اتوار, جولائی 5, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر غور کرے

    وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر غور کرے

    افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں

    افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں

    داخلی بحران کے سائے میں بیرونی جرم!

    داخلی بحران کے سائے میں بیرونی جرم!

    فوجی حلقے اپنے جھوٹے دعوؤں کا ثبوت بے گناہ شہریوں پر بمباری میں تلاش کرتے ہیں

    فوجی حلقے اپنے جھوٹے دعوؤں کا ثبوت بے گناہ شہریوں پر بمباری میں تلاش کرتے ہیں

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

    وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر غور کرے

    وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر غور کرے

    افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں

    افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں

    داخلی بحران کے سائے میں بیرونی جرم!

    داخلی بحران کے سائے میں بیرونی جرم!

    فوجی حلقے اپنے جھوٹے دعوؤں کا ثبوت بے گناہ شہریوں پر بمباری میں تلاش کرتے ہیں

    فوجی حلقے اپنے جھوٹے دعوؤں کا ثبوت بے گناہ شہریوں پر بمباری میں تلاش کرتے ہیں

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

اکبر جمال

پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک
Share on FacebookShare on Twitter

سیاسی تاریخ کا ایک تلخ ترین المیہ یہ ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں اخلاقی جرائم اکثر تزویراتی تمغوں میں بدل دیے جاتے ہیں اور جو قدم قانون کی کتابوں میں سخت ترین سزا کا حق دار ہوتا ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ کے شطرنج پر ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔

جب ہم ستمبر 1970ء میں اُردن کی دھرتی پر لڑی جانے والی خون ریز خانہ جنگی یعنی ‘بلیک ستمبر’ کے اوراق پلٹتے اور اس کا موازنہ معاصر پاکستانی تزویراتی منظرنامے سے کرتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا غیر تحریری ضابطہ اور تسلسل نظر آتا ہے، جہاں ‘ریاست کی رٹ’ اور ‘ادارہ جاتی تحفظ’ کے نام پر فرد کے فیصلوں کو قانون سے بالاتر کر دیا جاتا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک پچاس سال پرانے واقعے کی نہیں… بلکہ ایک مخصوص فوجی کلچر کی ہے، جو آج بھی اسی تال پر رقصاں ہے۔

اس جیسی دیگر تحاریر

پاکستانی فوج کی تزویراتی مصلحت اور تاریخ کے خونی موڑ بلیک ستمبر سے عصرِ حاضر تک

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر غور کرے

افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں

اس داستان کا آغاز 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ سے ہوتا ہے… جہاں مصر، شام اور اردن کی افواج کو اسرائیل کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ کوئی ناگہانی آفت نہیں تھی، بلکہ عرب حکمرانوں کی تزویراتی نااہلی، انٹیلی جنس کی فاش غفلت، باہمی بے اعتمادی اور قرآنی ہدایات کے برعکس عسکری تیاریوں کے فقدان کا منطقی نتیجہ تھا۔

اس جنگ کے نتیجے میں جب بیت المقدس اور مغربی کنارہ مسلم امہ کے ہاتھ سے نکل گئے تو لاکھوں فلسطینی اپنے ہی وطن میں دربدر ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
عرب حکومتوں کی اس تاریخی نااہلی نے فلسطینیوں کے اندر یہ شدید احساس پیدا کیا کہ ‘اگر انہوں نے خود ہتھیار نہ اٹھائے تو ان کا وجود ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔’

یہی وہ مایوسی تھی، جس نے یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم (PLO) کو جنم دیا، جنہوں نے اردن کی سرزمین کو اسرائیل کے خلاف آخری مورچے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردن کے اندر فلسطینیوں کی طرف سے غیر ارادی طور پر اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری سرگرمیوں کی وجہ سے ‘ریاست کے اندر ریاست’ قائم ہوتی دکھائی دینے لگی۔
وہ مبینہ طور پر اردنی قوانین کو خاطر میں نہ لاتے اور ان کے اقدامات کی وجہ سے اردن نے یہ سمجھ لیا کہ ان فلسطینیوں کی وجہ سے اُس کی اپنی خودمختاری داؤ پر لگ گئی ہے۔
ستمبر 1970ء کے اوائل میں جب ایک فلسطینی دھڑے PFLP نے کئی بین الاقوامی مسافر طیاروں کو ہائی جیک کر کے اردن کے صحرا میں اُتارا اور انہیں دھماکے سے اڑا دیا تو اُردنی شاہ حسین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
انہوں نے اسے اپنے تخت اور بقا کا چیلنج سمجھا اور فلسطینیوں کے خلاف ایک بھرپور اور بے رحمانہ فوجی آپریشن کا حکم دے دیا، جسے تاریخ ‘بلیک ستمبر’ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
اس خونی موڑ پر بعد ازاں پاکستان کے صدر بننے والے ایک بریگیڈیئر محمد ضیاء الحق منظرنامے پر سامنے آئے۔
وہ 1967ء سے ایک باقاعدہ اور اعلانیہ سرکاری عسکری مشن کے تحت اردنی فوج کو ٹریننگ دینے کے لیے وہاں تعینات تھے، جس کا مقصد 1967ء میں اسرائیل سے ہونے والی شکست کے بعد اردنی فوج کی تنظیمِ نَو اور گوریلا جنگ کی تربیت تھا۔

تاہم جب اردنی فوج اور پناہ گزین فلسطینیوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی تو پاکستانی بریگیڈیئر ضیاء الحق نے رسمی بین الاقوامی قوانین اور حکومتِ پاکستان کے طے شدہ مینڈیٹ سے صریح تجاوز کرتے ہوئے اردنی فوج کی تزویراتی اور آپریشنل کمانڈ سنبھال لی۔
ضیاء الحق کے زیرِ نگرانی فلسطینی کیمپوں پر وہ وحشیانہ بمباری اور فوجی کارروائی کی گئی، جس میں یاسر عرفات کے مطابق دس ہزار (10,000) سے پچیس ہزار (25,000) فلسطینی شہید ہوئے۔

یہ کارروائی اتنی شدید تھی کہ جب بریگیڈیئر ضیاء الحق پاکستان واپس پہنچے تو اس وقت کے کمانڈر اِن چیف جنرل گل حسن نے حکومت کی اجازت کے بغیر ایک دوسرے ملک کی داخلی جنگ میں حصہ لینے پر ضیاء الحق کے کورٹ مارشل کی سفارش کی…
مگر یہاں تاریخ نے ایک عجیب پلٹا کھایا۔ قانون کی نظر میں جس شخص کو سزا ملنی چاہیے تھی، شاہِ اردن کی ذاتی سفارش اور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحت پسندانہ سوچ (Realpolitik) نے جنرل ضیاء الحق کے جرم کو ایک غیر معمولی عسکری اثاثہ قرار دے دیا۔

سزا کا وہ پروانہ پھاڑ دیا گیا اور یہ ‘تزویراتی جرم’ ضیاء الحق کی بے پناہ ترقی کا زینہ بن گیا، یہاں تک کہ 1976ء میں پاکستانی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سات سینیئر جنرلز کو بائی پاس کر کے ضیاء الحق کو آرمی چیف بنا دیا اور بھٹو مرحوم کا یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جو خود جنابِ بھٹو کی زندگی کی سب سے بڑی تزویراتی غلطی اور موت کے پھندے کا باعث ثابت ہوا۔

بریگیڈیئر ضیاء الحق کے کورٹ مارشل کا رُک جانا دراصل پاکستانی فوج میں اُس غیر تحریری قانون کی پہلی اینٹ تھی، جو بعد کی دہائیوں میں پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ کا مستقل تنظیمی کلچر بن گئی۔ اس کلچر کے تحت ‘ادارہ جاتی یک جہتی’ کو بیرونی احتساب پر ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔
جب تک کوئی اعلیٰ عسکری افسر ادارے کے بنیادی ‘چین آف کمانڈ’ کے دائرے میں رہتا ہے، اس کی تزویراتی غلطیوں، فاش ناکامیوں یا پالیسی کے تضادات پر عوامی سطح پر کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ انہیں ‘وقت کی ضرورت’ کہہ کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔
اس تزویراتی کلچر اور پالیسیوں کے تضاد کی سب سے بہترین اور جدید ترین مثال ہمیں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تزویراتی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
ایک دور وہ تھا، جب جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے کابل حکومت کے تعاون سے پاکستانی عسکری تنظیم ٹی ٹی پی (TTP) کے ساتھ مذاکرات اور مصالحت کی پالیسی چلا رہے تھے، جس کے تحت قیدی رہا ہوئے اور عسکریت پسندوں کو واپس آباد کیا گیا۔

تاہم جب کمانڈ تبدیل ہوئی تو جنرل عاصم منیر کی قیادت نے جنرل فیض کی پالیسی کو 180 ڈگری پر گھما کر اُسے ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر کا باعث قرار دے دیا۔
تاہم تجزیہ کار جنرل عاصم منیر کی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے بجائے جنگ کی پالیسی کو پاکستانی فوج کی جانب سے روایتی طور پر ‘جنگی معیشت’ کے بقا کی نظر سے دیکھتے ہیں، جو جنرل فیض حمید اور عمران خان کے اکٹھ سے ختم ہوتی دِکھائی دے رہی تھی۔

چناںچہ تجزیہ کاروں کے نزدیک ‘وار اکانومی’ کے تحفظ کی خاطر جنرل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اسٹیبلشمنٹ نے مذاکرات کی پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف زیرو ٹالرنس اور جنگ کا راستہ چنا۔
یہاں دل چسپ اور گہرا نکتہ یہ ہے کہ تزویراتی پالیسی کی اس فاش ناکامی اور تضاد پر عسکری قیادت نے کبھی عوام کو جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔

اسی تناظر میں جب جنرل فیض حمید کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت سنگین تادیبی کارروائی اور گرفتاری عمل میں آئی تو وہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی تزویراتی ناکامی پر نہیں تھی، بلکہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکینڈل (ٹاپ سٹی) میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہونے کے الزامات پر ہوئی۔

پاکستانی فوج کا یہ عملی تضاد اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں سزا یا احتساب کی حدِ فاصل اُس وقت شروع ہوتی ہے، جب کوئی افسر فوجی تنظیمی ڈسپلن کو چیلنج کرے، ادارہ جاتی مجموعی مفادات کے متوازی اپنا کوئی انفرادی ایجنڈا چلانے لگے یا ریٹائرمنٹ کے بعد ریاستی پالیسی کے برعکس سیاسی عمل کا حصہ بن کر مقتدرہ کی روایتی لائن کو کراس کر جائے۔

البتہ جب تک کوئی بھی فوجی افسر فوج کے سیاست پر کنٹرول، وار اکانومی کے تحفظ، پارلیمنٹ کو ہائی جیک کرنے اور امریکی منصوبوں کی ضروری تکمیل جیسے مجموعی مفادات کی لکیر عبور نہیں ہوتی، تب تک بڑے سے بڑے فوجی افسر کا بڑے سے بڑا جرم بھی مصلحت کے پردوں میں چھپا رہتا ہے۔
بلکہ اب تو یہ بھی ممکن ہو گیا ہے کہ اس جرم کو ہی تاحیات قانونی استثناء دے دیا جائے…
چناں چہ بلیک ستمبر 1970ء کے اُردن سے لے کر معاصر پاکستان کے تزویراتی فیصلوں تک کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب ریاستیں اور مقتدرہ عوامی جوابد ہی اور شفافیت کے بجائے ادارہ جاتی استثنا کو اپنا اصول بنا لیتی ہیں تو حق و باطل کی لکیریں دھندلی ہو جاتی ہیں۔

ایک عام شہری یا فلسطینییوں جیسے پناہ گزین کی نظر میں جو ان کے بنیادی حقوق اور بقا کی جنگ ہوتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے (Narrative Building) میں اسے ‘ریاست کی رٹ’ یا ‘داخلی فتنہ’ قرار دے کر کچل دیا جاتا ہے۔
اگر زیادہ ضرورت محسوس ہو تو دربار سے منسلک علماء کو حاصل کر کے خوارج وغیرہ کے فتوے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
شاید یہ آئیڈیا جنرل ضیاء الحق کے پاس نہیں تھا، ورنہ وہ ریاستِ اُردن کے باغی ہونے کے ساتھ ساتھ خوارج بھی قرار دیے جا سکتے تھے…

طاقت کا یہ کھیل شاید عارضی طور پر سلطنتوں اور اداروں کو تو بچا لیتا ہو، لیکن تاریخ کے کٹہرے میں یہ سوال ہمیشہ قائم رہتا ہے کہ تزویراتی کامیابیوں کی قیمت آخر کب تک عام انسانوں کے خون اور دربدری سے چکائی جاتی رہے گی؟

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

امارت اسلامیہ کے خلاف داعشی خوارج کے پروپیگنڈے اوراعتراضات کا شرعی جائزہ | چودہویں قسط
علمی تحریرات

امارت اسلامیہ کے خلاف داعشی خوارج کے پروپیگنڈے اوراعتراضات کا شرعی جائزہ | چودہویں قسط

دسمبر 28, 2024
خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! سینتالیسویں قسط
تبصرے و تحریرات

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! سینتالیسویں قسط

اگست 24, 2025
اندلس کی عید
جہادی تحریرات

اندلس کی عید

اپریل 15, 2024
داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک!  آٹھویں قسط
تبصرے و تحریرات

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! آٹھویں قسط

اگست 17, 2025
داعش؛ اسلامی خلافت کے معمار یا اس کے مٹانے والے |  تیسری اور آخری قسط
تبصرے و تحریرات

داعش؛ اسلامی خلافت کے معمار یا اس کے مٹانے والے | تیسری اور آخری قسط

اکتوبر 14, 2025
امارت اسلامی افغانستان کی خودمختار خارجہ پالیسی، ایک نئے باب کا آغاز
تبصرے و تحریرات

امارت اسلامی افغانستان کی خودمختار خارجہ پالیسی، ایک نئے باب کا آغاز

جنوری 9, 2025

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • ابطالِ امت
  • اداریہ
  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • تبصرے اور تحریرات
  • خبریں
  • صفحہ اول
  • علماء
  • لائبریری
المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • خبریں
    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
  • ابطالِ امت
  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা

جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔