شہداء اور زخمیوں کی تلاش:
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابو سفیان کے درمیان مکالمہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ پہاڑ سے نیچے تشریف لائے اور شہداء اور زخمیوں کی تلاش شروع کی۔ آئیے درج ذیل سطور میں چند جان نثار صحابہ کی بے مثال قربانیوں کا ذکر کرتے ہی:
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ شہداء کے درمیان گھوم رہے تھے تاکہ حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈ سکیں۔ جب انہیں پایا تو دیکھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انہیں سلام پہنچایا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ پر اللہ جل جلالہ کی طرف سے سلام ہو، اور کہا کہ مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے، اور میری قوم انصار سے کہہ دینا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہو گیا تو تم اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر پیش نہیں کر سکو گے۔ ان باتوں کے بعد انہوں نے آخری سانس لی اور شہید ہو گئے۔
زخمیوں میں حضرت عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے اس جنگ سے پہلے اسلام قبول نہیں کیا تھا، لیکن جنگ میں زخمی ہو گئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اس جنگ میں وطن اور قوم کے دفاع کی وجہ سے شامل ہوئے یا اسلام کی محبت کی وجہ سے؟
انہوں نے کہا: میں اسلام کی محبت کی خاطر آیا ہوں، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ شہید ہو گئے۔ جب یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "هو من أهل الجنة”، یعنی وہ جنتی ہے، حالانکہ اس وقت تک انہوں نے ایک نماز بھی ادا نہیں کی تھی۔
زخمیوں میں قُزمان نامی ایک شخص بھی تھا۔ وہ شیر کی طرح لڑا تھا اور سات یا آٹھ مشرکوں کو قتل کیا تھا۔ جب مسلمانوں نے اسے اٹھایا تو اسے مسلمان کرنے کی کوشش کی اور کلمہ پڑھنے کو کہا، مگر اس نے انکار کیا اور کہا: خدا کی قسم! میں صرف اپنی قوم کی عزت کے دفاع کے لیے لڑا ہوں، اور اگر یہ نہ ہوتا تو میں ہرگز جنگ نہ کرتا۔ اس کے بعد زخموں کی شدت سے تنگ آ کر اس نے خودکشی کر لی۔ جب اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "إنه من أهل النار”، یعنی وہ جہنمی ہے۔
شہداء میں سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی نظر ان پر پڑی تو آپ ﷺ کو بہت زیادہ رنج ہوا، آپ ﷺ کا دل بھر آیا، اور فرمایا: اگر میں قریش کو پا لوں تو ضرور ان میں سے تیس آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی مثلہ کروں گا۔ صحابہ کرام کے سینوں میں بھی انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم قریش کے ساتھ ایسا مثلہ کریں گے کہ عرب میں اس کی مثال نہ دیکھی گئی ہو گی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
"وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ”
اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی ہے، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔
شہداء کی نمازِ جنازہ:
دوپہر کے وقت رسول اللہ ﷺ نے شہداء کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔ نماز کے بعد ایک طویل دعا کی، اس کے بعد شہداء کو دفن کیا گیا۔ ایک قبر میں دو دو، تین تین افراد کو دفن کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ پوچھتے کہ ان میں سے کس کو قرآن کریم زیادہ یاد تھا، پھر جس کی طرف اشارہ کیا جاتا، اسے پہلے لحد میں رکھا جاتا، پھر باقی کو اس کے بعد رکھا جاتا۔
کچھ لوگ اپنے شہداء کو مدینہ کی طرف لے جا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ انہیں واپس لے آئیں اور یہیں میدانِ جنگ میں دفن کریں۔ یہ ایک غمگین منظر تھا، ایک دردناک لمحہ تھا، جسے تاریخِ اسلام نے محفوظ کر لیا۔
دشمن کی خبر لینا:
جب دشمن میدانِ جنگ سے روانہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا تاکہ معلوم کریں کہ وہ کس سمت جا رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ گھوڑوں پر سوار ہوں اور اونٹوں کو ساتھ لے جا رہے ہوں تو سمجھ لینا کہ مدینہ کی طرف جا رہے ہیں، اور اگر اونٹوں پر سوار ہوں اور گھوڑوں کو ساتھ لے جا رہے ہوں تو جان لینا کہ مکہ کی طرف جا رہے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے، پھر واپس آ کر بتایا کہ وہ اونٹوں پر سوار تھے اور گھوڑوں کو ساتھ لے جا رہے تھے، یعنی وہ مکہ کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ تھی غزوۂ اُحد کی عظیم جنگ، جسے تاریخِ اسلام کی دوسری بڑی جنگ کہا جا سکتا ہے۔ یہ غزوہ ایسے کارناموں سے بھرا ہوا ہے کہ ہمارے قلم ان کے بیان سے عاجز ہیں، اور ایسی قربانیوں سے لبریز ہے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ آئندہ تحریر میں ان شاء اللہ غزوۂ اُحد سے حاصل ہونے والے اسباق بیان کیے جائیں گے۔




















































