انسانی نفسیات کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی شخص اپنی کمزوری یا ناکامی کا سامنا کرنے سے قاصر ہوتا یا کرنا ہی نہیں چاہتا تو وہ اپنے غصے اور مایوسی کا رُخ کسی ایسے فریق کی طرف موڑ دیتا ہے، جس کے بارے اس کا گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
نفسیات کی زبان میں اسے ‘جذبات کی منتقلی (Displacement) یا عام فہم انداز میں کک دی ڈاگ(Kick the Dog) کا نام دیا جاتا ہے، جہاں دفتر میں باس سے ڈانٹ کھانے والا ملازم گھر آ کر اپنی بھڑاس معصوم بچوں پر نکالتا ہے۔
افسوس کہ جب یہی نفسیات ریاستوں کے سکیورٹی ڈھانچے اور خارجہ پالیسی پر حاوی ہو جائے تو یہ محض ایک اخلاقی پستی نہیں رہتی… بلکہ ایک ایسی تزویراتی دلدل بن جاتی ہے، جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج پاکستان کا فوجی بیانیہ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اس کا رویّہ اسی نادان نفسیاتی اور سیاسی تضاد کی ایک کلاسیکی اور بھیانک مثال بن چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر کے قلب میں واقع رینجر ہیڈکوارٹر پر مبینہ طور پر پاکستانی تنظیم ‘جماعت الاحرار’ کی جانب سے ہونے والا عسکری حملہ اور اس کے بعد کا پورا منظرنامہ پاکستانی فوج کے اس تضاد کو پوری طرح عیاں کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق محض سات سے نو حملہ آوروں نے رینجرز کے اتنے بڑے مرکز کو نشانہ بنایا، جس میں آزاد ذرائع کے مطابق رینجرز کے دو درجن سے زیادہ کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔
اب ایک عام اور منطقی ذہن تو یہ سوال اٹھائے گا کہ یہ حملہ آور کہاں سے آئے؟ ان کا روٹ کیا تھا؟
لیکن پاکستانی ریاست اور فوج نے اس اندرونی انٹیلی جنس ناکامی پر غور کرنے کے بجائے چند ہی گھنٹوں میں ایک بیانیہ گھڑ لیا کہ حملہ آوروں میں ایک افغان شہری شامل تھا، جو کچھ دن پہلے ہی سرحد پار کر کے آیا تھا۔
فوج نے اس مبینہ گرفتاری کی ایک نام نہاد ویڈیو بھی جاری کی، مگر یہاں بیانیے کی پہلی اینٹ ہی اُکھڑ گئی۔
ویڈیو میں موجود شخص کا لہجہ، اس کا اسلوب اور زبان کی مخصوص ساخت پشاور اور اس کے گرد و نواح کی پشتو کی گواہی دے رہی تھی، نہ کہ افغانستان کے کسی پختون صوبائی زبان کی…
جاری کی گئی ویڈیو کا یہ لسانیاتی تضاد اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ فوج اپنے بیانیے کو زمینی حقائق کے بجائے مخصوص اسٹرٹیجک مقاصد کے تحت ڈیزائن کر رہی ہے۔
اس منظرنامے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو پاکستانی انٹیلی جنس کی وہ ‘سلیکٹو کارکردگی’ ہے، جو عقل کو نادان کہنے کے مترادف ہے۔
ایک طرف پاکستانی ریاست اور فوج کا دعویٰ ہے کہ چترال سے قندھار تک کی پوری سرحد پر اربوں روپوں کی لاگت سے باڑ لگائی جا چکی ہے، جدید ترین بائیومیٹرک اور تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی نصب ہے۔
اس کے باوجود جب عسکریت پسند باجوڑ سے نکل کر خیبر پختونخوا اور پنجاب یا بلوچستان کے راستے پندرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلحے سمیت کراچی پہنچ جاتے ہیں تو پاکستانی انٹیلی جنس کا نظام خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہے…
مگر جیسے ہی کراچی میں دھماکہ ہوتا ہے، یہی نظام چند گھنٹوں میں اچانک بیدار ہوتا ہے اور اسے نہ صرف یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس حملے کے ذرائع کہاں موجود ہیں، بلکہ وہ راتوں رات افغانستان کے تین مختلف صوبوں… کنڑ، پکتیا اور پکتیکا میں مبینہ ٹھکانوں کی نشان دہی کر کے وہاں فضائی بمباری بھی کر دیتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو نظام اپنی حدود کے اندر پندرہ سو کلومیٹر تک عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر اندھا بنا رہتا ہے، وہ دوسرے ملک کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں اتنا قطعی اور تیز رفتار کیسے ہو جاتا ہے؟
پاکستانی فوج کا یہ تضاد دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ سرحد پار کی جانے والی کارروائی کوئی فوری انٹیلی جنس کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ یہ اپنی ناکامی چھپانے کا ایک بہانہ ہے، جس کا مقصد کسی مبینہ عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ پاکستان میں ہی اُٹھنے والے عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنا اور اپنی ناکامی کا ملبہ پڑوسی پر ڈالنا تھا۔
اس پورے کھیل میں پاکستانی میڈیا اور نام نہاد تھنک ٹینکس نے بھی وہی روایتی کردار ادا کیا، جس کی فوجی بندوق سے ڈرے ہوئے کرداروں سے سے توقع کی جاتی ہے۔
ان اداروں نے پریس کانفرنسوں کے سرکاری بیانیے کو جوں کا توں قبول کر کے افغانستان کے خلاف ایک مصنوعی جنگی ماحول تیار کر دیا اور بظاہر سنجیدہ سمجھے جانے والے ان تھنک ٹینکس کے کسی ایک پلیٹ فارم کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ فوج اور انٹیلی جنس حملہ آوروں کے روٹ کنٹرول، بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس کوارڈینیشن پر بنیادی سوالات پوچھے۔
اُلٹا اگر کوئی سنجیدہ طبقہ یہ سوال اُٹھانے کی جرات کرے تو اُسے ہی غدار یا حملہ آوروں کا ہم دَرد قرار دے کر زبان سے خاموش یا زندگی سے فراموش کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے اس ظالمانہ رویّے میں ایک اَور گہرا تضاد ‘طاقت کے توازن’ (Power Asymmetry) کا ہے۔
پاکستان مسلسل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی کارروائیوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس کے سرکردہ رہنما ایران میں پناہ گزین ہیں۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ خود کو بہادر کہلانے والی پاکستانی فوج کبھی بھارت یا ایران کی حدود میں اس طرح کی فضائی دراندازی یا بمباری کرنے کی جرات نہیں کرتی، جیسی وہ افغانستان میں کرتی ہے۔
اس کی وجہ بالکل واضح ہے، یعنی ڈیٹرنس کا خوف…!
پاکستانی فوج کو معلوم ہے کہ بھارت یا ایران کے پاس باقاعدہ فضائیہ اور جدید میزائل سسٹمز موجود ہیں اور پاکستانی فوج کی جانب سے وہاں کی جانے والی کسی بھی مہم جوئی کا جوابی اور فوری عسکری ردعمل ملنا سو فیصد یقینی ہے۔
اس کے برعکس افغانستان چوں کہ اس وقت کسی جدید فضائی دفاعی نظام یا جنگی طیاروں سے لیس نہیں ہے، اس لیے پاکستانی فوج نے یہاں ‘شیر’ بننے اور اسرائیلی طرز پر معصوم شہریوں کے گھروں پر بمباری کر کے اپنی بہادری کا سہرا سجانا آسان سمجھ لیا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اٹھنے والی تمام عسکری اور سیاسی تحریکیں بنیادی طور پر خود ریاست کے اپنے شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، معاشی و سیاسی حقوق کی پامالی اور جبری گمشدگیوں کا ردعمل ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب آپ اپنے ہی شہریوں پر بندوق تانیں گے تو وہاں سے مزاحمت ہی جنم لے گی۔ اگر نیت صاف ہو تو ان مسائل کا حل سیاسی مذاکرات، مخلصانہ ترقی اور حقوق کی فراہمی میں ہے، جس کے بعد عسکریت پسندوں سے اسلحہ واپس لے کر انہیں قومی دھارے میں لایا جا سکتا ہے۔ جب اندرونی خلا پر ہو جائے گا تو کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
تاہم پاکستانی فوج کی طرف سے ایسا سنجیدہ اقدام اس لیے نہیں کیا جاتا، کیوں کہ پاکستانی فوج نے ملک میں موجود اندرونی شورش کو ایک سکیورٹی چیلنج سے زیادہ ایک ‘وار اکانومی’ (جنگی معیشت) بنا لیا ہے۔
جب تک پاکستان میں ایک فرضی یا حقیقی خطرہ موجود رہے گا، تب تک فوج کے نام نہاد دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافے، اشرافیہ کی آسائشوں اور ملکی سیاست و معیشت پر اپنے غیر آئینی کنٹرول کو برقرار رکھنے کا جواز موجود رہے گا۔
البتہ تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ ظلم اور تضادات کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ افغانستان وہ سرزمین ہے، جس نے مادی وسائل کی کمی کے باوجود اللہ تعالی پر بھروسے کے ساتھ سوویت یونین اور امریکا جیسی عالمی سپر پاورز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی اشرافیہ اگر اپنی ناکامیوں کا ملبہ مستقل طور پر افغان عوام پر گرانے اور یہاں کی معصوم جانوں کا خون بہانے کی روش تبدیل نہیں کرتی تو وہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف اپنے لیے ایک ایسی مستقل نفرت اور ردعمل کی فصل بَو رہی ہے، جو کسی دن پاکستانی فوج کے پورے داخلی سکیورٹی ڈھانچے کو اُس دلدل میں دھکیل دے گی، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پڑوسی کی دیوار پر پتھر مارنے اور قربانی کے بکرے تلاش کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکا جائے اور اپنی اندرونی خامیوں کی اصلاح کی جائے۔




















































