اسلامی ممالک کے تناظر میں، پاکستان ایک ایسا واضح نمونہ ہے جس نے نہ صرف اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ اپنی حرکتوں کے ذریعے اسلام کے مقدس نام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو کبھی ایک اسلامی ریاست کے قیام کے وعدے کے ساتھ نمودار ہوا تھا، مگر آج خطے کے مسلمانوں کے لیے ایک خطرناک دشمن بن چکا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدل قائم کرے، مظلوموں کا ساتھ دے اور تمام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ مگر پاکستان کا عسکری رجیم ان اصولوں کے منافی عمل کر رہا ہے۔ یہ حکومت مظلوموں کی حمایت کے بجائے ظالم بن چکی ہے؛ وہ بلوچ، پشتون اور کشمیری مسلمانوں کے حقوق کو منظم طور پر پامال کرتی ہے، یہاں تک کہ ظُلم نے سرکاری پالیسی کا روپ اختیار کر لیا ہے۔
بلوچستان میں جاری ظلم وستم اس ظالم رجیم کی اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کا روشن ثبوت ہیں۔ جیسا کہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کُلُّکُمْ راعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ»
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔
پاکستان کے حکمران نہ صرف بلوچستان کے عوام کے سامنے اپنی ذمّہ داری نبھانے میں ناکام ہیں، بلکہ قتل و غارت گری، اغواء اور تشدد کے ذریعے ’’امانت و ذمہ داری‘‘ کے اسلامی اصول کے ساتھ شدید مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔
علاقائی سطح پر، یہ نظام (حکومتِ پاکستان) داعش جیسی تکفیری جماعتوں کی حمایت کے ذریعے اسلامی امت کے ساتھ ایک سنگین غداری کا ارتکاب کر رہا ہے۔ قرآنِ عظیم مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتا ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾[ آل عمران: ۱۰۳]
ترجمہ: اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو
لیکن پاکستان کا یہ نظام مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور جنگ و جدال پیدا کر کے اسی قرآنی حکم کی صریح خلاف ورزی کر رہا ہے۔
پاکستان کی داخلی صورتِ حال بھی اس نظام کی بے انصافی کا واضح منظر پیش کرتی ہے۔ ملک کی دولت چند بدعنوان فوجی عہدیداروں اور سیاست دانوں کے مخصوص گروہ کے قبضے میں ہے، جبکہ عوام کی بڑی اکثریت شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ سب کچھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانِ مبارک کے برخلاف ہے: «کُلُّکُمْ راعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ»
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔
پاکستان کے مسلمان عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ یہ نظام نہ اسلام کی نمائندگی کرتا ہے، نہ امت کی خیر خواہی چاہتا ہے، بلکہ یہ اسلام کا دشمن ہے۔ عوامی تحریکیں پورے ملک میں پھیل رہی ہیں، اور لوگ حقیقی اسلام کے شعور سے بیدار ہو رہے ہیں، یہ جان کر کہ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
قرآنِ عظیم ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلتَكُن مِّنكُم أُمَّةٌ يَدعُونَ إِلَى ٱلخَيرِ وَيَأمُرُونَ بِٱلمَعرُوفِ وَيَنهَونَ عَنِ ٱلمُنكَرِ﴾ [ آل عمران: ۱۰۴]
ترجمہ: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی دعوت دے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے۔
آج پاکستان کی عوام ان الہٰی ہدایات سے حوصلہ پاکر ظلم و فساد کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ حقیقی اسلامی حکومت وہ ہے جو زور و جبر، یا کسی مخصوص طبقے کی جانب سے دولت کے ارتکاز کے بجائے عدل، شفافیت اور جواب دہی پر قائم ہو۔
پاکستان کا مستقبل اس فاسد نظام کے زوال اور ایسے حکمران نظام کے قیام سے وابستہ ہے جو واقعی اسلامی اقدار کا پیروکار ہو۔ صرف اسی صورت میں پاکستان اپنے قیام کے اصل مقاصد سے دوبارہ ہم آہنگ ہو سکے گا اور عالمِ اسلام میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کی مثال بن سکے گا۔




















































