28 جون 2026ء کو پاکستانی فوجی رجیم نے ایک بار پھر افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرضی سرحد کے قریب واقع علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ ایک "ٹارگٹڈ آپریشن” تھا، جس میں 29 "دہشت گرد” مارے گئے۔ تاہم افغانستان کے ذمہ دار حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں درجنوں بے گناہ شہری، بالخصوص خواتین اور بچے، جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ پاکستانی فوج کی غلط پالیسیوں اور پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ایک اور واضح مثال ہے۔
پاکستانی فوج اور اس کے سرکاری ترجمان آئی ایس پی آر (ISPR) مسلسل اپنی ناکامیوں کا الزام افغانستان اور بیرونی عناصر پر عائد کرتے رہے ہیں۔ کراچی میں پاکستان کے نیم فوجی دستے رینجرز کے مرکز پر ہونے والے حملے، جس میں رینجرز کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے، کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی۔
یہ حملہ پاکستان کی سرزمین پر ہوا اور اس کی ذمہ داری بھی ایک پاکستانی جہادی تنظیم نے قبول کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم پاکستان ہی میں سرگرم ہے اور پاکستانی سرزمین سے کارروائیاں کرتی ہے۔ یہ لوگ فوج کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ فوجی رجیم کے جبر، ظلم اور قبائلی علاقوں کو دانستہ طور پر غیر محفوظ بنانے کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج اور آئی ایس پی آر ہمیشہ یہی دعویٰ دہراتے ہیں کہ ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) افغانستان میں موجود ہے اور افغانستان اسے "محفوظ پناہ گاہ” فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک بڑا جھوٹ ہے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کا اپنا داخلی مسئلہ ہے۔ یہ تحریک پاکستان ہی میں وجود میں آئی، اسی ماحول میں پروان چڑھی اور پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی گزشتہ ناکام حکمت عملیوں کے نتیجے میں مضبوط ہوئی۔
اب جبکہ یہ تحریک پاکستان کے اندر تشدد میں اضافہ کر رہی ہے تو فوج اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال رہی ہے۔ اپنے داخلی سلامتی کے نقائص دور کرنے کے بجائے وہ سارا الزام افغانستان پر عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور فرضی سرحد سے ملحقہ علاقوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
افغانستان اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے سختی کے ساتھ روکتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان ہمیشہ "دہشت گردی” کو بہانہ بنا کر افغانستان میں فوجی مداخلت کرتا ہے، ڈیورنڈ لائن کے قریب واقع علاقوں کو غیر محفوظ بناتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس نوعیت کے حملے نہ صرف شہری جانی نقصان میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کی فکر کرے۔ اپنے ملک میں ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح تنظیموں کی موجودگی اور ان کے معاون نیٹ ورک کا جائزہ لے۔ ان پالیسیوں پر نظرثانی کرے جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ایسے گروہوں کو جنم دیا۔ افغانستان کی طرف انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے داخلی سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام کی کمزوریوں کو دور کرے۔ پاکستانی فوج کی یہ نام نہاد "جوابی کارروائیاں” درحقیقت بے گناہ افغان شہریوں کے خلاف ایک سنگین جنگی جرم ہیں۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ پاکستانی فوج کی اس جارحیت کی سختی سے مذمت کرے اور اسلام آباد کو واضح پیغام دے کہ اپنی داخلی مشکلات کا حل پڑوسی ملک میں تلاش نہ کرے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی پاکستان ہی میں نکالا جانا چاہیے، نہ کہ افغانستان کی سرزمین پر اندھا دھند بمباری کر کے۔ یہ فوجی قیادت کی کھلی ناکامی ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کا امن برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے بجائے پڑوسی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن اور تعاون اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور افغانستان کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرے۔
اس کے علاوہ پاکستان ایک ہی وقت میں سابق کٹھ پتلی انتظامیہ کے بدنام زمانہ اربکیوں کو بلوچستان میں پناہ دیے ہوئے ہے، جہاں انہیں انٹیلی جنس کارڈ، اسلحہ اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں اس نے داعش کے دہشت گرد گروہ کی تربیت، پناہ گاہوں اور لاجسٹک معاونت کے لیے مراکز بھی فعال کر رکھے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل المرصاد نے محمد اقبال نامی ایک داعشی کا اعترافی بیان شائع کیا تھا، جس میں اس نے بتایا کہ وہ قبائلی علاقوں میں داعش اور پاکستانی فوج کے درمیان روابط اور رابطہ چینلز کو جوڑنے کا کام کرتا تھا۔ اس نے اپنے اعتراف میں کہا کہ پاکستانی فوج داعش کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کرنے اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔




















































