مالی پہلو تک محدود نہیں رہا۔ یہ داعش کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے ایک کثیرالجہتی ذریعہ رہا؛ جنگ کے تسلسل، اثر و نفوذ کے پھیلاؤ، بین الاقوامی پروپیگنڈا مشین کی تقویت اور مغربی حکومتوں کے اندر سیاسی الجھنوں کی گہرائی میں اضافہ۔ فدیوں کے ذرائع کو بند کرنا اس گروہ کے مالی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے، مگر یہ ہدف حاصل کرنا عالمی ریاستوں، سکیورٹی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مابین سنجیدہ ہم آہنگی، یکساں رویہ اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا متقاضی ہے۔




















































