چند روز قبل پاکستان کی جارح افواج نے ایک بار پھر تمام بین الاقوامی قوانین، سفارتی اصولوں اور حسنِ ہمسائیگی کے مسلمہ حقوق کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان کی مقدس سرزمین اور فضائی حدود پر اپنی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ کنڑ، خوست اور پکتیکا کے صوبوں میں نہتے شہریوں کے گھروں پر کیے گئے ان بے رحمانہ فضائی اور میزائل حملوں نے ایک بار پھر مظلومیت اور انسانیت کے خون سے لکھی گئی المناک داستان کو دہرایا۔
اس اچانک حملے کے نتیجے میں انتہائی سفاکی اور بے دردی کے ساتھ گیارہ معصوم بچے، ایک خاتون اور ایک معمر بزرگ شہید ہوگئے، جبکہ خواتین اور معصوم بچوں سمیت چودہ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کی فوجی رجیم اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عوامی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور جنگی ضوابط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتی افغان عوام پر بمباری کر رہا ہے۔
خواتین اور محوِ خواب بچوں کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا نہ کسی اسلامی قانون میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی غیر اسلامی قانونی یا عسکری ضابطۂ اخلاق میں اس کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ بلکہ یہ اقدام اس رجیم کی وحشیانہ اور تاریک حقیقت کو دنیا کے سامنے آشکار کرتا ہے جو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے انسانی جانوں کے خون سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ بین الاقوامی قانونی معیاروں کے مطابق یہ واقعہ ایک واضح انسانی المیہ، سنگین جنگی جرم اور کھلی سفاکیت شمار ہوتی ہے۔
شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد وہ مظلوم اور پُرامن مسلمان تھے جو اپنے سادہ اور مٹی کے گھروں میں امن، سکون اور بہتر زندگی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ان کا ناحق بہایا گیا خون افغان عوام کی ان مسلسل قربانیوں کا تسلسل ہے جو دہائیوں سے بیرونی سازشوں، عالمی ناپاک کھیلوں اور ہمسایہ ملک کی معاندانہ پالیسیوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔
معصوم بچوں کی آہیں اور اپنے پیاروں کے لاشوں کے پاس بہنے والے بے بس ماؤں کے آنسو انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا سیاہ دھبہ ہیں جسے تاریخ آسانی سے فراموش نہیں کرے گی۔ یہ وہ قوم ہے جس نے کبھی کسی کے لیے نقصان اور تباہی نہیں چاہی، لیکن اس کے باوجود اسے بار بار ایسے ظالمانہ اور بے رحمانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی دردناک صدائیں دنیا کے ہر زندہ ضمیر اور انصاف پسند انسان کے دل تک پہنچنی چاہئیں۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان اپنے وطن کی ارضی سالمیت، قومی خودمختاری اور اپنے معزز شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنا شرعی، اخلاقی اور قومی فریضہ سمجھتی ہے، اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
ہمارے اصولوں پر مبنی واضح مؤقف یہ ہے کہ ملک کی فضائی اور زمینی سرحدیں قوم کے وقار اور عزت کی سرخ لکیریں ہیں، اور ان پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا تجاوز ناقابلِ قبول ہے۔ ایسی ہر حرکت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے، جبکہ اپنے دفاع کا شرعی اور قانونی حق ہر حال میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔
اگرچہ امارتِ اسلامیہ افغانستان خطے کے استحکام، سفارتی آداب کے احترام اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور حسنِ تعلقات کی بنیاد پر تعمیری روابط کی خواہاں ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسے کمزوری سمجھ لیا جائے یا افغان عوام کے بہائے گئے خون کو فراموش کر دیا جائے۔ بلکہ ملک کے دفاعی اور سکیورٹی ادارے ہمیشہ مکمل تیاری، عزم اور استقامت کے ساتھ اپنی سرزمین کے تحفظ اور ہر قسم کی جارحیت کے سدِّباب کے لیے فولادی حصار بن کر کھڑے ہیں۔
ہم پوری عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اور بالخصوص عالمِ اسلام کے ممالک اور قائدین سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے مادی اور سیاسی مفادات پر انسانی اقدار کو ترجیح دیں اور پاکستان کے فوجی نظام کی جانب سے بار بار کیے جانے والے ان ظالمانہ، غیر انسانی اور وحشیانہ حملوں کی بین الاقوامی سطح پر واضح اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ وقت کی اہم ضرورت اور افغان عوام کا جائز مطالبہ ہے کہ ان بے گناہ اور مظلوم متاثرین کے حقوق کی بحالی اور ان کے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے مذکورہ متجاوز نظام پر سنجیدہ سیاسی اور قانونی دباؤ ڈالا جائے۔ کیونکہ ایسے سنگین جرائم کے مقابل خاموشی نہ صرف ظلم کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ یہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام اور ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس کے شعلے کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان اور اس سرزمین کے باشندے اپنے شہداء کے پاک خون کا حساب اور اس عظیم سانحے کے تمام پہلوؤں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ دشمنوں اور جارح عناصر کی ایسی بے باکانہ کارروائیاں افغان قوم کے عزم، استقلال اور اتحاد کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط اور مستحکم کرتی ہیں، اور حق و انصاف کی راہ میں اس کے حوصلے کو دوچند کر دیتی ہیں۔
ہم ربِّ کریم عزوجل کے حضور دعا گو ہیں کہ اس المناک واقعے کے شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب کرے اور تمام زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت و شفا سے نوازے۔



















































