دفاعی اعتبار سے افغانستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک کمزور ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے اس صورتحال کو الٹ دیا ہے، اس نے اندرونِ ملک امن و امان کو مضبوط بنایا ہے اور اب ہمسایہ علاقوں میں موجود خطرات کے خاتمے کی طرف بھی پیش قدمی کر رہی ہے۔ قریب پانچ برس سے افغان حکومت افغانستان کی آزادی، قومی خودمختاری، ملکی سالمیت اور سکیورٹی کی ایسی قیادت اور حفاظت کر رہی ہے جو بہت سے ترقی یافتہ ممالک سے بھی بہتر ہے۔
علاقائی اور عالمی سطح پر ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی رہی کہ افغانستان کو بے اختیار اور غیر محفوظ رکھا جائے، تاکہ اس سرزمین سے آسانی کے ساتھ اپنے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔ بظاہر یہ کوششیں آج بھی پاکستانی کرائے کی فوجی رجیم کی جانب سے جاری ہیں، اور ممکن ہے کہ ان کے پیچھے دیگر علاقائی اور عالمی قوتیں بھی موجود ہوں۔ افغانستان ایک طرف اپنی اقتصادی اہمیت اور دوسری جانب اپنی خالص اسلامی پالیسیوں کی وجہ سے متعدد علاقائی اور عالمی دشمنوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔
جیسا کہ موجودہ حالات میں افغانستان ایک بار پھر اسلامی شریعت کی بنیاد پر قائم نظام کا حامل ہے، جس نے اس سرزمین کے ہمہ جہت مفادات اور اقدار کو محفوظ بنایا ہے۔ دوسری طرف علاقائی ممالک افغان حکومت کی کامیاب پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عالمی طاقتوں کے خوف سے اب بھی نقصان دہ حد تک احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔
افغانستان کے پڑوس میں واقع پاکستان کی فوجی رجیم، جو اپنی پوری تاریخ میں دوسروں کی آلۂ کار بنی رہی ہے، ایک مرتبہ پھر تیسرے فریقوں کے اشارے پر افغانستان کی سابق ناکام جمہوری انتظامیہ کے ارکان، داعش کے فتنہ پرور عناصر اور اپنی کرائے کی فوج کو افغانستان کی آزادی، قومی خودمختاری، ملکی سالمیت اور سکیورٹی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکہ افغانستان میں ایک شرمناک شکست سے دوچار ہو چکا ہے، اور پاکستان، جسے ہمیشہ خطے میں دہشت گردی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، نہ اس کی قوم متحد ہے، نہ اس کی جغرافیائی حیثیت کوئی منفرد اہمیت رکھتی ہے اور نہ ہی علاقائی معیشت میں اس کا کوئی نمایاں مقام ہے۔ اس ملک نے اپنی پوری تاریخ میں دہشت گردی کی تربیت کے بدلے اپنی انتظامی صلاحیت کو کرائے پر دیے رکھا ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنی سابقہ روش کو دہراتے ہوئے مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، سے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے داعشیوں کی تربیت، سابق جمہوری انتظامیہ کے وابستگان کو جمع کرنے اور اپنے کرائے کے فوجی انفراسٹرکچر کے استعمال کا منصوبہ حاصل کیا ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان نے مختصر مدت میں ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو منظم اور تیار کر لیا ہے۔ اس نے بارہا پاکستانی فوجی رجیم کو اس کی غلطیوں اور ناجائز جارحیتوں کی طرف متوجہ کیا، لیکن پاکستانی عوام ہی کے بقول وہاں کے نااہل فوجی حکام غلامی کے نشے میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ سوچنے اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان، جو پاکستان سے لاحق خطرات سے آگاہ تھی، مسلسل اتنباہات کے باوجود یہ دیکھتی رہی کہ پاکستانی فوجی رجیم اپنی طے شدہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی بنا پر امارت اسلامیہ خود کارروائی پر مجبور ہوئی اور پاکستان کے اندر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعشی خوارج اور ان دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا، جو افغانستان اور اس کے مظلوم عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
شواہد، قرائن اور افغان حکومت کے طرزِ عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب پاکستان کے مقابلے میں اسٹریٹیجک تحمل کی پالیسی ترک کی جا رہی ہے اور اس کی جگہ فوری اور مؤثر ردِعمل کی حکمتِ عملی کو کہیں زیادہ طاقت اور وسعت کے ساتھ اختیار کیا جائے گا۔


















































