پاکستانی فوجی رجیم ان دنوں پہلے سے کہیں زیادہ اپنے داخلی بحرانوں کی گہری دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ معاشی بدحالی، عوامی بے چینی، فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ، اور ملک کے مختلف علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلح مخالف گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ رجیم شدید مشکلات اور عدم استحکام سے دوچار ہے۔
پاکستانی فوج، جو کئی دہائیوں سے خود کو اس ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضامن قرار دیتی رہی ہے، آج مخالف گروہوں کے حملوں اور عوامی احتجاج کی وسیع لہر کا سامنا کر رہی ہے، حتیٰ کہ داخلی حالات پر اس کی گرفت بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی رجیم کو عوامی دباؤ کم کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنی ناکامیوں کا رخ اپنے مغربی ہمسائے کی طرف موڑ دے اور افغانستان کے بے دفاع عوام، بالخصوص فرضی سرحد کے قریب آباد بے گناہ شہریوں کے خلاف جارحیت اور جرائم کا ارتکاب کرکے اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جو آج اسلام آباد کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، درحقیقت پاکستانی رجیم کی انہی غلط اور ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو اس نے برسوں تک اپنے ہی عوام پر نافذ کیے رکھیں۔ یہ گروہ افغانستان سے درآمد شدہ کوئی مظہر نہیں، بلکہ ان فوجی کارروائیوں، ناانصافیوں اور مظالم کی پیداوار ہے جو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور وہاں کے عوام پر مسلط کیے گئے۔
اگر آج ٹی ٹی پی پاکستانی رجیم کے خلاف برسرِپیکار ہے تو یہ فوج اور اسلام آباد حکومت کے انہی ظالمانہ اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے جو انہوں نے اپنے ہی عوام کے خلاف کیے۔ آخر ان لوگوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ جو دہائیوں تک فوجی حکمرانی کے دباؤ اور جبر کا شکار رہے، وہ خاموش رہیں؟ پاکستانی رجیم، جس نے ایک طرف خطے میں مسلح گروہوں کی سرپرستی کی اور دوسری طرف اپنے ہی عوام کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، درحقیقت بغاوت کے بیج خود اپنی سرزمین میں بو چکا ہے۔
پاکستان کی فاسد اور ناکام رجیم کو اس داخلی طوفان سے نکلنے کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ اپنی ناکامیوں کا رخ افغانستان کی طرف موڑ دے۔ وہ فضائی اور توپ خانے کے حملوں کے ذریعے فرضی سرحد کے قریب واقع افغان علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے تاکہ ایک طرف اپنے عوام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مشتعل رکھ سکے اور دوسری طرف ٹی ٹی پی کے مقابلے میں اپنی بے بسی کو طاقت کے مظاہرے سے چھپانے کی کوشش کرے۔ یہ وہی پرانا اور فرسودہ حربہ ہے جسے تاریخ میں کمزور اور ناکام رجیم بارہا آزماتی رہی ہیں۔ اپنے داخلی بحرانوں کا حل تلاش کرنے کے بجائے وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ پڑوسی ممالک کے مظلوم عوام پر ڈال دیتی ہیں اور افغان بچوں اور کسانوں کے خون سے اپنی داغدار ساکھ کو دھونے کی کوشش کرتی ہیں۔
تاہم سب سے اہم حقیقت، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مخالف گروہوں کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ گروہ پاکستان ہی کی سرزمین پر وجود میں آئے ہیں اور ان کی جڑیں اسی ملک کے داخلی مسائل میں پیوست ہیں۔ امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان نے نہ صرف کبھی ان گروہوں کے ساتھ تعاون نہیں کیا بلکہ متعدد بار واضح اعلان کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امارت اسلامیہ کے ترجمان نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے: "افغانستان کا پاکستان کے داخلی مسائل سے کوئی تعلق نہیں اور اپنی مشکلات کا حل تلاش کرنا پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔” چنانچہ پاکستانی رجیم کے افغانستان پر حملے محض اپنی نااہلی اور کمزوری پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہیں، جن کی نہ کوئی قانونی، نہ انسانی اور نہ ہی اسلامی حیثیت ہے۔
پاکستان کے داخلی بحران اس حد تک شدت اختیار کر چکے ہیں کہ اس ملک کی فوج روز بروز اپنی مؤثر قوت کھوتی جا رہی ہے۔ مخالف گروہ وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد حکومت ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ ایسے انتشار کے ماحول میں پاکستانی رجیم دانش مندی اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے ہمسایوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہی ہے۔ لیکن یہ نقاب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا اور افغانستان کا مظلوم عوام ان ظالمانہ جارحیتوں پر ہمیشہ خاموش نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور ظالموں اور فساد پھیلانے والوں کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستانی رجیم اب بخوبی سمجھ چکی ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر اٹھنے والا طوفان، افغانستان سے منسوب ہر فرضی خطرے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ وہ ہر نئے حملے کے ساتھ نہ صرف اپنے داخلی زخموں کو مزید گہرا کر رہی ہے بلکہ افغانستان کے عوام کی نفرت اور غصے میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔ یہ وہی رجیم ہے جو کبھی خود کو خطے کی صورتحال کا ایک ماہر کھلاڑی سمجھتی تھا، مگر آج اپنی بے بنیاد اور مجرمانہ پالیسیوں کے ایسے گرداب میں پھنس چکی ہے کہ اس سے نکلنے کا واحد راستہ اس کی سوچ اور طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی ہے۔
لیکن اس دن تک افغان بچوں اور کسانوں کا پاک خون تاریخ کی تاریکیوں میں ایک روشن چراغ کی مانند اس رجیم کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے اسے زوال اور رسوائی کی ایک عبرتناک مثال کے طور پر پیش کرتا رہے گا۔ کیونکہ وہ نظام جو برداشت، رواداری اور انسانیت سے خالی ہو، وہ اپنی تباہی سے بھی سبق حاصل نہیں کرتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے پاکستانی رجیم نے ہر ممکن کوشش کے باوجود چھپانے کی کوشش کی، مگر اس کے اعمال تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو چکے ہیں۔




















































