ایک معاصر رجحان کی پیدائش: اس کی تشکیل کی تاریخ
انتہا پسند گروہ داعش کے ظہور کا جائزہ اُن پیچیدہ تبدیلیوں کے تناظر میں لیا جانا چاہیے جن کا عرب دنیا نے گزشتہ دہائیوں میں سامنا کیا ہے۔ اگرچہ یہ رجحان ابتدا میں اچانک اور غیر متوقع محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ باہم مربوط اور مسلسل پیش آنے والے واقعات کے ایک سلسلے کا نتیجہ ہے، جن کی جڑیں مشرقِ وسطیٰ کی تبدیلیوں میں پیوست ہیں۔ اس رجحان کو درست انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ارتقائی عمل کا آغاز سے لے کر خلافت کے اعلان تک جائزہ لیا جائے۔
داعش کے قیام کی کہانی 2003 کے بعد کے اس مرحلے سے جڑی ہے، جب امریکہ کے عراق پر حملے کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کے آخری ادوار کا خاتمہ ہوا۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شیخ ابو مصعب الزرقاوی نے امریکہ کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ لیکن 2006ء میں شیخ زرقاوی کی شہادت کے بعد دولۃ الاسلامیہ فی العراق کا اعلان ہو گیا اور نئی قیادت نے “جہادی تنظیم” کے بجائے “اسلامی ریاست” کا تصور پیش کیا اور اپنے لیے ایک طویل المدتی وژن مقرر کیا۔
یہ تبدیلی محض ظاہری نہ تھی بلکہ اس نے اس گروہ کی نظریاتی بنیاد اور پالیسیوں میں گہری تبدیلی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے خود کو صرف ایک باغی گروہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ وہ ایک حقیقی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس دعوے نے عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور سنی برادری کی بے چینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس گروہ کے اثر و رسوخ کو پھیلانے میں مدد دی۔
2011 میں شام کے بحران کے آغاز کے ساتھ اس گروہ کی تاریخ میں ایک نیا باب کھلا۔ ابو بکر البغدادی، جو 2010 میں ابو عمر البغدادی کی ہلاکت کے بعد قیادت تک پہنچا تھا، نے اپنے جنگجوؤں کا ایک گروہ شام بھیجا، جہاں “جبهة النصرہ” کے نام سے ایک نئی شاخ قائم کی گئی۔ تاہم جلد ہی دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے، اور 2013 میں البغدادی نے دونوں گروہوں کے انضمام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تنظیم کا نام “دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام” (داعش) رکھ دیا۔
اس اقدام کو القاعدہ کی قیادت نے مسترد کر دیا، جس سے دونوں تنظیموں کے درمیان گہرا اختلاف پیدا ہو گیا۔ القاعدہ کے سربراہ شیخ ایمن الظواہری نے باضابطہ طور پر اس فیصلے کی مخالفت کی اور داعش سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں عراق تک محدود رکھے۔ تاہم البغدادی نے اس مطالبے کو تسلیم نہ کیا، تو شیخ ایمن الظواہری نے ایک رسمی بیان “هذا فراق بين وبينك” کے ذریعے داعش کو القاعدہ سے نکال دیا اور ان سے مکمل برات کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد بتدریج داعش القاعدہ کی ایک سنجیدہ حریف بن گئی۔ یہ علیحدگی ان تحریکوں کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھی، جو ظاہر کرتی ہے کہ داعش نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی اور نظریہ اختیار کر لیا تھا۔
جون 2014 میں داعش نے شام اور عراق کی سرحدوں کو مٹانے کی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے خلافت کے قیام کا اعلان کیا، اور ابو بکر البغدادی نے خود کو دنیا بھر کے مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا۔ یہ علامتی اقدام اس گروہ کے بلند عزائم کی عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے موصل اور تکریت جیسے اہم شہروں پر قبضہ کر لیا اور برطانیہ کے برابر وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر کے عملی طور پر خود کو ایک ریاست کے طور پر پیش کیا۔ اسی دوران داعش نے پیچیدہ انتظامی ڈھانچے، منظم مالی نظام اور جدید پروپیگنڈہ مشینری قائم کر کے ایک مکمل حکومت کا تاثر دیا۔
تاہم یہ مرحلہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل، عراقی اور شامی افواج کی سخت مزاحمت، اور علاقائی گروہوں کی جدوجہد نے رفتہ رفتہ اس گروہ کو کمزور کر دیا۔ 2015 کے بعد داعش نے بتدریج اپنے زیرِ قبضہ علاقے کھونے شروع کیے، اور بالآخر 2017 میں موصل اور رقہ کے سقوط کے ساتھ اس کی نام نہاد خلافت عملاً ختم ہو گئی۔ اگرچہ یہ گروہ اب بھی منتشر سرگرمیوں میں مصروف ہے، لیکن وہ کبھی بھی اپنی سابقہ قوت اور حیثیت بحال نہ کر سکا۔
داعش کی تاریخ کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ رجحان مخصوص تاریخی اور سیاسی حالات کا نتیجہ تھا۔ فرقہ وارانہ بے چینی، مرکزی حکومتوں کی کمزوری، شناختی بحران اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے عوامل نے اس غیر معمولی رجحان کے ظہور کی راہ ہموار کی۔ ان عوامل کو سمجھنا نہ صرف ماضی کے تجزیے کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل میں اس نوعیت کے خطرات کی روک تھام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔




















































