سیاست میں بعض اوقات ایسے مراحل بھی آتے ہیں جب کسی ملک کی پرانی حکمتِ عملی پر اصرار، اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے بجائے، اس کے لیے مزید مشکلات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ آج پاکستان بھی ایسے ہی ایک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خطے کی سکیورٹی صورتحال بدل چکی ہے، طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے، اور وہ پالیسیاں جنہیں کبھی اس کے اسٹریٹجک مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب خود پاکستان کے لیے اسٹریٹجک خطرات کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔
اگر اسلام آباد اب بھی کابل کے ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کے بجائے فوجی دباؤ، بمباری اور سکیورٹی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ جنگ کی قیمت اور اس کے نقصانات اب پہلے کی طرح یک طرفہ نہیں رہے۔ کسی بھی فوجی کشیدگی کے نتیجے میں نہ صرف سرحدوں کی سکیورٹی متاثر ہوگی بلکہ پاکستان کی معیشت، داخلی استحکام، بین الاقوامی ساکھ اور علاقائی حیثیت کو بھی انتہائی سنگین آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمسایہ ملک کے خلاف ہر قسم کی دھمکی، فوجی کارروائی، پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں یا سکیورٹی دباؤ کی پالیسی کا تسلسل باہمی اعتماد کی فضا کو مزید خراب کرتا ہے اور جوابی اقدامات کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا ایسی پالیسی پر قائم رہنا درحقیقت مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید پیچیدہ اور وسیع کرنے کے مترادف ہے۔
اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو فوجی تصادم اور ایک وسیع جنگ کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کابل کے مقابلے میں اسلام آباد کو کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا اور اسے بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہوگا۔ پاکستان پر داخلی سکیورٹی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا، اس کا دفاعی بجٹ اور عسکری اخراجات بڑھیں گے، سرمایہ کاری، تجارت اور پیداوار کو شدید نقصان پہنچے گا، سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال بری طرح متاثر ہو کر کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے، بین الاقوامی سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوگا، ٹرانزٹ اور علاقائی منصوبوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو جائے گا، جبکہ معاشی مشکلات سماجی دباؤ کی صورت اختیار کر لیں گی۔
کابل کے مقابلے میں اسلام آباد کو زیادہ نقصان پہنچنے کی کئی وجوہات ہیں۔ افغانستان کا ڈھانچہ پاکستان جیسا نہیں، نہ کابل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں جن کی حفاظت کے لیے سیاسی اور سکیورٹی استحکام برقرار رکھنے کی خاطر بھاری قیمت چکانی پڑے، اور نہ ہی افغانستان میں پاکستان جیسی بڑی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاریاں موجود ہیں جن کی تباہی سے پورا ملکی نظام مفلوج ہو جائے۔ اس کے علاوہ بھی درجنوں ایسے عوامل موجود ہیں جن کی بنا پر کسی وسیع جنگ کی صورت میں اسلام آباد، کابل کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان اور خسارے سے دوچار ہوگا۔ لہٰذا یہ ایسے نقصانات ہیں جن سے کوئی بھی باشعور اور ذمہ دار قیادت محض کسی عارضی مقصد کے حصول کے لیے اپنے ملک اور قوم کو دوچار کرنا نہیں چاہے گی۔
دوسری جانب، اگر جنگ چھڑتی ہے تو پورا خطہ بھی انسانی اور معاشی نقصانات سے محفوظ نہیں رہ سکتا، کیونکہ جنگ سب کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اور اس میں خطے کے استحکام کا کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہر قسم کی کشیدگی کا سب سے دانشمندانہ اور ذمہ دارانہ حل مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی سکیورٹی کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی فوجی رجیم کے پاس اب بھی انتخاب کا موقع موجود ہے۔ یا تو وہ ماضی کے تجربات کو دہرانے کے بجائے باہمی احترام، حسنِ ہمسائیگی اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے، یا پھر ایسی پالیسی پر قائم رہے جس کے نتائج مزید سنگین سکیورٹی، معاشی اور سیاسی اخراجات کی صورت میں خود اسی کے سامنے آئیں گے۔ خطے کا مستقبل بمباری، دباؤ اور پراکسی رقابتوں سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، متقابل احترام اور ذمہ دارانہ سیاست سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سکیورٹی، بین الاقوامی ساکھ اور علاقائی کردار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کرے، کل نہیں بلکہ آج۔




































