ایک فکری اور تاریخی انحراف کا خلاصہ
اس سلسلۂ مضامین کے اختتام پر اب ہم علمی اور مستند تجزیوں کی بنیاد پر اس بنیادی سوال کا اعتماد کے ساتھ جواب دے سکتے ہیں کہ داعش کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ جواب بالکل واضح ہے: داعش نہ صرف اسلامی نہیں، بلکہ اسلام سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ اس گروہ نے جس چیز کو "اسلامی خلافت” کے نام سے پیش کیا، وہ درحقیقت ایک سیاسی اور نظریاتی منصوبہ تھا جس میں دین کے مقدس نام کو تشدد، اقتدار کے حصول اور اقتدار پرستی کے جواز کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ خود ساختہ خلافت ہر قسم کی شرعی، اخلاقی اور انسانی مشروعیت سے محروم تھی اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے اس کا واضح اور گہرا تضاد تھا۔ "اسلامی روح سے عاری خلافت” کے اس سلسلۂ مضامین نے واضح کیا کہ یہ منحوس مظہر بے بنیاد نہیں، بلکہ اس کی فکری جڑیں ان گمراہ نظریات میں پیوست ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور اور فرقۂ خوارج تک جا پہنچتی ہیں۔
خوارج وہ پہلا گروہ تھا جس نے مسلمانوں کی تکفیر کرکے تشدد کو مذہبی رنگ دیا اور دین کو اپنے مخالفین کے خاتمے کا ذریعہ بنا لیا۔ داعش نے بھی اسی منحرف فکری منہج کو اختیار کیا، تاہم جدید وسائل کے استعمال اور پہلے سے زیادہ خونریز اور وحشیانہ تشدد کے ذریعے اس راستے کو مزید وسعت دی۔ وہ خود کو اسلام کا واحد حقیقی نمائندہ سمجھتے تھے اور جو بھی ان کے نظریات سے اختلاف کرتا، اسے کافر اور مرتد قرار دیتے اور اس کا خون بہانا جائز سمجھتے تھے۔ یہی خوارج کا وہ تکفیری منطق تھا جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ایک عظیم فتنہ قرار دیتے ہوئے پہلے ہی خبردار فرمایا تھا۔
داعش کے دینی منہج کے جائزے سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اس گروہ نے اپنے جرائم کو جائز ثابت کرنے کے لیے دینی نصوص کو منظم انداز میں مسخ کیا تھا۔ انہوں نے قرآنِ مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو ان کے تاریخی سیاق اور شریعت کے رحمت پر مبنی مقاصد سے الگ کر دیا اور نصوص کی انتخابی اور غلط تشریح کے ذریعے دینِ رحمت کو تشدد کی ایک نظریاتی فکر میں تبدیل کر دیا۔
آیات کا سیاق، شریعت کے مقاصد اور امت کے علماء کا اجماع وہ مسلم اصول ہیں جنہیں داعش نے کھلے عام نظر انداز کیا۔ یہی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ داعش کی فقہ ایک خود ساختہ اور جعلی فقہ تھی, جو لوگوں کی ہدایت کے لیے نہیں، بلکہ انہیں گمراہ کرنے اور دہشت گردی کو جائز ثابت کرنے کے لیے گھڑی گئی تھی۔ وسیع پیمانے پر تکفیر، غلامی کو دوبارہ زندہ کرنے، اجتماعی سزائیں دینے اور ثقافتی ورثے کو تباہ کرنے جیسے اقدامات کا اسلامی فقہ میں کوئی وجود نہیں، بلکہ یہ صرف مخالفین کو کچلنے اور خوف کی حکمرانی قائم کرنے کے ذرائع تھے۔
اخلاقی اعتبار سے بھی داعش اسلام کے بالکل برعکس کھڑی تھی۔ اسلام رحمت، عدل اور عقل پر مبنی دین ہے، جبکہ داعش نے اپنی پالیسی ظلم، فریب اور تکفیر پر قائم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد مکارمِ اخلاق کی تکمیل قرار دیا، لیکن داعش نے تشدد کو فضیلت اور رحمت کو کمزوری سمجھا۔ قرآنِ مجید ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے، مگر داعش نے مساجد، بازاروں اور عوامی مقامات پر دھماکوں، بے گناہ لوگوں کے اجتماعی قتل اور قتلِ عام کے ذریعے اس عظیم حرام کو جہاد کے نام پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔
داعش کا عدالتی نظام بھی انصاف کا ذریعہ نہیں بلکہ قتل کی ایک مشین تھا۔ اسلام میں قضا کا مقصد حق کی فراہمی اور انسان کی عزت و کرامت کا تحفظ ہے، اور اصول یہ ہے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو، ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن داعش کی خونریز عدالتوں میں فیصلہ مقدمے سے پہلے ہی صادر ہو جاتا تھا، اور قاضی کسی عادل فقیہ کے بجائے ایک جلاد ہوتا تھا جو صرف فوجی کمانڈروں کے احکامات پر عمل کرتا تھا۔ انہوں نے ارتداد، نفاق اور فساد کے مفاہیم کو اس قدر وسیع کر دیا کہ ہر مخالف اس کی زد میں آ گیا، پھر اجتماعی پھانسیوں کے ذریعے اسلام کی ایک خوفناک اور مسخ شدہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔
داعش کی معیشت بھی پیداوار اور عدل پر نہیں، بلکہ لوٹ مار، غصب اور بھتہ خوری پر قائم تھی۔ وہ اپنی مالی ضروریات لوگوں کی املاک پر قبضہ کرکے، اسمگل شدہ تیل فروخت کرکے، تاریخی آثار کی اسمگلنگ اور لوگوں سے زبردستی رقم وصول کرکے پوری کرتے تھے، اور اسی ناپاک دولت کو اسلحہ خریدنے اور دہشت گردی کو وسعت دینے پر خرچ کرتے تھے۔ اسلامی معیشت میں جائز ملکیت اور حلال روزی بنیادی اصول ہیں، لیکن داعش نے معیشت کو اپنی مہلک جنگی مشین کی مالی معاونت کا ذریعہ بنا دیا تھا۔
داعش کا ابلاغی جرم شاید اس کے فوجی جرائم سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ انہوں نے پیشہ ورانہ انداز میں بڑی مقدار میں پراپیگنڈہ مواد تیار کرکے تشدد کو مقدس بنا کر پیش کیا اور نوجوانوں کے اذہان کو مسخ کیا۔ اپنی نام نہاد خلافت کی مثالی زندگی کی جعلی تصویریں، پھانسیوں اور تشدد کی ویڈیوز، اور دین کی تحریف شدہ تعبیرات، یہ سب اس لیے تیار کی جاتی تھیں تاکہ عوامی رائے کو گمراہ کیا جائے اور نئے افراد کو اپنی صفوں میں شامل کیا جا سکے۔ اسی پروپیگنڈا مشین نے اسلام کو دنیا کے سامنے ایک پرتشدد اور خونریز مذہب کے طور پر متعارف کرایا اور اس دینِ رحمت کی مقدس تصویر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔
آخر میں، اس سلسلۂ مضامین کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ داعش "اسلامی روح سے عاری خلافت” تھی؛ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس نے اسلام کے نام سے فائدہ اٹھایا، لیکن اسلام کی روح، اس کی اقدار اور اس کے بنیادی اصولوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ گروہ نہ رسول اللہ ﷺ کا حقیقی وارث تھا، نہ خلفائے راشدین کے راستے کا تسلسل، اور نہ ہی اسلامی مسالک میں سے کسی معتبر مسلک کا نمائندہ تھا۔ بلکہ یہ نفرت، تاریخی احساسِ محرومی، دینی جہالت اور اقتدار پرستانہ مقاصد کے مشترکہ اثرات کی پیداوار تھا۔
جو نظام خونریزی، جھوٹ کے فروغ اور خوف کی ترویج پر قائم ہو، وہ خلافت کہلانے کا حق دار نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ موت اور تباہی کی ایک بھیانک صورت ہے۔ حقیقی اسلامی نظام عدل، رحمت، اخلاق اور انسان کی عزت و کرامت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، اور وہ خلافت جو اخلاق سے خالی ہو، اسلام سے بھی خالی ہوتی ہے، خواہ وہ ہزار مرتبہ اپنی زبان پر اسلام کا نام ہی کیوں نہ لائے۔




















































