خوارج؛ داعش کے مقابلے میں
قدیم خوارج اور موجودہ داعش کے تقابلی مطالعے کے دوران ایسے حیرت انگیز مشابہات سامنے آتے ہیں جو دونوں کے فکری بنیادوں اور عملی طریقۂ کار کے درمیان ربط کو ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں تحریکیں دینی متون کی سطحی اور غیر لچکدار تعبیر پر کھڑی ہیں، اپنے آپ کو اسلام کے واحد حقیقی نمائندے سمجھتی ہیں اور باقی سب کو دین سے خارج قرار دیتی ہیں۔
سب سے پہلا مماثل نکتہ ان کے تکفیری زاویۂ نظر میں ہے۔ جس طرح خوارج اپنے دور کے مسلمانوں کو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے کافر قرار دیتے تھے، اسی طرح داعش بھی اپنی مخصوص تعبیرات کی بنیاد پر ہر اس مسلمان کو کافر کہتی ہے جو ان کے عقیدے سے متفق نہ ہو۔ یہی تکفیری منطق دونوں گروہوں کو یہ جواز فراہم کرتی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کا خون بہانا جائز ہے اور تشدد کو شرعی عمل کے طور پر پیش کرے۔
عملی میدان میں بھی دونوں نے منظم تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ تاریخ میں خوارج اپنے ظلم، سخت گیری اور بے رحمی کی وجہ سے بدنام رہے، یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنے سے نہ چوکتے۔ داعش نے موجودہ دور میں سزائے موت اور سر قلم کرنے کی ویڈیوز پھیلانے کے ذریعے اسی وحشت کو زندہ کیا۔ دونوں گروہوں نے تشدد کو نہ صرف ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا بلکہ اسے اپنے مذہبی تشخص کے حصے کے طور پر پیش کیا۔
خوارج اور داعش کے درمیان ایک اور مماثلت خلافت اور حکومت کے تصور میں دکھائی دیتی ہے۔ خوارج کا عقیدہ تھا کہ جو حکمران ان کی تعبیر کے مطابق شریعت پر سختی سے عمل نہ کرے، اسے معزول کرنا لازم ہے اور اس کے خلاف بغاوت جائز ہے۔ داعش نے بھی خلافت کے اعلان کے ذریعے خود کو واحد اسلامی ریاست قرار دیا اور تمام مقامی حکومتوں کو ’’طاغوت‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا۔ یہی مؤقف دونوں گروہوں کو تمام موجودہ سیاسی ڈھانچوں کے ساتھ ٹکراؤ میں لے آیا ہے۔
دینی متون کی تعبیر میں بھی دونوں گروہ صرف ظاہر پر اکتفا کرتے ہیں اور شریعت کی روح اور اسلام کے بڑے مقاصد سے غافل رہتے ہیں۔ اس تحت اللفظی اور بے تأویل تعبیر نے رحمت، عدل اور مصلحت جیسے بنیادی اسلامی تصورات کو ان سے بیگانہ کر دیا ہے۔ ایک اور نمایاں مماثلت وہ تفرقہ اور نفاق ہے جو ان دونوں گروہوں نے امتِ مسلمہ کے اندر پیدا کیا۔ خوارج نے ’’لا حکم الا للہ‘‘ کے نعرے تلے امت کو پارہ پارہ کیا، جبکہ داعش نے اپنے اقدامات کے ذریعے مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی آگ کو مزید بھڑکایا۔
تاہم، کچھ فرق بھی موجود ہیں۔ داعش نے اپنے نظریات پھیلانے کے لیے جدید میڈیا کے وسائل استعمال کیے اور اپنی سرگرمیوں کے لیے ایک بین الاقوامی وسعت پیدا کی، جبکہ خوارج بڑی حد تک مخصوص علاقوں تک محدود تھے۔ اس کے علاوہ، داعش کو وسیع مالی اور لوجسٹک سپورٹ بھی میسر ہے۔
یہ تقابلی جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتہا پسند نظریات تاریخ کے مختلف ادوار میں نئی شکلوں میں بار بار سامنے آتے ہیں۔ ان مشابہتوں کو سمجھنا ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ داعش جیسی تحریکوں کی فکری جڑوں کو زیادہ واضح طور پر پہچانیں اور تاریخ کی روشنی میں پچھلی غلطیوں کے تکرار سے بچ سکیں۔




















































