جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والی پٹی پر اس وقت روایتی سفارت کاری دم توڑ رہی ہے اور اس کی جگہ ایک ایسی انٹیلی جنس اور جیو پولیٹیکل شطرنج نے لے لی ہے، جس کی بساط پر مہرے انتہائی تیزی سے بدل رہے ہیں۔
طویل عرصے تک پاکستانی فوج کی جانب سے نام نہاد طور پر افغانستان سے ہونے والی مبینہ عسکریت پسندی کا ملبہ امارتِ اسلامیہ پر ڈالنے والے پاکستان کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ کا بیانیہ بھی ایک ایسے حیرت انگیز جنگی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں امارتِ اسلامیہ محض الزامات کو نہیں… بلکہ زمینی شواہد اور ٹیکنالوجی کی برتری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے چونکا دینے والی تبدیلی کابل کا وہ نیا ‘کاؤنٹر ٹیررازم بیانیہ’ ہے، جس نے راولپنڈی کے روایتی موقف کو ایک گہری تزویراتی بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔
برسوں سے پاکستان کا یہ الزام رہا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری گروہ افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں رکھتے اور وہیں سے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔
تاہم حالیہ مہینوں کے جیو پولیٹیکل تغیّرات نے امارتِ اسلامیہ کو پاکستانی فوج کے مقابلے میں دفاعی پوزیشن سے نکال کر انتہائی جارحانہ متبادل بیانیہ قائم کرنے کا موقع دے دیا ہے۔
کابل اب صرف یہ دفاع نہیں کر رہا کہ اس کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، بلکہ وہ فعال طور پر یہ دعویٰ بھی کر رہا ہے کہ خطے اور خاص طور پر افغانستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یعنی داعشِ خراسان (ISIS-KP) کے اصل مراکز اب افغانستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کی حدود کے اندر اور وہ بھی پاکستانی فوج کے تعاون سے جڑیں پکڑ چکے ہیں۔
یہ نیا افغان بیانیہ عالمی برادری… خاص طور پر چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے سامنے محض اس لیے وزن نہیں پکڑ رہا کہ یہ کابل کی سفارتی مہارت ہے، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کے اپنے اندرونی سکیورٹی منظرنامے سے اُبھرنے والے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔
جب پاکستان کے اندرونی اضلاع سے 16 مئی 2025ء کو داعش کے میڈیا ترجمان عزیز عزام اور 23 دسمبر 2025 کو ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس ایجنسی MIT کے ایک خفیہ آپریشن میں ‘محمد گوران’ جیسے ہائی پروفائل بین الاقوامی اور علاقائی کمانڈرز گرفتار ہوتے ہیں تو کابل کے الزامات کو بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط دستاویزی سند مل جاتی ہے۔
مزید برآں داعش کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہلِ تشیع کی ایک عبادت گاہ پر جمعے کے روز ہونے والا خودکش حملہ اور ممتاز مذہبی شخصیت مولانا محمد ادریس شہید پر حملہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ داعش اب صرف دور دراز کے قبائلی پہاڑوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پاس پاکستان کے شہری اور حساس ترین مراکز میں بھی ایک فعال لاجسٹک اور آپریشنل نیٹ ورک موجود ہے، جو کسی بھی وقت وار کر سکتا ہے۔
اس جیو پولیٹیکل بساط کا سب سے دل چسپ اور پیچیدہ پہلو وہ تضاد ہے، جسے ‘بارڈر مینجمنٹ کا المیہ’ کہا جا سکتا ہے۔
پاکستانی فوج نے گزشتہ برسوں میں کھربوں روپوں کی لاگت سے پاک افغان سرحد پر ایک طویل اور مضبوط باڑ لگائی ہے، جدید ترین الیکٹرانک نگرانی کے نظام نصب کیے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں باقاعدہ عسکری قوت تعینات کر رکھی ہے۔ اس سخت ترین مانیٹرنگ کے تناظر میں اب علاقائی طاقتوں کے سامنے ایک تزویراتی تضاد آ کھڑا ہوا ہے۔
اگر پاکستان کا یہ دعویٰ تسلیم کیا جائے کہ داعش اب بھی افغانستان سے آپریٹ کر کے پاکستان میں اتنے بڑے اور منظم حملے کر رہی ہے تو یہ کھربوں روپوں کی لاگت سے بنے سرحدی حفاظتی ڈھانچے، باڑ اور پاکستانی فوج کی پروفیشنل صلاحیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
کیوں کہ اتنی سخت ناکہ بندی کے باوجود اگر داعش کے دہشت گرد مبینہ طور پر ڈیورنڈ لائن پار کر رہے ہیں تو یہ پاکستانی فوج کی عسکری نااہلی سے زیادہ سنگین طور پر یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس افغانستان کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے بجائے خود داعش کو خلا مہیا کر رہی ہے۔
اس کے برعکس اگر پاکستانی فوج کی جانب سے بارڈر مینجمنٹ کو ناقابلِ تسخیر تسلیم کر لیا جائے تو پھر امارتِ اسلامیہ کا موقف خود بخود سچ ثابت ہو جاتا ہے کہ داعش کے فکری، مالیاتی اور آپریشنل مراکز پاکستان کے اپنے اندرونی علاقوں… یعنی خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے طول و عرض میں موجود ہیں اور انہیں سرحد پار سے کسی مدد کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ اُسے یہ تمام سہولت بجائے خود پاکستانی فوج کی جانب سے ملی بھگت کی صورت میں مل رہی ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بیانیے کی اس جنگ کو سب سے زیادہ گہرائی سے بیجنگ اور ماسکو مانیٹر کر رہے ہیں۔
چین جیسے بڑے علاقائی کھلاڑی کے لیے خطے میں سکیورٹی کا مسئلہ کوئی نظریاتی یا جذباتی معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ خالصتاً ‘نتیجہ خیز اور عملی سکیورٹی’ کا خواہاں ہے، تاکہ سی پیک (CPEC) اور افغانستان میں کان کنی کے اربوں ڈالر کے طویل المیعاد معاشی منصوبوں کو تحفظ دیا جا سکے۔
جب کابل انتظامیہ یہ دکھاتی ہے کہ اس نے اپنے ملک کے اندر داعش کا نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی وہ پاکستان کے اندر موجود خلا کی نشان دہی کرتی ہے تو بیجنگ کا جھکاؤ رفتہ رفتہ اس سوچ کی طرف بڑھنے لگتا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار الزام تراشی کے بجائے اپنے اندرونی سکیورٹی خلا (Security Vacuum) کو خود پُر کرنا چاہیے اور یہی دراصل امارتِ اسلامیہ کا پاکستان میں بدامنی کے حوالے سے موقف ہے۔
امارتِ اسلامیہ نے اپنی انٹیلی جنس اور انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے اقداماً نہیں، بلکہ ردعمل میں پاکستان کی روایتی سکیورٹی پالیسی کو اُسی کے خلاف ایک ایسی شطرنج کی چال میں بدل دیا ہے، جہاں راولپنڈی کے ماتحت اسلام آباد کے پاس بچاؤ کے راستے انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔
یوں کہ اگر پاکستانی فوج اپنی سرحدی حفاظت اور عسکری صلاحیت کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے داعش کی اندرونی موجودگی اور مقامی نیٹ ورک کا جواب دینا پڑتا ہے۔ اور اگر وہ داعش کو افغانستان سے درآمد قرار دینے پر اصرار کرتا ہے تو اُسے اپنی کھربوں روپوں کی بارڈر مینجمنٹ کی ناکامی تسلیم کرنا پڑتی ہے۔
یوں داعش پاکستانی فوج کے لیے ایسی ہڈی بن چکی ہے، جسے وہ نہ نگل سکتی ہے اور نہ ہی اُگل سکتی ہے۔
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف جاری یہ پوشیدہ اور اعصاب شکن جنگ اب محض روایتی سرحدی جھڑپوں کا نام نہیں… بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی، گہری انٹیلی جنس رسائی اور تزویراتی بیانیوں کا ایک ایسا جال بن چکی ہے، جس نے پورے خطے کے جیو پولیٹیکل مستقبل کو ایک انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
اور اس سب کا سبب پاکستانی فوج کی وہ نااہلی ہے، جس نے امارتِ اسلامیہ سے مار کھا کر بھاگنے والی داعش کو افغانستان کے خلاف مہرہ بنانے کے لیے اپنے ہاں پناہ دی تھی…
تاریخ کا مُنصفانہ انتقام دیکھیے کہ پاکستانی فوج نے جو مہرہ امارتِ اسلامیہ کے خلاف پالا تھا، آج وہی مہرہ بجائے خود اسی فوج کے گلے کا طوق بن چکا ہے۔



















































